تفتیش(4)
Admin
10:41 AM | 2020-01-06
اب جب وہ گرفتار ہوگیا وہی جی رٹی رٹائی جی ملزم سے برآمدی کرنی ہے پہلا ریمانڈ مل گیا ۔ ملزم عادی ہے، چالاک ہے مزید ریمانڈ دے دیا جائے ریمانڈ کے اوپر میں نے آپ کو ایک تفصیلی لیکچر دے دیا ہوا ہے ۔ ریمانڈ لیتے جائیں گے تیرویں دن جناب ملزم کو ایک وحی اترے گی ملزم کا بیان لکھا جائے گا کہ مجھ سے غلطی ہوگئی ہے میں نے فلاں فلاں وقت فلاں فلاں وقوعہ کیا ہے میں اپنا آلہ قتل برآمد کرواسکتا ہوں وہ پہلے دن نہیں ہوتا دوسرے دن نہیں ہوتا وہ پانچویں دن نہیں وہ جس دن ریمانڈ ختم ہونا ہوتا ہے چودہ دن پورے ہونے ہوتے ہیں اس سے ایک دن پہلے جو ہے نہ اس کا ضمیر جا گتا ہے ۔ اب ایس
بھونڈا انداز پولیس اپناتی ہے کہ ملزم کو ملزم کے انقشاف پر ہمراہ دو پولیس والے ہم لے کے گئے ملزم نے چلتے چلتے اپنے گھر کا دروازہ کھولا گھر کا دروازہ کھولنے کے بعد اپنے رہائشی کمرے میں گیا رہائشی کمرے میں چارپائی کے نیچے پڑی ہوئی جستی پیٹی وہ جسٹی پیٹی آج تک میں نے نہیں دیکھی جسٹی پیٹی میں سے نکال کے پسٹل جو ہے وہ ہمارے پیش کیا ۔ او بھئی آپ نے جس دن اس کو گرفتار کیا ہے آپ کو کس نے کہا ہے کہ تفتیش اس کا نام نہیں ہے یا کوئی قانون آپ کو روکتا ہے کہ آپ نے جس دن اس کو گرفتار کیا آپ نے رہائشی کمرے کا سرچ کیوں نہیں کیا آپ نے آپ نے اس کے رہائشی مکان کا سرچ کیوں نہیں کیا کس چیز نے آپ کو روکا تھا پھر اور بلنڈر زکام کرتے ہیں ایک تو علاقے میں سے تو کسی پرائیویٹ بندے کو لینا نہیں ہے اور اگر اس میں پرائیویٹ بندہ ڈالنا ہے تو وہ استغاثہ کے ثبوت میں پہلے ہی گواہان ہیں ان کو ڈالنا ہے کیونکہ سارا کچھ تھانے میں بیٹھ کے ہو رہا ہے موقعے پر کچھ نہیں ہورہا ایسا کچھ وقوع پزیر نہیں ہورہا ہوتا ۔ اب مزیداری کی بات یہ ہے کہ ایک ملزم نے ڈکیٹی اور قتل کا چارج ہے اب وہ کہتے ہیں جی پہلا ریمانڈ لیا کہ جی اس سے ریکوری ہونی ہے چار دن بعد آئے لکھا ہوا جی اس سے دو سیٹ جوہے نہ سونے کے وہ اپنے گھر سے انقشاف کیا کہ میں سونا برآمد کرسکتا ہوں گھر میں پڑا ہوا ہے وہ گھر میں جاتے ہیں گھر میں جاکے جنا ب اس کو کھولتے ہیں کھول کے جناب میں نے وہی سلسلہ کارآگے آگے چل کے چارپائی کے نیچے پڑی ہوئی جستی پیٹی میں سے وہ جوہے وہ نکال کے دے دیا ۔ اب چار دن بعد کیا ہوتا ہے اسی ملزم سے اسی گھر سے آلہ قتل بھی برآمد ہورہا ہے بندہ پوچھے کہ آپ کس قانون نے روکا تھاکہ پہلے اس گھر میں گئے ہیں تو سارے گھر کا سرچ اپریشن کیوں نہیں کیا یہ وہ نقات ہیں یہ وہ معاملات ہیں میں کہتا ہوں میں تفتیش پے میں روزانہ آپ کو دو دو تین تین گھنٹے کا لیکچر دینا شروع کردوں یہ ختم نہیں ہوسکتا ہر مقدمے کے معاملات مختلف ہوتے ہیں ۔ فوکس کس بات پے کرنا چاہیے؟ فوکس اس بات پر کرنا چاہیے کہ آپ نے کوئی بھی ثبوت آپ کے پاس ہے وہ خواہ آپ کی نظر میں کمزور ہے خواہ آپ کی نظر میں مضبوط ہے وہ آپ نے پولیس کو دینا ہے پولیس نہیں لیتی عدالت کے ذریعے دلوانا ہے آپ نے کوئی چیز نہیں روکنی آپ نے کسی چیز کو جو ہے نہ وہ چھپا نا نہیں اگر آپ سچے ہیں یہ ذہن میں رکھیں اگر آپ سچے ہیں آج کے معاشرے میں بھی میں آپ کو دعوے کے ساتھ کہتا ہوں میں اٹھارہ سال کا تجربہ ہے میرا آج کے دور میں بھی اگر آپ بے گناہ ہیں تو یقین جانیئے آپ کو انصاف ملے گا لیٹ ملے تاخیر سے ملے لیکن آپ کو انصاف ضرور ملے گا اگر آپ سچے ہیں اور اگر آپ سچے ہیں تو کوئی ثبوت چھپائیں نہ ۔ اب یہ تفتیش میں معاملات مختلف آتے ہیں ہر مقدمے کے معاملے مختلف ہوتا ہے اگر آپ دستاویز کی بنیادہیں یعنی کہ کوئی فراڈ اورفورجری کا ہے تو اس میں ہینڈ راءٹنگ ایکسپرٹ یہ سارا فنگر ایکسپرٹ یہ سارے معاملات آتے ہیں ۔ اگر کوئی زناکاری کا ہے تو اس میں ڈی این اے ٹیسٹ بڑا معاملہ کرتا ہے یہ سارے وہ معاملات ہیں جو تفتیش کا حصہ ہیں ۔ اب یہاں پے غلط العام ایک مثال چلتی ہے ہمارے اس پروفیشن کے حوالے سے کہ جی تفتیشی نے مقدمہ خارج کردیا ہے ۔ بھئی تفتیشی مقدمہ خارج نہیں کرسکتا تفتیشی کا کام یہ ہے کہ وہ تفتیش کرئے ثبوپ اکٹھے کرئے اس ثبوت کی روشنی میں اس کو تصدیق کرئے اس کو کالعدم کرئے اس کو ریبٹ کرئے اس کو جمع کرئے جو بھی صورت حال ہے اس کی تفتیش یہ ہے عدالتیں تو یہ کہتی ہیں کہ تفتیشی آفسر کی رائے بھی نہیں دے سکتا کہ فلاں گناہگار ہے فلاں بے گناہ ہے ۔ تفتیشی آفسر کا یہ ثبوت جمع کئے اور چشم دید ثبوت کی تحقیقات کرو نتیجہ عدالت نکالے کہ کون بے گناہ ہے کون گناہگار ہے لیکن کیونکہ غلط و العام چل رہا ہے تفتیشی اپنا یہ رائے دے دیتا ہے کہ میری تفتیش میں یہ گناہ گا ر ہے یا بے گنا ہے ۔ اب مقدمہ آیا کہاں سے ہوتا ہے ایس ایچ او ایف آئی آر درج کرنے کے بعد تفتیشی ونگ کو بجھواتا ہے اب تفتیشی ونگ میں تفتیش مکمل ہونے کے بعد دوبارہ ایس ایچ اوکے پاس جائے گا جب دوبارہ ایس ایچ او کے پاس جائے گا تو ایس ایچ اوتمام مثل کو دیکھے گا تمام مثل کو دیکھنے کے بعد اس میں جو کمیاں ہیں یا کوئی غیر قانونی اقدامات ہیں ان کی بابت اعتراض لگائے گاپھر اس کو بجھوائے گا جو کہ ایسا ہوتا نہیں ہے آپ کو سیدھی سی بات بتا دیں ۔ تفتیشی آفسر ایس ایچ او کی چلانی ذمنی جس ذمنی کے بعد چالان مرتب ہوتا ہے وہ ایس ایچ او لکھتا ہے تفتیشی آفسر چالانی ذمنی بھی خود لکھ کے نیچے ایس ایچ او کا نام لکھ کے شروع ایس ایچ او کا نام سے کرکے وہ ایس ایچ اوکو دے دیتا ہے وہ تفتیشی آفسر 173 کی رپورٹ بھی خود ہی فارمولیٹ کرتا ہے اس کے نیچے صرف ایس ایچ او کے سائن ہوتے ہیں وہ کرکے آگے ڈی ایس پی کو بجھوادی جاتی ہے ڈی ایس پی سے ایس ایس پی کوایس ایس پی سے استغاثہ کواستغاثہ آگے عدالت میں پیش کردیتی ہے ۔ تفتیشی آفسر مقدمہ خارج نہیں کرسکتا ۔ اخراج رپورٹ بنانے کا اختیار صرف ایس ایچ او کے پاس ہے پھر یہی نہیں کہ ایس ایچ او نے اخراج رپورٹ بنا دی تو مقدمہ خارج ہوگیا ۔ اخراج رپورٹ ایس ایچ او بنائے گا بنا کے اپنے بڑے افسر ڈی ایس پی یا ایس ایس پی کو بجھوائے گا ۔ وہ اس کو پڑھے گا متمعین ہوگا کہ اخراج رپورٹ درست بنی ہے پھر وہ آگے استغاثہ کو آگے کرئے گا استغاثہ اس کو پیش کرئے گی اخراج رپورٹ کو مجسٹریٹ کے پاس مجسٹریٹ اس کے ساتھ اگر متفق کرئے گا تو وہ مقدمہ خارج ہوجائے گا اور اگر متفق نہیں کرئے گا تو وہ اس کو بطور چالان جمع کرکے ملزمان کو طلب کر لے گا ۔ اُمید کرتا ہوں کہ میں نے تفتیش میں کچھ روشنی ڈالی جو آپ کے لئے مفید ہوگی ۔














Leave a comment