LawyersOnline.pkLawyersOnline.pk
General Articles

جدول پنجم (آرٹیکل 205) -ججوں کے مشاہرے اور شرائط و قیود ملازمت -عدالت عالیہ

By Super Admin
جدول پنجم (آرٹیکل 205) -ججوں کے مشاہرے اور شرائط و قیود ملازمت -عدالت عالیہ

1۔ کسی عدالت عالیہ کے چیف جسٹس کو مبلغ 9400 روپے ماہوار تنخواہ ادا کی جائے گی ، اور کسی عدالت عالیہ کے ہر دوسرے جج کو مبلغ 8400 روپے ماہوار تنخواہ یا ایسی اضافہ شدہ تنخواہ جیسا کہ صدر ، وقتاََ فوقتاََ ، متعین کرئے ادا کی جائے گی۔
2۔کسی عدالت عالیہ کا ہر جج ایسی مراعات اور بھتوں کا ، اور رخصت غیر حاضری اور پنشن کے بارے میں ایسے حقوق کا مستحق ہوگا، جو صدر متعین کرئے اور اس طرح متعین ہونے تک ایسی مراعات بھتوں اور حقوق کا مستحق ہوگا، جن کے یوم آغاز سے عین قبل عدالت عالیہ کے جج مستحق تھے۔
3۔ کسی عدالت عالیہ کے کسی جج کو جو مذکورہ جج کی حیثیت سے کم از کم پانچ سال کی ملازمت کے بعد فارغ الخدمت ہو، واجب الا دا ماہوار پنشن ، اس کی جج کی حیثیت سے ملازمت اور ملازمت پاکستان میں کل ملازمت کی ، اگر کوئی ہو ، طوالت کے مطابق ذیل میں نقشے میں مصرحہ رقم سے کم یا زیادہ نہیں ہوگی؛
مگر شرط یہ ہے کہ صدر ، وقتاََ فوقتاََ ، بایں طور مصرحہ پنشن کی کم از کم یا زیادہ سے زیادہ رقم کو بڑھا سکے گا:۔
جج کم ازکم رقم زیادہ سے زیادہ رقم
چیف جسٹس 5،640 روپے 7،050روپے
دیگر جج 5،040 روپے 6،300 روپے
4۔ عدالتِ عالیہ کے کسی جج کی بیوہ حسبِ ذیل شرحوں پر پنشن کی حقدار ہوگی، یعنی:۔
(الف ) اگر جج فارغ الخدمتی کے بعد وفات پائے ۔ اسے واجب الادا خالص پنشن کا 50 فیصد؛ یا
(ب) اگر جج کم ازکم پانچ سال بحیثیت جج خدمات انجام دینے کے بعد اور جب اسی حیثیت سے خدمات انجام دے رہا ہو وفات پائے اسے کم سے کم شرح پر واجب الا دا پنشن کا 50 فیصد ۔
5۔ پنشن بیوہ کو تاحیات یا ، اگر وہ دوبارہ شادی کرلے ، تو اس کی شادی تک واجب الا دا ہوگی۔
6۔ اگر بیوہ وفات پا جائے تو پنشن بحسب ذیل واجب الا دا ہوگی۔
(الف ) جج کے بیٹوں کو جو اکیس سال سے کم عمر کے ہوں ، جب تک وہ اس عمر کو نہ پہنچ جائیں ؛اور
(ب) جج کی غیر شادی شدہ بیٹیوں کو جو اکیس سال سے کم عمر کی ہوں جب تک وہ اس عمر تک نہ پہنچ جائیں یا ان کی شادی نہ ہوجائے، جو بھی پہلے واقع ہو۔
٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭

Comments

No comments yet. Be the first to share your thoughts.