تفتیش(6)
Admin
11:48 AM | 2020-01-06
بھئی میں ایک بات یہاں پے و اضع کرنا چاہتا ہوں باتوں سے بات نکلی اگر آپ سچ کا دامن پکڑیں عدالتوں کی قانون سے ماورافیصلے دینے کی جرت ہی نہیں ۔ گواہ آئیں گے نیچرل گواہ آئیں گے میرے سامنے زید نے فائر مارے میں چیخ چیخ کے کہہ رہاہوں زید آیا تھا زید نے فائر مارے اب زید نے فائر مارے وہ سچا ہے اس نے دیکھا گواہ نے کہ زید نے فائر مارے وہ کھڑا ہوگا اس شہادت پے لیکن جب آپ کہتے ہیں کہ زیدنے بھی مارے زید کے تین بھائیوں نے بھی مارے، زید کے باپ نے بھی مارے ، زید کے چچا نے بھی مارے، زید کے کزنز نے بھی مارے تو وہ گواہ کہتا بھئی میں دشمنی نہیں لے سکتا میں سچ ہی کہہ سکتا ہوں
ہ زید نے فائر مارے میں یہاں تک قائم ہوں لیکن جب آپ نے اس سے باہر لے کے جائیں گے تو پھر میں آپ کے ساتھ پارٹی بن جاءوں گا ۔ زید نے فائر مارے میں اس حد تک قائم ہوں میں پارٹی نہیں بنوں گا ۔ میرے پاس موقف موجود ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کہا ہے کہ شہادت کو مت چھپاءو اگر شہادت کو چھپاءو گے تو تم گناہگار ہوگے میں نے جو دیکھا میں وہ شہادت دینے کے لئے تیارہوں لیکن جب استغاثہ جو اپنے پاءوں پے خود کلہاڑی مار لیتا ہے زید کی بجائے دس بندوں کو شامل کردیتا ہے وہاں پے اصل گواہ جو ہے وہ گواہی دینے کے لئے تیار نہیں رہتا کہ بھئی یہ جھوٹ ہے میں نہیں آپ کے ساتھ پارٹی بن سکتا ۔ پھر گواہ کون بنتا ہے گواہ آپ کے اردگرد کے لوگ بنتے ہیں ؟ جب انھوں نے وقوعہ ہی نہیں دیکھا ان کو طوطے کی طرح رٹوایاجانا ہے گواہی دینے سے پہلے اس کے سامنے سین ہی نہیں چل رہا تو وہ گواہ کب تک اپنے پائوں پے کھڑا رہے گا جراح کے سامنے اس نے اپنی گواہی سے ہٹنا ہی ہٹنا ہے کیونکہ اس نے وہ دیکھا ہی نہیں ہوا میں دعوے سے کہہ سکتا ہوں ۔ یہ کچھ لوگ ہماری کمیونٹی کے کہتے ہیں جی چار سال بعد یاد بھول جاتی ہے دس سال بعد یاد بھول جاتی ہے پانچ سال بعد یا د بھول جاتی ہے بھئی اگر آپ نے اپنی آنکھ سے دیکھا ہوا ہے تو میرا یہ دعویٰ ہے کہ عام سوجھ بوبجھ رکھنے والا بندہ دیکھا ہوا وقوعہ دس سال بعد بھی نہیں بھولتا اس کو پتا ہونا ہے کہ کیا ہونا ہے کیا نہیں ہونا ۔ کمزوریاں ہیں ریاست میں قانون کو نافذ کرنے کے لئے کمزوریاں موجود ہیں اس پاکستان میں گواہ کو تحفظ ملنے کا کوئی کوئی کنکریٹ حل نہیں ہے کوئی بھی جو ہے نہ طریقہ کار نہیں دیا گیا کہ گواہ کی تحفظ کے لئے یہ معاملات ہیں یہ موجود ہے اس ملک میں اس میں کوئی دوسری رائے نہیں ہے لیکن یہ بھی موجود ہے کہ اگر گواہ سچا ہے اوروہ غیر جانبدارہے تو کوئی پارٹی اس کو چھو نہیں سکتی گواہ کوتحفظ دینے کے معاملے میں اگر قانون مضبوط ہوجائے اگر ریاست اس کو تحفظ دینا شروع کردے تو یہ دس دس سال جو مقدمات چلتے ہیں یہ چلنا بند ہوجائیں گے ۔ میں نہیں کہتا کہ ساری عدلیہ جو ہے وہ دودھ کی دھلی ہوئی ہے عدلیہ کو موقع کون دیتا ہے؟ ججوں کو موقع کون دیتا ہے؟ججوں کو آپ موقع دیتے ہیں بارڈر لائن پے لا کے آپ موقع دیتے ہیں کہ میں ادھر پلٹی کھا جاءوں یا ادھر پلٹی کھا جاءوں ۔ آپ سچ بولیں سچ لکھوائیں ، سچ جواب دیں جج کی جرت نہیں ہے کہ ادھر اُدھر ہوجائے یہ میں بڑے وسوق سے کہہ رہا ہوں لیکن جب آپ وکیل کو جھوٹ کا پلندا پکڑا دیں گے کہ جناب اس پے لڑاکرواس جھوٹ کے پلندے پے لڑاکرو ۔ وہ وکیل کو بھی سمجھ آرہی ہوتی ہے یہ جھوٹ ہے لیکن وہ اس کی پروفیشنل ڈیوٹی ہوتی ہے کہ بھئی جو کہہ رہے ہیں میں نے وہ عدالت کی مددکرنا ہے مناسب طریقہ کار میں عدالت کو بھی سمجھ لگ جاتی ہے جھوٹ ہے ۔ اب واپس نقطہ پر آتے ہیں اب ایک ملزم کا وہی گساپٹا جناب تیرویں دن جب ریمانڈ ختم ہورہا ہے تو ملزم نے کہا جی میر ا ضمیر جاگ گیا ہے میں آپ کو آلہ قتل برآمد کرواسکتا ہوں ملزم نے آگے چل کے آگے آگے چلتے ہوئے اپنے گھر کا دروازہ کھولا گھر کے دروازے بغلی کمرے میں داخل ہوئے داخل ہونے کے بعد جو ہے نہ وہ وہی گسی پٹی کہ چارپائی کے نیچے جستی پیٹی وہ چارپائی کے نیچے جستی پیٹی آج تک نہیں ختم ہوئی اس قانون کو بنے ایک سو سال سے زائد ہوگیاہے وہ چارپائی کے نیچے جستی پیٹی میں دعوے کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ اب 80فیصد گھروں میں جستی پیٹیاں نہیں ہیں ۔ پیٹیوں کا رواج ہی نہیں ہے ۔ وہ چارپائی کے نیچے جستی پیٹی پڑی ہوئی ہے اس میں سے پسٹل نکال کے دیا ۔ بھئی آپ کو تیرادن تک اس ملزم کا گھر نہیں یا د آیا کہ اس ملزم کا ایک گھر بھی ہے ہم نے اس گھر کو سرچ بھی کرنا ہے ۔ اب مزیداستغاثہ کیا بھونڈا طریقہ اپناتی ہے تفتیشی افسر کہ ریکوری کروانے کے لئے لے کے جاتی ہیں تو80فیصد ریکوری میموز کے نیچے جو ہے نہ وہ اس پولیس آفیشل کے نام ہوتے ہیں 20فیصد میں مدعی فریق کے گواہان ہوتے ہیں جو ریکوری میمو بنتا ہے فرد برآمدگی اس کے نیچے قانون کی ضرورت ہے اس فرد برآمدگی کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے اگر دو گواہان نے اس کو سائن نہ کئے ہوں شہادت نہ ڈالی ہو اب اس میں دو گواہان شہادت ڈال رہے ہیں 80فیصد فرد برآمدگیوں میں جو فردات مرتب ہوتی ہیں اس میں پولیس آفیشل ہوتے ہیں گواہ20فیصد میں مدعی فریق کے بندے گواہ ہوتے ہیں نہ اس کے آجو کے گھر کا کوئی بندہ گواہ ہوتا ہے نہ اس کے باجو کے گھر کا بندہ گواہ ہوتا ہے نہ اس ایریے کے کسی بڑے بندے کو اگر گاءوں ہے کوئی نمبردار منگوالیں ، کوئی چوہدری منگوالیں یا کوئی ناظم،کوئی کونسلر ، کوئی بیڈی ممبر کوئی منگوالیں یا کسی محلے کا ہے تو جناب شہرکا علاقہ ہے تو کسی بندے کے کہا جائے کہ جناب نہیں ۔ اب فرد برآمدگی مٹی ہوجاتی ہے عدالتوں کو یہ کہنا پڑ گیا کہ جرایم مٹیریل کی بازیابی جوہے نہ وہ کافی نہیں ہے ملزم کو سزا دینے کے لئے بھئی آپ فطری طور پر میں جائیں دنیا اتنی ایڈوانس ہوگئی ہے تفتیش کے اتنے جدید طریقے آچکے ہوئے ہیں جب آپ کو عدالتوں نے پناہ دے دیا کہ برآمدگی نہیں ہوتی تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ ملزم کو سزا نہیں ہوگی ۔ آپ وہ طریقے کیوں نہیں اپناتے آپ جیو فینسنگ کیوں نہیں کرتے؟ آپ سی ڈی آرز کیوں نہیں نکلواتے؟وہاں پے لگے ہوئے ہاتھ کوئی بندہ آرہا ہے کر رہا ہے کہیں پے جارہا ہے اس کے ہاتھ لگ رہے ہیں جو اگر گواہان نے دیکھا ہے آپ اس کی جیوفینسنگ کریں ۔ اس کے فنگر پرنٹس دیکھیں اسکی سائیکی کے ساتھ ہمارے تفتیشی افسر الاماشاء اللہ ابھی تک میٹرک پاس ہیں وہ کہتے ہیں جناب ڈنڈا سارا کچھ ہے ڈنڈے سے ایسے ایسے تفتیش ہوتی ہے بے شمار ہیں میں اس موضوع پر بھی ایک تفصیلی لیکچر دوں گا کہ تفتیشی افسران کیا کیا کرسکتے ہیں؟ بغیر کسی ملزم کی باڈی کو چھوئے بغیر ۔ یہاں پے تو معاملات یہ ہیں کہ جس علاقے میں قتل ہوجاتا ہے اس کو تفتیشی افسر جو مقرر ہوتا ہے وہ سب سے پہلے جو ہے نہ وہ دیگ دیتا ہے نیاز دیتا ہے کہ جی اللہ تعالیٰ نے روزی روٹی کھول دی یہ تفتیشی افسروں کا حال ہے کہ جی مدعی سے بھی کھائیں گے ملزم سے بھی اور اتنے بیوقوف ہیں دونوں سائیڈیں کہ مدعی بھی کھلارہا ہوتا ہے ملزم بھی کھلا رہا ہوتا ہے اور درمیان میں بیٹھ کے وہ دونوں سے کھا رہا ہوتا ہے اور نہ مدعی ماننے کے لئے تیار ہے کہ تفتیشی افسر میر ے ساتھ دھوکہ کررہا ہوتا ہے اور نہ ملزم ماننے کے لئے تیار ہے کہ تفتیشی افسر میرا کیس خراب کررہا ہے دونوں اتنے زیادہ ہم پیٹتے رہ جاتے ہیں کہ بھئی ان کو پیسہ دینے کا کوئی فائدہ نہیں اس نے آپ سے بھی لینے ہیں آپ سے بھی لینے ہیں کرنا کچھ نہیں ہے ۔ دیتے ہیں بڑے فخر سے دیتے ہیں اور میں نے تو کہیں ایسی تعداد بھی دیکھی ہے کہ پیسے دینے کے باوجود ان کا کام نہیں ہوتا اور ان سے کہتے ہیں آپ کو کہا تھا نہ نہیں نہیں ٹرائل دے وچ وہ کہندا سی شہادت دین آواں گا تہاڈا پورا کام کردیاں گا یہ مجبوری سی افسراں دے نوٹس وچ آگیا ہویاسی اے مجبوری سی لکھنا بیان تے میں ہی دینا اے ۔ وہ پتا نہیں کیسے ہپناٹائس کرلیتے ہیں ان کو اور یہ ہہپناٹائس ہوجا تے ہیں ۔ اب ریکوری میں آزادانہ گواہان ہونے چاہیے نیچرل سی گواہی ہو کہ جی پولیس والے ہمارے علاقے میں آئے تھے یہ ملزم ا ن کے ساتھ تھا اس ملزم نے ہمارے سامنے انقشاف کیا کہ میں برآمدگی کرواسکتا ہوں فلاں فلاں کی یہ ہمارے ساتھ گئے جب ہم کمرے میں داخل ہونے لگے تو اس کی ایک ہتھ کڑی کھول دی گئی ایک ہاتھ آزاد کردیا گیا اس نے اندر کمرے جا کے جناب یہ یہ چیز ہمارے سامنے برآمد کروائی اس کا نقشہ بنے گا نقشہ بن کے اب اس گواہ کو دس سال بعد بھی پیش کروادیں اس کے سامنے وہی ریل جو اصل چلی ہوئی ہے وہی چلنی ہے ۔ اب یہ زخمی مقدمے میں برآمدگی ہوتی ہے فراڈ میں بھی برآمدگییں ہوتی ہیں جو زنا مقدمے ہیں اس میں بھی برآمدگییں ہوتی ہیں چوری کے مقدمے ہیں اس میں بھی برآمدگییں ہوتی ہیں نیچرل طریقے سے تفتیش مکمل ہو چالانی زمنی لکھے ایس ایچ اوجب چالانی زمنی لکھ کے اپنی173 کی رپورٹ لکھ کے وضع کرئے تو اس وقت کیا ذمہ داریاں ہیں ؟ جس کو عرف عام میں چالان کہتے ہیں کہ چالان فائل کرنے کی کیا ذمہ داریاں ہیں ایک بات میں آپ کو بتانا بھول گیا اب جب تفتیش آتی ہے تفتیشی افسر کے پاس تو وہ جس دن سو کے اٹھے گا تفتیش کی فائل اپنے پاس لے کے آئے گا اس دن جب وہ تفتیش شروع کرئے گا اس کا وقت اور تاریخ لکھے گا اس فائل میں جن پرتوں کو زمنیاں کہتے ہیں 172 سی آر پی سی وہ وقت لکھے گا جب اس نے تفتیش شروع کی کیا کیا کیا و ہ سارا کچھ لکھے گا آخر پے جس دن وہ اپنی زمنی بند کرئے گا تو اس وقت بھی ٹائم لکھے گا کہ اس وقت میں نے اپنی زمنی بندکردی میں نے اپنی تفتیش بند کردی ۔ اب یہاں پے عجیب سا ٹرائیکا چلتا ہے اس مرحلے پے تفتیش کے ابتدائی مرحلہ پے اب پولیس حرارکی جو ہے وہ اوپر کا درجہ پے جوڈیشری کے ساتھ جو ان کی قربت چلتی ہے وہ کہتے ہیں جی مہربانی ہمارے تفتیش کا طریقہ کار میں مداخلت نہ کیجئے کورٹس مان لیتی ہیں کورٹس نے بیشمار فیصلے دے دیں کہ تفتیش میں عدالت مداخلت نہیں کرئے گی ۔ اب کبھی آپ نے سوچاہے کہ عدالت تفتیش میں مداخلت نہیں کرئے گی اس کا متمائے نظر کیا ہے؟ اس کا مقصد کیا ہے؟ کورٹ اسلئے تفتیش میں مداخلت نہیں کرتی کہ کل کو یہ عدالتوں کو الزام نہ دیں کہ ہ میں تو تفتیش کرنے ہی نہیں دی گئی ہم کیا کریں ہ میں تو تفتیش کرنے نہیں دی گئی ہمارے تو اس میں بھی کورٹ نے ٹانگ اس میں بھی اس میں بھی اس میں بھی ہم کیا کرتے استغاثہ کو تو عدالت نے ابتدائی مرحلہ پر ہی کردیا ۔














Leave a comment