Urdu Articles
Legal articles in Urdu, covering a range of practice areas relevant to Pakistan.

عدالتِ عظمیٰ کا ابتدائی اختیار سماعت
1۔ عدالت عظمیٰ کو بہ اخراج ہر دیگر عدالت کے کسی دو یا دو سے زیادہ حکومتوں کے درمیان کسی تنازعہ کے سلسلہ میں ابتدائی اختیار سماعت حاصل ہوگا۔ تشریح:۔ اس شق میں "حکومتوں" سے وفاقی حکومت اور صوبائی حکومتیں مراد ہیں۔ 2۔ شق(1) کی رو سے تفویض کردہ اختیار سماعت کے استعمال میں عدالت عظمیٰ صرف استقراری فیصلے صادر کرئے گی۔ 3۔ آرٹیکل 199 کے احکام پر اثرانداز ہوئے بغیر ، عدالت عظمیٰ کو ، اگر وہ یہ سمجھے کہ…

عدالت عظمیٰ کا صدر مقام
1۔ شق (3) کے تابع ، عدالت عظمیٰ کا مستقل صدر مقام اسلام آباد میں ہوگا۔ 2۔ عدالت عظمیٰ کا اجلاس وقتاََ فوقتاََ ایسے دوسرے مقامات پر ہوسکے گا جو چیف جسٹس پاکستان ، صدر کی منظوری سے مقرر کرئے۔ 3۔ جب تک اسلام آباد میں عدالت عظمیٰ کے قیام کا انتظام نہ ہوجائے ، اس عدالت کا صدر مقام ایسے مقام پر ہوگا جو صدر مقرر کرئے۔

ججوں کا وقتی طورپر بغرض خاص تقرر
اگر کسی وقت عدالت عظمیٰ کے ججوں کا کورم پورا نہ ہونے کی وجہ سے اس عدالت کو کوئی اجلاس منعقد کرنا یا جاری رکھنا ممکن نہ رہے، یا کسی دوسری وجہ سے یہ ضروری ہوکہ عدالت عظمیٰ کے ججوں کی تعداد میں عارضی طور پر اضافہ کیا جائے ، تو چیف جسٹس پاکستان، جوڈیشل کمیشن کی مشاورت سے جیسا کہ آرٹیکل 175 الف کی شق (2) میں فراہم کیا گیا ہے۔ تحریری طور پر،ــــــ (الف) صدر کی منظوری سے، کسی ایسے شخص کو جو اس عدالت کے…

قائم مقام جج
1۔ کسی وقت بھی جب ـــــ (الف) عدالت عظمیٰ کے کسی جج کا عہدہ خالی ہو؛ یا (ب) عدالت عظمیٰ کا کوئی جج موجود نہ ہو یا کسی دیگر بناء پر اپنے کارہائے منصبی انجام دینے سے قاصر ہو، تو صدر، آرٹیکل 177 کی شق(1) میں مقررہ طریقے سے ، کسی عدالت عالیہ کے کسی جج کو جو عدالت عظمیٰ کا جج مقرر کئے جانے کا اہل ہو ، عارضی طور پر عدالت عظمیٰ کے جج کے حیثیت سے کام کرنے پر مامور کرسکے گا۔ تشریح:- اس شق میں "کسی عدالت…

قائم مقام چیف جسٹس
کسی وقت بھی جبــــ (الف ) چیف جسٹس پاکستان کا عہدہ خالی ہو؛ یا (ب) چیف جسٹس پاکستان موجود نہ ہو یا کسی دیگر بناء پر اپنے کارہائے منصبی انجام دینے سے قاصر ہو، تو صدر عدالت عظمیٰ کے دوسرے ججوں میں سے مقدم ترین جج کو قائم مقام چیف جسٹس پاکستا ن کی حیثیت سے مقرر کرئے گا۔

فارغ الخدمت ہونے کی عمر
عدالت عظمیٰ کا کوئی جج پینسٹھ سال کی عمر کو پہنچنے تک اپنے عہدہ پر فائز رہے گا، بجزا سکے کہ وہ قبل ازیں مستعفی ہوجائے یا اس دستور کے مطابق عہدہ سے برطرف کر دیا جائے۔

عہدے کا حلف
عہدہ سنبھالنے سے قبل ، چیف جسٹس پاکستان ، صدر کے سامنے اور عدالت عظمیٰ کا کوئی دوسرا جج چیف جسٹس کے سامنے ، اس عبارت میں حلف اٹھائے گا جو جدول سوم میں درج کی گئی ہے۔

عدالت عظمیٰ کے ججوں کا تقرر
1۔ پاکستان کے چیف جسٹس اور عدالت عظمیٰ کے دوسرے ججوں میں سے ہر ایک کا تقرر صدر آرٹیکل 175الف کی مطابقت میں کرئے گا۔ 2۔ کوئی شخص عدالتِ عظمیٰ کا جج مقرر نہیں کیا جائے گا، تاوقتیکہ وہ پاکستان کا شہری نہ ہوا ورــــ (الف) کم از کم پانچ سال تک، یا مختلف اوقات میں اتنی مدت تک جو مجموعی طور پر پانچ سال سے کم نہ ہو کسی عدالت عالیہ کا (جس میں کوئی ایسی عدالت عالیہ شامل ہے جو یوم آغاز سے قبل کسی وقت بھی…

باب2۔ پاکستان کی عدالت عظمیٰ(عدالت عظمیٰ کی تشکیل)
عدالت ِ عظمیٰ ایک چیف جسٹس پر جسے چیف جسٹس پاکستان کہا جائے گا، اور اتنے دیگر ججوں پر مشتمل ہوگی جن کی تعداد مجلسِ شوریٰ (پارلیمنٹ ) کے ایکٹ کے ذریعے متعین کی جائے یا ، اس طرح تعین ہونے تک ، جو صدر مقرر کرئے۔