تفتیش(7)
Admin
11:56 AM | 2020-01-06
اب کور ٹ کہتی ہے کہ ہم تفتیش میں مداخلت نہیں کریں گے میں دعوے کے ساتھ کہہ سکتا ہوں اگر کورٹ کو تفتیش میں مداخلت کی اجازت دے دی جائے کوئی بھی گناہگار نہیں بچ سکتا کوئی گناہگار نہیں بچ سکتا ۔ اب جب ہم جا کے کہتے ہیں جی یہ قانون ہے کہ کیس ڈائری جب شروع ہوئی ہے اس کا وقت جب ختم ہوئی ہے اس کا وقت تین دن رہا ہے ملزم کچھ نہیں ترقی مزید ریمانڈ کیوں دیا جائے یہ اس کا بڑا قابل قدر حقوق ہے جسمانی ریمانڈ کیوں میرا جسم کسی کے حوالے کیا جائے ؟کورٹ کہتی ہے کہ کل کو انھوں نے الزام دینا ہے کہ جی ہ میں ٹائم نہیں دیا گیا وہ مجبوراََ ٹائم دے دیتی ہے جو ان کی افہام و تفہیم ہے اب پو
یس والے افہام و تفہیم سے مداخلت بھی ختم کروالیتے ہیں کورٹ کی بعد میں ان کی نالائیقیوں کی وجہ سے، استغاثہ کی نالائیقیوں کی وجہ سے، گواہان کی نالائیقیوں کی وجہ سے وہ ملزم بری ہوجاتا ہے تو پھر جناب عوام کہتی ہے جی کورٹ نے چھوڑ دیا پولیس کو کوئی الزام نہیں دیتا پولیس کو الزام دینے کے لئے صرف ہم اس حد تک موجود ہیں پولیس راشی ہے ،پولیس بدمعاش ہے ،پولیس بلیک میلر ہے او بھئی آپ پورے پاکستان میں چلے پاکستان چھوڑیں پنجاب میں تقریباََ یہ دس کڑوڑ کا صوبہ بن چکا ہوا ہے آٹھ کڑوڑ لگا لیتے ہیں آٹھ کڑوڑ بندے کو ٹوٹل میرے خیا ل میں دو سے سوا دو لاکھ پولیس آفیشل خاموش ہیں بندھے ہوئے ہیں قانونی طور پر بندھے ہوئے ہیں ان کتابوں کے او بھئی آٹھ کڑوڑ عوام متحد تو ہو کوئی آپ کے ساتھ برا نہیں کرسکتا یہاں پے ایک سپاہی کسی محلے میں رہ رہا ہوتا ہے تو اس محلے کا سانس خشک ہوا ہوتا ہے تھوڑی سی بیداری لائیں تھوڑا سا حوصلہ لائیں کوئی کچھ نہیں کرسکتاقانون کے مطابق کرئے قانون کے مطابق آپ کو جھیلنا چاہیے غیر قانونی طریقے سے کریں آپ کھڑے ہوجائیں یقین مانے اگر پوری قوم ایک سال کے لئے یہ تکلیفیں کاٹ لیں کہ جی ہم اس کے خلاف درخواست دیں گے تو ہ میں بھی دفتروں میں جانا ہوگا ایک سال متحد ہوجائیں ہر ڈیپارٹمنٹ کے بندے کو یہ پتا چل جائے کہ میں نے کوئی غیر قانونی کام کیا تو یہ میرے پیچھے پڑ جائے گی عوام دس ہزاد دفعہ سوچے گا کام کرنے سے پہلے ۔ اب جب عدالتیں نرم نظریہ لیتی ہیں اب 173 کی رپورٹ چالان جب جمع ہوتا ہے ایس ایچ او فرض کے تحت پابند ہوتا ہے کہ میں تمام شہادت آپ کے سامنے جس دن یہ چالان پیش ہوگا میں توآپ کے سامنے پیش کروں گا یہ سب سیکشن5 میں پڑھے دیتا ہوں جہاں تھانہ انچارج آفیسرانچارج کودفعہ1 کے تحت رپورٹ پیش کرئے گا اور اس کے ساتھ وہ گواہ پیش کرئے گایہ سیکشن173 سی آر پی سی کے تحت جب چالان جمع کروائے گا تو اسی سیکشن173 سی آر پی سی کی ذیلی شق جوہے وہ 5 ہے میں پڑھے دیتا ہوں جہاں پولیس اسٹیشن کا انچارج سب سیکشن 1 کے تحت رپورٹ بھیجتا ہے یہ لازمی ہے ۔ اس رپورٹ کے ساتھ ہی سرکاری ملازمین کو قبول کرنے کے معاملے میں پیش کریں اورمجسٹریٹ گواہوں کو پیش ہونے کے لئے پابند کرئے گا ، اسکے سامنے کچھ اور عدالت اس کی نشاندہی کی تاریخ مقررہونے پرہوگی ۔ کون سا چالان جمع ہوتا ہے مجھے تو اٹھارہ سال میں ایک چالان نہیں نظر آیا کہ جس میں ایس ایچ او نے چالان عدالت میں پیش کیا ہو اور اپنے ساتھ لائن میں لگا کے جوپرائیویٹ گواہان ہے وہ عدالت میں پیش کئے ہوں کہ جناب یہ گواہوں کا کیلنڈر میں یہ پرائیویٹ گواہان ہیں یہ گن لیں سارے میں نے پیش کردیئے ہیں اور عدالت ان کو باءونڈ کرئے کہ ٹرائل کورٹ جب بھی آپ کو بلائے گی آپ نے حاضر ہونا ہے یہ طریقہ کار اٹھارہ سالوں میں میں نے ایک کیس میں نہیں دیکھابات کرنے کا مقصد کیا ہے؟ بات کرنے کا مقصد یہ ہے کہ استغاثہ وہ کیس فائل کیوں داخل کرتا ہے عدالت کے سامنے جب یہ ضرورت اس کے سامنے نہیں ہے استغاثہ کیوں ذلالت اٹھاتی ہے جب قانون نے کہا ہے کہ ایس ایچ او تمام گواہان کو پیش کرئے گا جس دن وہ چالان جمع کرئے گا ۔ استغاثہ خود ذلالت اٹھاٹی ہے جب ہم اس کتاب سے باہر نکلتے ہیں جب اس کتاب کے قانون کو ہم نظر انداز کرتے ہیں تو خواہ وہ استغاثہ ہو خواہ وہ ملزمان ہوں وہ خفت ہی اُٹھائیں گے وہ نقصان ہی اُٹھائیں گے ۔ میں نے ایک لیکچر میں ایک آپ کو بات بتائی تھی کہ دیکھیں جب نام آتا ہے نہ تفتیشی آفیسر کاتو تفتیشی افسر کا مطلب وہ شخص جوقانون کو جانتا ہو وہ شخص جوسچائی کی وضاحت کرنے میں ماہر ہے وہ خدمت کی تشکیل کرتا ہے وہ ایک ماہر کا ایک تصور آتا ہے کہ تفتیش کا ایک ماہر آدمی ہے وہ یہ سارے کام کرئے گا اور تفتیشی آفیسرکیا کرتا ہے وہ کیس کا بیڑا غرق کردیتا ہے میں یقین کے ساتھ آپ کو کہہ رہا ہوں کہ مدعی کا خراب کیا ہوا ریاست کا معاملہ جس میں ملزمان بے گناہ قرار دیئے گئے میں نے ان کے خلاف پرائیویٹ شکایت فائل کی اور اس پرائیویٹ شکایت میں سزائے موت کروائی ۔ پولیس نے بیڑاغرق کیا ہوا تھابحالی ہے فارغ ،نقشہ موقع فارغ،انکوئری رپورٹ فارغ پیسہ پکڑا ہوا تھامجبوراََ پرائیویٹ شکایت کرنی پڑی اور پرائیویٹ شکایت میں وہ سب کے سب سزا ہوئے کچھ کو سزائے موت ہوئی کچھ کو عمر قید ہوئی ۔ اب ساری باتیں بتانے کا مقصد صرف یہ ہے کہ آپ خُدانہ خواستہ آپ مدعی ہیں خُدانہ خواستہ میں اسلئے کہہ رہا ہوں کہ فوجداری کیس میں جب آپ نقصان اُٹھائیں گے تو مدعی بنیں گے ۔ خُدانہ خواستہ ملزم ہیں خُدانہ خواستہ آپ ملزم اسلئے ہیں کہ بے گناہ ہیں تو گناہگار کی میں بات نہیں کررہا تو آپ ان چیزوں پے غور کرنا چاہیے بلکہ آپ کو تفتیشی آفیسر کو ایسے چلانا چاہیے ۔ اب میں نے آپ کو پہلے تفصیل لیکچر دے دیا کہ آپ کو اگر ان چیزوں کا پتا ہے ۔ اب حالیہ ایک مقدمہ ہوا میں اس کے بارے میں آپ کو بتاتا ہوں وہ تھا 408تعزیرات پاکستان ایک کلرک نے اعتماد کی مجرمانہ خلاف ورزی مجرمانہ نیت سے ایمانت میں خیانت کی اس نے اکاءونٹس میں ردو بدل کیا اور تقریباََکوئی چودہ سے پندرہ لاکھ روپیہ اُڑا کے لے گیا اب اس کو تفتیشی آفیسر نے گرفتار کیا گرفتار کرنے کے بعد اس کی تفتیش جاری ہوئی تو اس نے گواہان کے سامنے یہ اقرار کیا کہ میں چار لاکھ روپیہ آپ کو برآمد کرواسکتا ہوں باقی میں خرچ چکا ہوں مدعی کو کہا کہ میرے سے چار لاکھ اب لے لو اور باقی کی قسطیں کر لو یہ میں آپ کو سچی بات بتا رہا ہوں میں آپ کوکیس نمبر بتا دیتا ہوں شہر کا نام بتا دیتا ہوں یہ جس شہر کا یہ مقدمہ ہے اس تفتیشی آفسر نے ملزم کو کہا او تو کی قسطاں کرنیانے تو ساڈے نال مُق اسی پلستر کردینے آں مدعی نے کہا کہ مجھے سوچنے کا ٹائم دو وہ اگلے دن آیا اس نے کہا ٹھیک ہے تم چار لاکھ برآمد کرواءو اور باقی تم پچاس پچاس ہزار کی قسطیں کرلو اس نے کہا نہیں جی مجھے پتا چلا میں تو میں صرف ایک لاکھ دے سکتا ہوں اب تفتیشی افسر کیا کہہ رہا ہے؟ چل تو اک لکھ برآمد کرا اس کو گھر لے جاتا ہے گھر سے ایک لاکھ روپے لے کے آتا ہے اب ریکوری میموز کیا بنا رہا ہے بیس ہزار اس نے فلاں جگہ سے جھاڑیوں میں سے نکال کے دیا ۔ اب بندہ پوچھے وہ کون سا اعتماد کی مجرمانہ خلاف ورزی کرنے والا ملزم ہے جو شارع عام پے سائیڈ پے لگی ہوئی جھاڑیوں میں بیس ہزارروپیہ پھینک کے چلا جائے اور وہ بیس ہزار روپے دو مہینے پہلے وقوعہ ہوا ہے اور وہ بیس ہزار روپیہ دو مہینے سے وہاں پے پڑا ہوا ہے بیس ہزار روپے جھاڑیوں سے برآمد کروایا اور 80 ہزار روپیہ اپنے گھر سے لا کے دیا اور تین لاکھ روپیہ تفتیشی افسر کو دے دیا ۔ اب تفتیش مکمل ہونے کے بعد اسکی ضمانت لگی جج صاحب نے پہلا سوال کیا کہ جی وہ کون سی اس ملک میں جھاڑیاں ہیں آبادی میں جس میں دو مہینے تک بیس ہزار روپیہ پڑا ہوا ہے اور کوئی گزرنے والا نہیں اُٹھارہا ۔ کیا ان نوٹوں میں یہ لکھا ہوا تھا کہ یہ اعتماد کی مجرمانہ خلاف ورزی کے تحت نوٹ لیے گئے ہیں کرنسی نوٹ اور اس کے بارے میں ایک مقدمہ بھی درج ہے اس کو ہاتھ نہیں لگانا مافوق الفطرت باتیں اور مزیداری کی بات آپ کو بتائیں کہ اس تفتیشی افسر نے تین لاکھ ان سے لیا اور وہ جو ایک لاکھ کی تڑی لگا کے گیا ہوگا چوہدری صاحب بیٹھیں اے اک لکھ روپیہ ایتھے ہی پانا اے اسی بعد وچ سپرداری کروالاں گے چوہدری صاحب نے کہا تہاڈی مہربانی چوہدری صاحب شام نو میرا آئے گا سپاہی آجائے جی اب چوہدری صاحب سے بھی پچاس ہزار لے لیا اور تین لاکھ ملزم سے بھی لے لیا ۔ اب چوہدری صاحب کو پتا چل رہا ہے جب بحث ہوئی ہے کہ اس نے تو بیس ہزار روپے کسی جھاڑیوں میں سے اب چوہدری صاحب پھر متمعین ہوگئے اس نے کہا او یار تویہ کی کِتایہ وی ہزار تو جھاڑیاں تو چکا دیتا اے چوہدری صاحب کی کردے او انو سارا کچھ کروں ہی برآمد کر کے دیتا وی ہزار ہے نہ 80 ہزار تے جج نو نظر ہی نہیں آیا اسی ہزار تے کروں ہی برآمد کروایا اُنے جج نو اسی ہزار نظر نہیں آیا او وی ہزار جھاڑیاں دا نظر آگیا او نہیں سر جی وہ صدر کرایا سی اونا نے صدرکولوں اپروچ کرا کے تے بیل کروائی اے کیسے ہوسکتا ہے یہ؟آپ لوگ چوکنا ہوں ۔ 1- انکوئری رپورٹ پے دھیان دیں اگر قتل کا کیس ہے ۔ 2- ریکوری میموز پے دھیان دیں ۔ 3- نقشہ موقع پر دھیان دیں کیا نقشہ موقع جو گواہان کہہ رہے ہیں اس کے مطابق ہی بنا ہے جو شکایت کنندہ اپنی ایف آئی آر میں لکھوا رہا ہے ویسے ہی بنا ہے۔ 4- نقشہ برآمدگی دیکھیں کیا نقشہ جو ہے برآمدگی جس جگہ سے ہوئی ہے اس کے مطابق ہی بنا ہے ۔ یہ ساری چیزیں آپ کو پوری طرح دیکھنی چاہیے اُمید کرتا ہوں کہ تفتیش کی حد تک میں نے آپ کو بتا دیا ۔














Leave a comment