تفتیش(5)
Admin
11:46 AM | 2020-01-06
تفتیش(5) میں نے پہلے لیکچر دیئے تھے تفتیش کے اوپر تو اس کے بعد کافی کیوریز آئیں ایک بات میں آپ کو واضع کردوں کہ ہر کیس کے جو ہیں اپنے حالات و واقعایات ہوتے ہیں لیکن بنیادی طریقہ کار،مظاہر جوہے و ہ سب کے لئے ایک ہوتا ہے ۔ میں نے تفتیش کے اوپر جس نج پے آپ کو لیکچر دیا تھا اسکو میں آگے بڑھاتے ہوئے کہ تفتیش کے دوران جب ایک ملزم گرفتار ہوجاتا ہے اور گرفتار ہونے کے بعد وہ پولیس کے پاس فزیکل ریمانڈ پے ہوتا ہے تو اس فزیکل ریمانڈ لینے تک کا ایک طریقہ کار ہوتا ہے جو ہر پولیس آفیسر نے مکمل کرنا ہوتا ہے ہرتفتیشی افسر نے مکمل کرنا ہوتا ہے اگر وہ اس عمل کو مکمل نہیں
کرتا تو عدالتیں یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتی ہیں کہ دوسری پارٹی یا ملزم خود کہے کہ میں اس گرفتاری سے پہلے اس کے پاس غیر قانونی تحویل میں ہوں ۔ گرفتار کرنے کا پورا طریقہ کار کو لیا کرئے، لکھے کیسے اس ملزم کی اس کو معالومات ملی، کب ملی ، کس دن ملی اس وقت یہ پولیس آفیسر کہاں تھا؟ اس کے بعد اس نے کس جگہ سے اس کو گرفتار کیا؟ گرفتار کرنے کے بعد وہ کس ٹائم تھانہ میں لے کے آیا کیونکہ تھانہ میں ایک روزنامچہ ہوتا ہے ڈائری ہوتی ہے روزنامچہ میں جو تھانے کے اندر آتا ہے اس کا اندراج بھی ہوتا ہے جو تھانے سے باہر جاتا ہے اس اندراج بھی ہوتا ہے یہاں تک کہ ایک صبح کے ٹائم سوءپر بھی آتا ہے صفائی کرنے کے لئے توروزنامچے میں اس کا اندراج ہوگا کہ فلاں فلاں سوءپر جو ہے وہ اس وقت تھانے میں آمد دی اس وقت اس نے اپنی رونگی ڈالی ۔ اب وہ پولیس والا جب تھانے میں آئے گا تو وہ سیدھا جائے گا محرر کے پاس جس کے پاس روزنامچہ ہوتا ہے جس کی تحویل میں روزنامچہ ہوتا ہے جس نے وہ روزنامچہ برقرار کرنا ہوتا ہے ۔ وہ محرر کے پاس جائے گا وہ ساری تفصیل بتائے گا کہ میں نے اس ملزم کو فلاں جگہ سے فلاں فلاں مخبر کی اطلاع پے یا فلاں بندے کے پوائنٹ آءوٹ کرنے پے یا فلاں بندے نے اس کو گرفتار کیا ہوا تھاتو اس سے میں اسکی تحویل لے کے آیا جو بھی صورت حال ہوگی وہ اس کی گرفتاری کا فیکٹر اس روزنامچے میں درج کرئے گا ۔ اب جونہی وہ روزنامچے میں درج ہوگیا اب اس وقت سے چوبیس گھنٹے شروع ہوگئے اب قانون فعال ہوگاکہ اس چوبیس گھنٹے کے اندر اندر اس ملزم کو جس کو پکڑا ہے اس کو مجسٹریٹ کے سامنے پیش کرناہے اور اگر چوبیس گھنٹے سے پہلے پہلے یہ وہ نتیجہ کرلیتا ہے کہ اس کے خلاف صفحہ مثل پے کوئی ایسی شہادت نہیں جس سے اس کو گرفتاری جو ہے نہ اس کو جاری کیا جائے تو وہ 169 کے تحت اس کو رہا کردے گا اس کے ذاتی شورٹی بانڈ لے کے اس کی گرفتاری کو التوا میں ڈال دے گا ۔ اب یہ تو گرفتاری کا عمل ہوگیا چوبیس گھنٹے تک تفتیش اگر مکمل نہیں ہوتی تو وہ مجسٹریٹ کے سامنے پیش ہوگا اپنی چوبیس گھنٹے کی پوری کاروائی بتائے گا ۔ کاروائی بتانے کے بات کس مقصد کے لئے اس کا جسم چاہیے وہ اس کو ملے گا ۔ ریمانڈ کے بارے میں میں نے آپ کو ایک پورا تفصیلی لیکچر دے دیا ہوا ہے اس کو میں دوبارہ دہراءوں گا نہیں ۔ اب سب اہم جو عنصر ہے اس کی گرفتاری سے لے کے ریمانڈ کا عمل اور ریمانڈ کے بعد مکمل ہونے کے بعد فزیکل ریمانڈمکمل ہونے کے بعد اس کا جوڈیشل جانا وہ ہے متعدی میٹریل کا برآمد ہونا ملزم کی تحویل سے ملز م کی نشاندہی سے ملزم کی نشاندہی پے ۔ اب اگر ایک ملزم کہتا ہے کہ میں فلاں چیز جو کہ اس مقدمے کا متعدی میٹریل ہے جو استغاثہ کو فائدہ دے سکتا ہے جو استغاثہ کے موقف کو درست ثابت کرنے کے لئے کارآمد ہے ۔ فرض کریں قتل ہوا ہے پسٹل سے فائر مارے گئے ہیں اس کے اوپر حصول ہے کہ اس نے پسٹل سے مرنے والے کو فائر مارا کئے وہ فزیکل ریمانڈ میں ہے وہ کہتا ہے کہ میں آلہ قتل برآمد کرواسکتا ہوں ۔ اب ایک چیز آپ ذہن میں رکھیں گے تفتیش جتنی نیچرل ہوگی اتنا دماغ مانے ہوگی کورٹ اس کے اوپر اتنا ہی زیاد ہ اعتبار کرئے گی جتنی غیر فطری ہوگی کورٹ اس کے اوپر اعتبار نہیں کرئے گی ۔ خبر آتی ہے قتل کا ملزم بری ہوگیا فلاں جرم کا ملزم بری ہوگیا فلاں جرم کا ملزم عدالت نے بری کردیا ۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے کسی زمانے میں فرشتہ عزائیل کو سننا پڑتا تھا کوئی یہ نہیں کہتا تھا جناب کہ عزائیل روح لے کے چلا گیا پھر بیماریاں آئیں پھر کہنے لگے وہ بخار سے مر گیا وہ اس سے مر گیا وہ اس سے مرگیا ۔ اب جب جاتی ہے خبر پبلک میں کہ کورٹ نے دو قتلوں کے ملزم کو بری کر دیا پبلک عام آدمی ہے پبلک کو نہیں پتا پبلک میں یہ تصورجاتا ہے کہ عدالتیں یا تو نا اہل ہیں یا اپروچ ہوگئی، سفارش مان لی یا رشوت لے کے چھوڑ دیا ایک عام آدمی کے دماغ میں یہ ہی جاتا ہے لیکن آج میں آپ کو بتار ہا ہوں کہ عدالتیں کسی مجرم کو بری نہیں کرتیں ۔ عدالتوں سے بری کروایا جاتا ہے اگرکسی ملزم کو تو وہ ایک واحداستغاثہ ہے ۔ استغاثہ کس پے مشتمل ہے اس میں شکایت کنندہ بھی شامل ہے اس میں گواہان بھی شامل ہیں ، اس میں تفتیشی افسر بھی شامل ہے ۔ درحقیقت استغاثہ جو ہے اکٹھا ہوکے کسی ملزم کو عدالت سے بری کرواتا ہے ۔ اگر نیچرل طریقے سے ایف آئی آر درج ہوگی، نیچرل طریقے سے اس کی گرفتاری ملزم کی ہوگی، نیچرل طریقے سے اس کی تفتیش ہوگی، نیچرل طریقے سے وہ گناہگار ہوگا کوئی عدالت اس کو نہیں چھوڑے گی ۔ اب نیچرل طریقہ کیا ہے؟نیچرل طریقہ یہ ہے کہ جو حقیقاََ ہوا یہاں پے ایک تصور چلتا ہے کہ سازش کے ملزمان بری ہوجاتے ہیں کہ زید اوربکر نے سازش کی کہ ہم نے اے کو مارنا ہے اس نے سازش کے تحت بی اور سی کو اسلحہ دیا وہ جاکے اس کو مار آئے ۔ اب ایک یہ مانا جاتا ہے کہ سازش کا جو گواہ ہے اس کو سزا نہیں ہونی اس کی وجہ کیا ہے؟کہ اس کے خلاف جو ثبوت پیش کی جاتی ہے وہ غیر فطری ہوتی ہے ۔ وہ پولیس والے گساپٹا کہ جی بھئی آپ مجھے یہ بات بتائیں کہ میری اور آپ کی دشمنی ہے آپ اپنی بیٹھک میں بیٹھ کے مجھے مارنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں تو میری رسائی اس بیٹھک میں ہوسکتی ہے جہاں پے میرے دشمن دار بیٹھے ہوئے ہیں میرے گروہ کا بندہ ہے ملزمان کو پتا ہے کہ یہ گروہ کا بندہ ہے ہمارے مخالف کے گروہ کا بندہ ہے کیا اس کی رسائی ہوسکتی ہے ان کی بیٹھک میں اس کے ڈیڑے میں ، اس کے کمرے میں ، اس کے گھر میں کہ وہ جا کے سن لے کہ ملزمان یہ سازش کررہے ہیں غیر فطری ہے تفتیش کی خامیاں ہیں جس کی بنیاد پے یہ سارا کچھ ہوتا ہے ۔ ایک ہی سوال پے وہ گواہ فارغ ہوجاتا ہے کہ جناب یہ ملزمان کو آپ پہلے سے جانتے تھے ہاں جی جانتا تھا یہ کیونکہ انھوں نے نام کے ساتھ بتا نا ہے کہ وہ گئے کہ جی ہاں میں جانتا تھا آپ کا تعلق واسطہ مدعی پارٹی سے ہے جی بالکل ہے مدعی پارٹی کا اور ملزمان کی دشمنی چل رہی ہے جی چل رہی ہے تو بھئی انھوں نے آپ کے سامنے سازش کیوں کرنی تھی انھوں نے آپ کے سامنے سازش کیوں کرنی تھی؟ اگر ان کو یہ سارا کچھ پتا ہے اس وجہ سے کہ غیر فطری طریقے سے شہادت پیدا کی جاتی ہے جب بھی غیر فطری طریقے سے شہادت پیدا کی جائے تو کیا عدالتیں کوئی ربوٹ ہیں ۔ کیا عدالتیں ریاضی دان ہیں کہ 2+2=4 نہیں عدالت بھی ایک گوشت پوسٹ کے انسان پر مشتمل ہے ۔ عدالت کو صدارت کرنے والا ایک عام عقل ،فہم، فراست رکھنے والا ہے اس کے روبز پے قوانین ہیں لیکن ان قوانین کو وہ اپنی عقل اور فراست کے تحت ہی استعمال کرتا ہے جب ایسی غیر فطری ثبوت اس کے سامنے رکھی جائے گی تو کوئی غیر فطری سوچ رکھنے والا ہی جج سزا دے گا ۔ ایک عقل ، فہم اورفراست رکھنے والا جج جو ہے وہ اس شہادت پے اعتماد کرکے کسی کوسزا نہیں دے گا ۔ پھر آپ کو یہ سننے میں آتا ہے جناب جب استغاثہ جب استغاثہ اس قسم کی شہادت پیش کرتا ہے تو پھر آپ کو یہ سننے میں آتا ہے کہ دو قتلوں کا، تین قتلوں کا یہ فراڈ کا یہ فلاں کا وہ بری ہوگئے ۔ اسلئے آپ کو پتا ہے آپ کی کس سے دشمنی ہے آپ کو پتا ہے کہ ایک بندہ آیا اس نے فائر مارے اس نے دس فائر مارے دس فائر مار کے چلا گیا ۔ اب آپ ان دس فائروں کودس بندوں پے ملوث کرتے ہیں جب آپ دس فائروں کو دس بندوں پے ملوث کرتے ہیں تو وہاں پے شہادت شک میں آ جاتی ہے ۔ اگر آپ فطری طور میں جو ہوا ہے آپ نہیں چشمدید گواہ ہوتے آپ کو اطلاع ملتی ہے کے آپ کے بھائی کو فلاں جگہ پے فائر مار دیئے گئے فوری طور پر آ پ جاتے ہیں آپ کو فوری طور پر پتا چلتا ہے جناب زید جو ہے وہ موٹر سائیکل پے آیا اس نے فائر مارے اورنکل گئے ۔ اب آپ زید کے پوری فیملی کو آپ اس میں شامل کردیں تو پھر آخر میں زید نے بھی بری ہونا ہے اگر آپ اس کو زید کی حد تک ہی رکھیں ۔ آپ کو یہ شک ہے نہ ٰیہاں سے ثبوت نہ ہوجائے کہ جی ہم اپنے علاقے میں بیٹھے ہوئے تھے ہ میں پتا چلا ہم آئے تو پتا چلا چلے جی آپ کو یہ شک ہے آپ کو پڑھانے والے بڑے ہیں کہ جناب یہ سارا کچھ ہے سلسلہ کار جی قتل کے دشمنیوں میں کوئی نیچرل گواہ جو ہے وہ گواہی دینے کے لئے تیار نہیں ہے ۔














Leave a comment