اگر کوئی عورت اپنے خاوند سے جائیددا اپنے نام کرواکر خلع لے لیتی ہے تو کیا شوہر وہ جائیداد واپس لے سک

یہ ایک پیچیدہ معاملہ ہے ، یہ ثابت کرنا بہت مشکل ہے ناممکن نہیں ۔ سوال یہ ہے کہ اگر کوئی مکار، چالاک عورت ہے اور وہ کسی سے اسکی جائیداد کی خاطر مکرو فریب اختیار کر کے شادی کرتی ہے ۔ شادی کرنے کے بعد اس سے اسکی جائیداد اپنے نام لگوالیتی ہے اور جائید اد اپنے نام لگوانے کے بعد حیلے بہانے سے خلع لے لیتی ہے تو کیا وہ شخص اپنی جائیداد واپس لے سکتا ہے؟
سیدھا جواب ہے نہیں ایک چیز جب ایک بندے کو دے دی تو آ پ واپس نہیں لے سکتے لیکن اگر آپ اس پر محنت کریں آپ غوروفکر کے بغیر اپنے وکیل کی توسط سے عدالت میں رکھیں تو آپ کو وہ جائیداد واپس مل سکتی ہے۔ آپ کسی انجانی عورت کے نام جائیداد نہیں لگا سکتے ۔ آپ نے اپنی بیوی کے نام جائیداد لگائی اور جائیداد اپنی بیوی کے نام تب لگا ئی جاتی ہے جب پیار ہو اور اس کے ذہن میں مستقبل کے خواب ہوں ۔ جائیداد نام لگانے کی کئی وجوہات ہیں۔
محبت اور پیار
مستقبل کو محفوظ کرنے کے لئے
بچوں کی کفالت کا مسئلہ نہ پڑے۔
اگر میں مر جائوں تو ان کے پاس شیلٹر ہے۔
کہ اگر میں مر جائوں تو کہیں میرے بہن بھائی ان کو تنگ نہ کریں۔
یہ سارے وہ سوالات ہیں جو ذہن میں رکھتے ہوئےایک شوہر اپنی بیوی کے نام کوئی جائیداد لگاتا ہے ۔ یہ ٹرانزیکشن غوروفکر کے بغیرہوتی ہے شوہر بیوی کے نام جائیداد لگاتا ہے یا وہ اپنی جائیداد اس کے نام لگاتا ہے یا وہ خرید کے دیتا ہے تو بیوی کے لیے وہ ٹرانزیکشن غوروفکر کےبغیر ہے ۔ بیوی اس میں کچھ ادا نہیں کررہی۔ غوروفکر کے بغیر یہ عدالتیں تسلیم کرتی ہیں ۔ عدالتیں صرف اس پوائنٹ پے آتی ہیں کہ اس ٹرانزیکشن کو کالعدم کیسے قرار دیا جائے ؟ وہ ثابت کرنا انتہائی مشکل اور ضروری ہے اگر آ پ نے جائیداد واپس لینی ہے اس کے لئے آپ کو کیا ثابت کرنا پڑے گا؟
اگر بیوی مکار سوچ کی ہے ، ہوسکتا ہو وہ پہلے سے شادی شدہ ہو اور اس نے اپنے سابقہ شوہر سے بھی کچھ ایسا کرکے طلاق لی ہو یہ حقیقت تلاش کریں مثلاََ اگر وہ آ پ کے پاس آ ئی تو کوئی لڑائی جھگڑکہ جائیداد میرے نام لگائے گا تو میں بسوں گی اس پر غور کیجئے گا کہ بیویاں لڑنا شروع ہوجاتی ہیں کہ میرے نام یہ جائیداد لگائے تو میں اس کے گھر بسوں گی ورنہ نہیں یا یہ مجھ کو علیحدہ گھر لے کے دے تو میں اس کے گھر بسوں گی ۔ اگر یہ مجھے اتنا خرچہ دے تو میں اس کے گھر بسوں گی۔ زور کس چیز پر ہے کہ بیوی گھر بسانے کی کی شرط عائد کررہی ہے ۔ اگر آ پ ثابت کردیتے ہیں کہ میں اس کے نام نہیں لگارہا تھا اس کے نام میں نے اسلئے لگائی کہ گھر بسانے کے لیے لڑائی رہتی تھی اور اس کے بعد بیوی نے یہ مطالبہ رکھا کہ میں تمہارے گھر اس وقت بسوں کی جب میرے نام یہ جائیداد لگادو گے۔ میں نے اپنا گھر بسانے کے لئے ، میں نے اپنے بچوں کا مستقبل بچانے کے لیے ، میں نے اپنے خاندان کی فلاح و بہبود کے لئے ، میں نے اپنے بچوں کی فلاح و بہبود کے لئے میں نے اپنی جائیداد اس کے نام لگائی یا میں نے اس کو جائیداد خرید کردی ۔ میرا متمائے نطر خاندان کو جوڑے رکھنا تھا۔ اس نے جائیداد اب خریدی مقصد پورا ہوا۔ دو ماہ بعد مختلف معاملات میں حیلے بہانے کر کے اس نے عدالت سے جا کے خلع لے لی۔ اگر آ پ کی کسی کے ساتھ ذہنی ہم آہنگی نہیں ، چپکلش رہتی ہے ، دشمنی ہے تو آ پ ہر گز اس کے نام جائیداد نہیں کروگے ۔ اب جب ذہنی ہم آہنگی نہیں رہی یہ ثابت ہوگیا اس جائیداد کو ہتھیانے کے بعد بیوی نے باقاعدہ ایک سازش کے تحت یہ سارا کچھ کیا اور اس میں اس کی مکاری شامل تھی ، اسکی ایک سازش شامل تھی تو اس صورت میں عدالتیں اس چیز پر غور کریں گی۔ غور کرنے کے بعد پھر اس ٹرانزیکشن کے بارے میں اپنا حکم صادر فرمائے گی لیکن وہ حکم آ پ کی شہادتوں پر انحصار کرئے گا۔ آپ کا یہ ثابت کرنا کہ یہ ٹرانزیکشن غوروفکر کے بغیر ہے ۔ آ پ کو یہ ثابت کرنا پڑے گا یہ ٹرانزیکشن سوچے سمجھے منصوبےکےتحت کی ان سارے معاملات کو دیکھنے کے بعد پھر عدالت حکم جاری کرئے گی۔ مشکل ہے ناممکن نہیں۔
Comments
No comments yet. Be the first to share your thoughts.