تفتیش(3)
Admin
10:37 AM | 2020-01-06
اب آپ کا قانونی حق ہے کہ آپ کا بیان ریکارڈ ہو آپ کا قانونی حق ہے کہ آپ اپنے گواہان کا بیان ریکارڈ کروائیں ۔ آپ کا قانونی حق ہے کہ آپ سی ڈی آر نکلوائیں کا ل ڈیٹا ریکارڈاگر وہ یہ نہیں کرتا تو22 اے سی آر پی سی کے تحت عدالت کا دروازہ کھٹکھٹائیں کہ یہ میرا بیان ہے یہ میرے گواہان کے بیانات ہیں یہ میری درخواست ہے کہ جناب سی ڈی آر نکلوائیں تفتیشی افسر یہ سارے کام نہیں کررہا عدالت اس کو بلا لے گی وہ کہیں گی ہاں بھئی بتاءو یہ دستاویزتمھاری صفحہ مثل پے موجود ہے وہ کہے گا جی یہ آیا ہی نہیں عدالت نے کہنا ہے یہ لو ابھی پکڑو آگئے سی ڈی آر نکلوائی جی انھوں نے کہا
نہیں عدالت نے کہنا ہے تمہاری ذمہ داری ہے یہ کیوں آئیں تمہارے پاس سی ڈی آر نکلوانے کیلئے تم تفتیش کس چیز کی کر رہے ہو ؟جب اس کے بیان میں آگیا کہ میں موقعے پر موجود نہیں تھا تواس کے فون کی سی ڈی آر نکلواءو تم اور تفتیش کیا کرنی ہے؟ اگر ایک بندہ کہتا ہے کہ میں موقعے پر ہی نہیں ہوں میرے پے یہ الزام جھوٹے ہیں یہ میری سابقہ دشمنی ہے جس کی بنیاد پے میرا نام دے دیا گیا ہے یہ بندہ جس کے ساتھ وقوعہ ہوا یہ دشمن دار آدمی ہے اس کا ایک نہیں اس کے بیسیوں دشمن ہیں پتا نہیں کس دشمن نے اس کے اوپر وار کردیا ۔ اس نے حالیہ دشمنی کو جو ہے نہ وہ اس کے ساتھ ملنے کے لئے میرا نام دے دیا مجھے بلیک میل کرنے کے لئے یہ تدارک ہے کہ اگر نہیں کیا جائے تو آپ نے کیا کرنا ہے؟ اب کورٹ کے حالیہ ویو کوکورٹ کے وقت جو چل رہاہے اس کے ویو کوکیونکہ کورٹ کا ویو بناتا ہے معاشرہ، کورٹ کا ویو بناتا ہے معاشرتی بگاڑ، کورٹ کا ویو بنا تا ہے جو کسٹم اوراس وقت استعمال کر رہی ہوتی ہے کورٹ کا ویو ٹائم ٹو ٹائم چینج ہوتا ہے یہ ذہن میں رکھئے گا ۔ آج کل کورٹ کا ویو کیا چل رہا ہے؟تفتیش کے حوالے سے رجسٹریشن ۔ اب کورٹ کے حالیہ ویو کوکورٹ کے وقت جو چل رہاہے اس کے ویو کوکیونکہ کورٹ کا ویو بناتا ہے معاشرہ، کورٹ کا ویو بناتا ہے معاشرتی بگاڑ، کورٹ کا ویو بنا تا ہے جو کسٹم اوراس وقت اس کا استعمال کر رہی ہوتی ہے کورٹ کا ویو ٹائم ٹو ٹائم چینج ہوتا ہے یہ ذہن میں رکھئے گا ۔ آج کل کورٹ کا ویو کیا چل رہا ہے تفتیش کے حوالے سے ایف آئی آر کی رجسٹریشن کے حوالے سے کورٹ کہتی ہے کہ ایک وقوعہ ہوا جرم سرزد ہواقتل ہوا ۔ اب معاشرتی طور پر یہ بات ہر ایک آدمی کو پتا ہے کہ چھ بجے شام کو قتل ہوا ایف آئی آر درج ہورہی ہے 6:45منٹ پے شام کوفوری طور پر ایف آئی آر اور پوسٹ مارٹم ہورہا ہے اگلے دن صبح دس بجے ۔ کورٹ کہتی ہے کہ ایف آئی آر کے مطابق جو چھ بجے وقوعہ ہوا وہ 6:45منٹ پے ریکارڈ ہوگیاہسپتال کے پیپر کہتے ہیں کہ سات بجے مردہ جسم حاصل ہوگیا انھیں شام کو وقوعے کے دو گھنٹے بعدیا وقوعے کے ایک گھنٹے بعد اب پوسٹ مارٹم ہوتا ہے اگلے دن دس بجے کورٹ کہتی ہے یہ کیا چیز ہے؟ کیونکہ ہر بندہ جانتا ہے کہ جب قتل ہوتا ہے توروزنامچہ روک دیا جاتا ہے روزنامچے کو روک دیا جاتا ہے کہ جب تک یہ مقدمہ 302 کا درج نہیں ہوگا جب تک روزنامچہ رک جائے گا ۔ روزنامچے میں کسی بھی چیز کا اندراج نہیں کرتا ایس ایچ او بلا لیتا ہے سارے مدعیوں کو مدعی پارٹی کو بلا لیتا ہے سب کو کہتا ہے سر جوڑ کے اکٹھے ہوجاءو کس کو شامل کرنا ہے کس کس کو نہیں کرنا وقوعہ ختم ہوجاتا ہے وقوعہ بھول جاتے ہیں ۔ بندے کو دوہڑاتے ہیں جاءو ہسپتال میں دیکھ کے آءو کہا ں کہاں فائر لگا وہ آکے بتاتا ہے جی اس کی کمر میں لگا اس کی چھاتی پے لگا اس کی ٹانگ میں لگا اس کی بازو پے لگا یہ یہ وہ سارا یہ تفصیل بنا کے لے آتا ہے پھر اس کی روشنی میں سر جوڑ کے بیٹھ جاتے ہیں ۔ اچھا اشرف نے زمین کسی اور کو بیچ دی تھی مجھے نہیں بیچی رکھو اشرف کو بھی اس کابھائی وکیل ہے تنگ کرئے گا اس کو بھی رکھومیدے نے میرے کہنے پے میرے بال نہیں کاٹے تھے اس کو بھی رکھو بالکل مصنوعی واقعہ کو کر لیتے ہیں حقیقت پردوں میں چھپ جاتی ہے وہ کیسے مرا کس نے مارا وہ سب پردوں میں چھپ جاتا ہے اور بعد میں الزام ہوتا ہے عدالتوں کو کہ جی عدالتیں بندہ چھوڑ دیتی ہیں جب آپ حقیقت نہیں بیان کریں گے تو بندہ تو چھوٹنا ہے بے گنا ہ بندے کو تو نہیں پھانسی چڑھایا جاسکتا قانون کی دنیا میں تو یہ مقولہ عام ہے کہ دس ہزار گناہگار بندے چھوڑنے پڑیں ایک بے گناہ کوچھوڑنے کے لئے تو چھوڑ دو لیکن یہ نہیں ہوسکتاکہ ایک بے گناہ بندے کو چھوڑنے کے لئے دس ہزار بندے چھوڑ دیئے جائیں لیکن دس ہزاربے گناہوں کو سزا دینے کے لئے ایک بے گناہ کو بھی سزا دے دی جائے ایسا نہیں ہوتا ۔ اب عدالتوں کا ویو یہ ہے کہ یہ جو سات بجے سے لے کے اگلے دس بجے تک پندرہ گھنٹے کادیر سے آیا پندرہ گھنٹے تک ایف آئی آر درج نہیں ہوئی اس کی وجہ پوسٹ مارٹم رپورٹ ہے کیونکہ پوسٹ مارٹم رپورٹ میں لکھا جاتا ہے کہ مردہ جسم کب وصول ہوئی؟ سات بجے اب پولیس پیپر کب وصول ہوئے اگلے دن صبح نو بجے جب یہ سارے معاملات یہ معاشرہ ہے عدالتیں کوئی مصنوعی شخص نہیں ہیں عدالتوں میں بھی گوشت پوست کے انسان اسی معاشرے میں پلے بڑھے انسان بیٹھے ہوئے ہیں بطورجج وہ بھی وکالت کرکے مقدمات کرکے پھر جج بنتے ہیں ان کو بھی پتا ہوتا ہے کہ معاشرے میں کیا چل رہا ہے بڑی تنقید کہ جی اس تکنیکی نقطہ پے بندے چھوڑ دیئے جاتے ہیں بھئی اس تکنیکی نقطے پے آپ مجھے ایک بات بتا دیں جس بلڈنگ کی کوئی بنیاد ہی نہیں ہے کیا نیوں کے بغیر کوئی عمارت کھڑی ہوسکتی ہے دس منزلہ عمارت بنانے کاپلان ہے نیوں اس کی ہے نہیں آپ تیسری منزل پے پہنچے گے عمارت دھڑم سے گر جائے گی کیونکہ اس کی بنیا د ہی نہیں ہے ۔ جو بنیاد آپ بنانے جارہے ہیں اس کا حقیقت کے ساتھ اگر وجود ہی کوئی نہیں ہے توپھر اس کا خمیازہ بھگتنا پڑتا ہے ۔ آجکل عدالتیں اس ویو کی ہیں کہ اگرپوسٹ مارٹم اور ایف آئی آر میں بغیر کسی وجہ کے دیر ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ایف آئی آر سچی نہیں ۔ آپ مجھے ایمانداری سے بتا دیں اگر مقدمہ سچا ہو اے، بی، سی ایک جگہ پے بیٹھے ہوئے ہیں ایکس، وائے ، زی مصلحہ ہوکے آئے آنے کے بعد ہاتھوں میں پسٹل تھے ، ہتھیار تھے، چاقو تھے چھری تھی جو بھی تھا آکے انھوں نے اے کو جان سے مار دیا اور موقع سے بھاگ گئے اس واقعے کو لکھانے کے لئے آپ کو کتنا وقت درکار ہے ؟گلی میں تھڑے پے تین بندے بیٹھے ہوئے تھے ہم مشرق کی جانب سے گلی میں موٹر سائیکل پے تین بندے داخل ہوئے آیا ایک اترا اس نے اے پے فائر کئے اور پھر واپس اسی راستے میں بھاگ گئے اگر آپ یہ ایف آئی آر لکھوادیں اور جو دو بندے بچیں ہیں جو گواہ ہے موقعے کے میرا دعویٰ ہے کہ ان کو پچاس سال بعد بھی انکو کہا جائے کہ اس واقعے کو بیان کرو وہ ایسے کریں گے ۔ یہاں پے ہم ڈھائی صفحے کا واقعہ بیان کردیتے ہیں بیان نہیں کرتے ہم بناتے ہیں پھر ہ میں ٹرائل شروع ہوتا ہے شہادتیں شروع ہوتی ہیں تو ہ میں وقت پڑا ہوتا ہے جناب یہ نہیں تھا یہ تھا یہ نہیں تھا یہ تھا اب وہ طوطے کی طرح کیسے رٹے گواہ ، گواہ تو عام آدمی ہے وہ گواہ لکھا ہوا بیان نہیں کرپاتا کیونکہ لکھا ہوا ہوا ہی نہیں جو ہوا ہے وہ آپ نے بیان نہیں کیا ۔ فوجداری وکیل جوہے وہ انہی معاملات کو انہی سلسلہ کار کو ذہن میں رکھ کے استغاثہ کے ثبوت کو اُڑا کے رکھ دیتا ہے ۔ روزنامچہ اہم دستاویزہے، رجسٹر نمبر 19 اہم دستاویز ہے، ایف آئی آر اہم دستاویزہے، پوسٹ مارٹم رپورٹ دستاویزہے یہ میں قتل کے مقدمے کی بات کر رہا ہوں اگرزخمی ہوا تو میڈیکل اہم دستاویزہے ۔ یہ مجھے بار بار کہا جارہا کے تفتیش، تفتیش پے تو میں روزانہ تین گھنٹے بھی آپ کو لیکچر دینا شروع کر دو تو میں سمجھوں گا کہ میں نے آپ کو 10فیصدبتایا ہے ہر کیس میں معاملات آتے ہیں لیکن لُب لباب یہ ہے کہ اگر آپ بے گنا ہ ہیں تو آپ نے اپنی بے گناہی ثابت کرنے کے لئے بیشک وہ کمزور ثبوت ہے بیشک وہ مضبوط ثبوت ہے آپ نے تمام ثبوت دینی ہے اور اگر تفتیشی افسر نہیں لیتا تو عدالت کے ذریعے صفحہ مثل کا حصہ بنوائیں اور اگر آپ مدعی ہیں اور آپ سچے ہیں لیکن پولیس ملزمان کو فائدہ پہنچا رہی ہے تو بطور مدعی بطور مستغیص آپ نے وہ تمام حربے اختیار کرنے ہیں قانونی جو آپ کو دستیاب ہیں ۔ اب اس میں ریکوریز کا آجاتا ہے اب اتنا بھونڈا سٹائل ہے پولیس والوں کا اتنابھونڈا سٹائل ہے پولیس والوں کا اٹھارہ سال ہوگئے ہیں یہ چیزیں دیکھتے ہوئے پولیس نہیں اپنا یہ سٹائل بدلتی بھئی پہلی بات تو یہ ہے کہ ایک بندے نے تین ماہ پہلے قتل کیا ہے وہ پسٹل سنبھال کے رکھے گا کہ میں نے تین ماہ بعد گرفتار ہونا ہے اور پسٹل نکلا ل کے دینا ہے عدالتیں اس چیز کی تعریف کررہی ہیں اب کہ ریکوری معاملہ نہیں کرتی ۔ اب پولیس والا کیا کرئے گا جی پہلی بات تو یہ ہے کہ اس کی گرفتاری کو شک میں کردے گا ایسی وہ پرانی حقائق جو چلی آرہی ہے مخبر خاص نے اطلاع دی فلاں فلاں اڈے پر ملزم جو ہے وہ کھڑا ہے اس کو اگر ریٹ کیا جائے تو پکڑا جاسکتا ہے مخبر کی اطلاع پر ہم فلاں فلاں اڈے پے گئے جا کے اس کو دبوچ لیا اس کی جیب سے جو ہے پسٹل برآمد اس کے دب میں لگا ہوا بھئی دب پے لگا ہوا جوہے نہ پسٹل برآمد ہوگیا ۔ بندہ پوچھے ایک بندہ شلوار قمیض میں ہے اس کے نیفے میں کیسے پسٹل آسکتا ہے میں نے آج تک نہیں دیکھا کہ وہ جو پورا کیس ہوتا ہے اس میں پسٹل لگتا ہے کبھی مال مقدمے کے طور پر وہ سارا پیش کیا گیا ہو ننگا ایک پسٹل جو ہے نہ وہ کپڑے میں لپیٹ کے پیش کردیتے ہیں کہ جناب یہ برآمد ہوا ہے ۔ بندہ پوچھے و ہ شلوار کے نیفے میں وہ پسٹل جو ہے وہ آدھا کلو تین پاءو جو پسٹل ہے وہ کیسے ٹھہر سکتا ہے اور کیسے سمجھ سے بالا تر ہے اور مزیداری کی یہ بات ہوتی ہے کہ گرفتار کر کے لے آتے ہیں نہ اس کی جیب سے پیسہ نکلتا ہے نہ اس کی جیب سے شناختی کارڈ نکلتا ہے نہ اس کی جیب سے موبائل فون نکلتا ہے اب اس کو گرفتار کرلیتے ہیں اور مزیداری کی ایک اور بات بتادیں کہ جس دن کی گرفتاری ڈالی ہوتی ہے روزنامچے میں اس کا ذکر ہی نہیں ہوتا اسلئے میں کہتا ہوں روزنامچہ پڑھنا چاہیے کسی بھی فوجداری وکیل کو روزنامچے پے فوکس کرنا چاہیے ۔














Leave a comment