Urdu Articles
Legal articles in Urdu, covering a range of practice areas relevant to Pakistan.

مالی اقدامات کے لئے وفاقی حکومت کی مرضی ضروری ہوگی
کوئی مالی بل یا کوئی بل یا ترمیم جسے اگر قانونی شکل دی جائے اور اس پر عمل درآمد کیا جائے تو وفاقی مجموعی فنڈ میں سے رقم خرچ کرنی پڑے یا وفاق کے حسابات عامہ میں سے رقم نکلوانی پڑے یا پاکستان کے زر مسکو کہ یا کرنسی یا بینک دولت پاکستان کی تشکیل یا کارہائے منصبی پر اثر انداز ہو، بجز وفاقی حکومت کی طرف سے یا اس کی مرضی سے مجلس شوری (پارلیمنٹ) میں پیش نہیں کی جائے گی اور نہ اس کی تحریک کی جائے گی۔

مالی بلوں کی نسبت طریق کار
1۔ آرٹیکل 70 میں مذکورہ کسی امر کے باوجود کسی مالی بل کی ابتداء قومی اسمبلی میں ہوگی: مگر شرط یہ ہے کہ جب کوئی مالی بل بشمول سالانہ بجٹ کے گوشوارے پر مشتمل مالیاتی بل قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے ، تو اس کے ساتھ ساتھ اس کی نقل سینٹ کو بھیجی جائے گی جو چودہ دن کے اندر ، اس کے بارے میں سفارشات قومی اسمبلی کو دے سکے گی۔ (1۔ الف) قومی اسمبلی سینیٹ کی سفارشات پر غور کرئےگی اور اس کے بعد کہ اسمبلی کی…

مشترکہ اجلاس میں طریق کار
1۔ صدر ، قومی اسمبلی کے اسپیکراور چیئر مین سے مشورے کے بعد ، دونوں ایوانوں کے مشترکہ اجلاس اور باہمی رابطوں کی نسبت ضابطہ کار کے قواعد بناسکے گا۔ 2۔ مشترکہ اجلاس کی صدارت قومی اسمبلی کا اسپیکر یا ، اس کی عدم موجودگی میں ایسا شخص کرئے گا جس کو شق (1) کے تحت وضع شدہ قواعد کی رو سے متعین کی جائے۔ 3۔ شق(1) کے تحت وضع شدہ قواعد کو مشترکہ اجلاس کے سامنے پیش کیا جائے گا اور مشترکہ اجلاس میں ان میں…

حذف کردیا گیا
مصالحت کمیتی دستور (اٹھارویں ترمیم) ایکٹ 2010 (نمبر10 بابت 2010ء ) کی دفعہ 24، کی رو سے حذف کیا گیا جیسا کہ مختلف ترامیم کے ذریعے ترمیم کیا گیا۔

قانون سازی کا طریقہ کار( بل پیش کرنا اور منظور کرنا )
1۔ وفاقی قانون سازی کی فہرست میں کسی امر کے بارے میں کسی بل کی ابتداء کسی بھی ایوان میں ہوسکے گی اور ، اگر اسے وہ ایوان منظور کرئے جس میں اس کی ابتداء ہوئی تھی، تو اسے دوسرے ایوان میں بھیج دیا جائے گا؛ اور اگر دوسرا ایوان بھی اسے ترمیم کے بغیر منظور کرلے، تو اسے منظوری کے لئے صدر کر پیش کردیا جائے گا۔ 2۔ اگر ذیلی شق (1) کے تحت کسی ایوان میں کوئی ارسال کردہ بل ترمیم کے ساتھ منظور کر لیا جائے تو…

عدالتیں مجلسِ شوریٰ (پارلیمنٹ)کی کاروائی کی تحقیقات نہیں کریں گی
1۔ مجلس شوریٰ (پارلیمنٹ)میں کسی بھی کاروائی کے جواز پر ضابطہ کار کی کسی بےقاعدگی کے بناء پر اعتراض نہیں کیا جائے گا۔ 2۔ مجلس شوریٰ (پارلیمنٹ) کا کوئی افسر یا رکن جسے دستور کی رو سے یا اس کے تحت مجلسِ شوریٰ (پارلیمنٹ) میں ضابطہ کار یا انصرام کاروائی کو منضبط کرنے یا نظم برقرار رکھنے کے اختیارات دیئے گئے ہوں ان اختیارات کے استعمال کی نسبت کسی عدالت کے اختیار سماعت کے تابع نہیں ہوگا۔ 3۔ اس آرٹیکل…

مجلسِ شوریٰ (پارلیمنٹ) میں بحث پر پابندی
مجلسِ شوریٰ (پارلیمنٹ ) میں عدالت عظمیٰ یا کسی عدالت ِ عالیہ کے کسی جج کے ، اپنے فرائض کی انجام دہی میں رویے کے بارے میں کوئی بحث نہیں ہوگی۔

عام طریق کار (قواعد ضابطہ کاروغیرہ)
1۔ دستور کے تابع ، کوئی ایوان اپنے ضابطہ کار اور اپنی کاروائی کے انصرام کو منضبط کرنے کے لیے قواعد بناسکے گا اور اسے اس امر کے باوجود کام کرنے کا اختیار ہوگا کہ اس کی رکنیت میں کوئی جگہ خالی ہو، اور ایوان کی کوئی کاروائی اس بنائ پر ناجائز نہیں ہوگی کہ کچھ اشخاص جو ایسا کرنے کا حق نہیں رکھتے تھے ، کاروائی کے دوران بیٹھے ، ووٹ دیئے یا کسی اور صورت میں حصہ لیتے رہے۔ 2۔ شق (1) کے تحت قواعد بننے تک ،…

ارکان وغیرہ کے استحقاقات
1۔ دستور اور مجلس شوریٰ (پارلیمنٹ) کے قواعد ضابطہ کار کےتابع ، مجلس شوریٰ (پارلیمنٹ) میں تقریر کی آ زادی ہوگی اور کوئی رکن مجلس شوریٰ (پارلیمنٹ) میں کی ہوئی اپنی کسی تقریر یا دیئے ہوئے کسی ووٹ کی نسبت کسی عدالت میں کسی قانونی کاروائی کا مستوجب نہیں ہوگا اور کوئی شخص مجلس شوریٰ (پارلیمنٹ) کی طرف سے یا اس کے اختیار کے تحت کسی رپورٹ ، مضمون ، ووٹ یا کاروائی کی اشاعت کی نسبت بایں طور مستوجب نہیں…