جدول چہارم۔حصہ دوم(پارٹ-1)

1۔ ریلوے۔
2۔ معدنی تیل اور قدرتی گیس؛ مائعات اور مادے جن کے خطرناک طور پر آتش گیر ہونے کا وفاقی قانون کے ذریعے اعلان کر دیا جائے۔
3۔ صنعتوں کی ترقی ، جبکہ وفاقی قانون کے ذریعے وفاقی نگرانی میں ترقی مفاد عامہ کی خاطر قرین مصلحت قرار دے دی جائے ؛ ایسے ادارے ، کارخانے ، مجالس اور کارپوریشنیں جن کا انتظام یا انصرام یوم آغاز سے عین قبل وفاقی حکومت کرتی تھی ، بشمول پانی اور بجلی کا ترقیاتی ادارہ پاکستان اور صنعتی ترقیاتی کارپوریشن پاکستان؛ مذکورہ ادروں ، کارخانوں ، مجالس اور کارپوریشنون کے تمام منصوبہ جات، پروجیکٹ اور اسکیمیں ، صنعتیں ، پروجیکٹ اور منصوبے جو وفاق کی کی طرف سے قائم کردہ کارپوریشنوں کی کلیتاََ یا جزواََ ملکیت ہوں۔
4۔ بجلی۔
5۔ بڑی بندرگاہیں ، جیسے کہ مذکورہ بندرگاہوں کا اعلان اور حد بندی اور اس بندر گاہ کی ہیئت ہائے مجاز کے اختیارات اور تشکیل۔
6۔ وفاقی قانون کے تحت قائم کردہ تمام انضباطی ہئیت ہائے مجاز۔
7۔ قومی منصوبہ بندی اور قومی معاشی ربط دہی بشمول سائنسی اور تکنیکی ریسرج کی منصوبہ بندی اور ربط دہی کے۔
8۔ سرکاری قرض کی نگرانی اور انصرام۔
9۔ مردم شماری۔
Comments
No comments yet. Be the first to share your thoughts.