قانون سازی کا طریقہ کار( بل پیش کرنا اور منظور کرنا )

1۔ وفاقی قانون سازی کی فہرست میں کسی امر کے بارے میں کسی بل کی ابتداء کسی بھی ایوان میں ہوسکے گی اور ، اگر اسے وہ ایوان منظور کرئے جس میں اس کی ابتداء ہوئی تھی، تو اسے دوسرے ایوان میں بھیج دیا جائے گا؛ اور اگر دوسرا ایوان بھی اسے ترمیم کے بغیر منظور کرلے، تو اسے منظوری کے لئے صدر کر پیش کردیا جائے گا۔
2۔ اگر ذیلی شق (1) کے تحت کسی ایوان میں کوئی ارسال کردہ بل ترمیم کے ساتھ منظور کر لیا جائے تو اس کو واپس اس ایوان میں بھیج دیا جائے گا جس میں اس کی ابتدائ ہوئی تھی اور اگر وہ ایوان ان ترمیمات کے ساتھ منظور کرلے تو اسے منظوری کے لیے صدر کو پیش کردیا جائے گا۔
3۔ اگر شق(1) کے تحت کسی ایوان کو ارسال کردہ کوئی بل مسترد ہوجائے یا اس سے پیش کرنے کے نوے دن کے اندر منظور نہ کیا گیا ہو تو شق (2) کے تحت ایوان کو ترمیمات کے ساتھ ارسال کردہ بل اس ایوان نے مذکورہ ترمیمات کے ساتھ منظور نہ کیا ہو تو ، بل ، اس ایوان میں جس میں اس کی ابتداء ہوئی تھی، کی درخواست پر مشترکہ اجلاس میں زیرِ غور لایا جائے گا اور اگر موجودہ ارکان کی اکثریت رائے سے اور مشترکہ اجلاس میں رائے دہی سے منظور ہوجائے تو اسے منظوری کے لیے صدر کو پیش کردیا جائے گا۔
4۔ اس آرٹیکل اوردستور کے مابعد احکام میں "وفاقی قانون سازی کی فہرست" سے جدول چہارم میں وفاقی سازی کی فہرست مراد ہے۔
Comments
No comments yet. Be the first to share your thoughts.