تفتیش(2)
Admin
10:50 AM | 2019-12-30
تفتیش پے میں نے آپ کوایک لیکچر دیا جو تفتیش کا حصہ اول تھا آج میں دوسرا بتاتا ہوں کہ نصیحت کی حقیقت کہ مقدمہ درج ہونے کے بعدتفتیش شروع ہوتی ہے اب مدعی جس کو فوجداری زبان میں مستغیص بھی کہتے ہیں مدعی یا مستغیص یہ ایک پارٹی ہوتی ہے اور ملزمان ایک پارٹی ہوتی ہے ۔ اب یہ اپنے مافیوزضمیر میں یہ بات بٹھا لیں کہ اگر اے نے بطور مستغیص ایک مقدمہ درج رجسٹر کروایا ہے بی اینڈ سی کے خلاف تو یہ لازمی نہیں ہے کہ اے تمام ذمہ داریوں سے عہدہ براں ہوگیا اور اب ملزمان ہی ہیں جنھوں نے اپنی صفائی دینی ہے ۔ ملزمان کے ذہن میں ایک چیز اس معاشرے میں اس پولیس ڈیپارٹمنٹ نے بیٹھا دی
وئی ہے کہ آپ ملزم ہیں تو ملزم ہی رہنا ہے ایسا نہیں ہوتا کہیں شریراور بڑے شروڈ قسم کے قانونی چارہ جوئی ہوتے ہیں کہ جرم بھی انھوں نے کیا ہوتا ہے اور مقدمہ بھی وہی درج رجسٹر کروا رہے ہوتے ہیں اور مقدمہ جو درج رجسٹرجس کے اوپر کروارہے ہوتے ہیں اصل میں مظلوم وہ ہوتا ہے تو یہ بات اپنے ذہن میں بیٹھا لیں کہ دوران تفتیش اگر آپ نے ہر حقیقت تفتیشی افسر کو بتا دیا ہے توتفتیشی افسر ڈیوٹی باءونڈ ہے کہ جب اس کے سامنے سارے حقائق آجائیں تو ان حقائق کی روشنی میں مدعی ملزم بنتا ہے ملزمان مدعی بنتے ہیں تو تفتیشی افسر ان ملزمان کو مدعی کی فہرست میں لے کے آئے گا اور مدعی کو ملزم کی فہرست میں لے کے آئے گا ۔ دوسری بات اگر تفتیشی افسر نہیں مانتا تو کورٹ یہ کرسکتی ہے اسلئے اگر آپ مظلوم ہیں اور آپ کو کسی نے ملزم بنا دیا ہے تو آپ نے مناسب طریقے سے تفتیش میں شامل کرنی ہے اگر آپ گھر سے ہارے ہوئے جائیں گے ، اگر آپ مایوسانہ سوچے علاقہ کی بڑوں کی لے کے جائیں گے کہ بھئی اب آپ پھس گئے ہو اب آپ نے پولیس والے کے ساتھ ہاتھ ملا کر ہی معاملات کوسیدھا کرنا ہے تو پھر اس کا کوئی حل نہیں ہے آپ یہ سوچ کے تفتیش میں اپنا ہاتھ نرم رکھیں کہ پولیس والے نے کہا چھوڑ دوں گا کوئی حل نہیں ہے قانون کی کتاب کوئی آپ کو حل نہیں دیتی حل کب دیتی ہے آپ اپنا بھرپور دفاع کریں آپ ہر چیز صفحہ مثل پے لے کے آئیں آپ بے گناہیں آپ نے ہر چیز صفحہ مثل میں لے آئی تفتیشی افسر نہیں مانتا تفتیشی افسر نہیں مانتاتو قانون کیا کہتا ہے؟ قانون کہتا ہے کہ جب فائل چالان کی شکل میں عدالت کے سامنے آئے گی تو عدالت پولیس کے کہے کی پابند نہیں ہے پولیس کے مقدمے میں عدالتوں کا پابند نہ ہوناہے پولیس کا کہا پابند نہیں ہے عدالت کہ وہ مانے گی میں یہ نہیں کہہ رہا کہ پولیس کا کہا عدالت مانے گی نہیں عدالت پابند نہیں ہے عدالت تمام فائل کو دیکھے گی تمام شواہد کو جانچے گی جانچنے کے بعد دیکھے گی کہ پولیس نے اگر بیگناہ کیا ہے درست کیا ٹھیک ہے پولیس نے اگر بے گناہ کیا غلط کیا تو وہ اس کو گناہگار کی شکل میں بلالے گی اور اگر پولیس نے گناہگار لکھا ہے غلط لکھا ہے تو عدالت جانچنے کے بعد اس کو بے گناہ کردے گی ہم اس گرداب میں پھس جاتے ہیں کہ پولیس نے جو کہا وہ عدالت نے ماننا ہے بھئی پولیس نے جو کہا اگر تو اس کے پیچھے کوئی مٹیریل ہے جو صفحہ مثل پر موجود ہے تو پھر تو عدالتیں مانیں گی لیکن اگر آپ کہہ رہے ہیں جو الزام آپ پے لگائی گئی ہے آپ اس کو کالعدم کررہے ہیں دستاویزی ثبوت کے ذریعے تو پولیس پھر آپ کو گناہگار لکھ رہی ہے تو پھر عدالتیں نہیں اسکو مانے گی عدالتیں آپ کو بے گنا ہ ہی تصور کرئے گی ۔ عدالتیں اس میں بدنیتی پولیس کی ہی تصور کرئے گی عدالتیں اس میں بدنیتی مدعی کی ہی تصور رکرئے گی ۔ فرض کریں اب آپ کے اوپر الزام ہے کہ مدعی کہتا ہے کہ میں فلاں وقت، فلاں دن ، فلاں مہینے، فلاں سال ہمراہ گواہان موجود تھا کہ آٹھ بجے ملزمان اے، بی، سی اور آپ آئے انھوں نے فائرنگ کی اس فائرنگ کے نتیجے میں مجھے اور گواہان کو فائر لگے اور یہ موقعے سے دھمکیاں دیتے ہوئے فرار ہوگئے اب آپ کو نامزد کردیا گیا مخصوص نام کے ساتھ کہ آپ موقع پر اس وقت آئے آپ مصلحہ تھے آپ نے فائر نگ کی آپ کا فائر مدعی کو یا اس کے گواہ کو لگا یہ ایک مخصوص الزام ہے ۔ اب تفتیش ہوتی ہے تفتیش کے آخر میں پولیس فرض کریں پولیس لکھ دیتی ہے کہ آپ اس کی تفتیش کے مطابق گناہگار پائے گئے ہیں ٹھیک ہوگیا اب اگر آپ نے اب جو بتانے لگا ہوں یہ سارا کچھ تفتیشی افسر کومہیاکیا ہوا ہے اور وہ صفحہ مثل کا حصہ ہے تو یہ گناہگاری ڈسٹ بین جج میں ڈال دے گا عدالت اس کو ڈسٹ بیں میں پھینک دے گی عدالت بلکہ لکھے گی کہ یہ تفتیشی افسر کی بدنیتی ہے مستغیص اس کے ساتھ مل گیا ہے اور آپ کو غلط گناہ گار قرار دیا ہے کیا چیزیں سب سے پہلے عدم موجودگی آپ اس کو اپنے بیان میں باقاعدہ طور پے کہتے ہیں کہ میں اس وقت، اس دن، اس مہینے، اس سال میں اس جگہ پر گیا ہی نہیں تھا اب یہ کہہ دینا کافی نہیں ہے کہ میں گیا ہی نہیں تھا میں اس وقت کہاں تھا وہ آپ اپنے بیان میں لکھتے ہیں کہ میں اس وقت فلاں جگہ پر تھا اور فلاں جگہ لکھنا کافی نہیں ہے فلاں جگہ پر فلاں فلاں بندوں کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا یہ جھوٹ بولتے ہیں اب یہاں پے بھی آپ کا کام نہیں رکتا اس کے ساتھ آپ نے وہ فلاں فلاں بندوں کے بیان حلفی دینے ہیں کہ ہاں جی یہ اس وقت تو ہمارے ساتھ موجود تھا اب یہاں پے بھی کام نہیں رکتا اب آپ اپنا فون نمبر دیں پولیس والے کو کہ میرا فون کا کال ڈیٹا ریکارڈ نکلوائیں سی ڈی آر نکلوائیں وہ کال ڈیٹا ریکارڈ نکلوایا جاتا ہے اور اس میں یہ پایا جاتا ہے کہ اس وقت اس موبائل جو کہ آپ کا ملکیتی ہے آپ کے تحت چلتا ہے، آپ اس کو مسلسل استعمال کررہے ہیں تینوں باتیں میں بتا رہا ہوں غور سے سنیئے گا ۔ 1- آپ اسے استعمال کررہے ہیں 2- آپ کا ملکیتی ہے آپ کے قبضے میں ہے 3- وہ موبائل اس وقت جائے وقوعہ کی رینج میں نہیں تھا جہاں پے وقوعہ سرزد ہوا جہاں پے ان کو فائر لگے وہاں پے نہیں وہ کسی اور جگہ دیکھا رہا ہوتاہے ۔ اب آپ نے اپنی عدم موجودگی آپ نے بتا دی کہ میں ادھر نہیں تھا میں فلاں جگہ پے تھا فلاں بندوں کے ساتھ تھا فلاں بندوں کے بیان حلفی آگئے آپ نے سی ڈی آر نکلوالی اب یہ ساری چیزوں کو ریبٹ کرنے کے لئے اس صفحہ مثل میں کچھ ہونا چاہیے ۔ فائل پے ان ساری چیزوں کو ریبٹ کرنے کے لئے کچھ ہونا چاہیے اگر ریبٹل میں اس کو ثابت کرنے کے لئے کوئی مواد کو ئی دستاویزصفحہ مثل کا حصہ نہیں ہے تو تفتیشی افسرکے پاس کوئی راستہ نہیں ہے کہ وہ آپکو بے گناہ کہے صرف وہ بے گنا ہ ہوسکتا ہے کیوں کہ مستغیص کا اپنا بیان ہے کہ آپ موقع پر آئے، مستغیص کا اپنا بیان ہے کہ آپ مصلحہ تھے، مستغیص کا اپنا بیان ہے کہ آپ نے فائر کئے، مستغیص کا اپنا بیان ہے کہ آپ کے کئے ہوئے فائر فلاں کو لگے ۔ اب مستغیص اتنا اعتماد ہے کہ آپ موقع پر آئے، آپ نے یہ سارا کچھ کیا تو پھر یہ چیز اس نے ثابت کرنی ہے جب آپ کا دفاع آگیا ۔ آپ کا دفاع آگیا تو اس نے ثابت کرنی ہے کہ جناب یہ دفاع غلط ہے اگر مستغیص اس کو ثابت نہیں کرپات کہ یہ دفاع غلط ہے تو پھر آپ بے گناہ ہیں جھجکئے مت، سوچیئے مت تفتیش میں بے گناہ بندے کو بے گنا ہی ثابت کرنے کے لئے بم بارمنٹ کرنی پڑتی ہے اور مسلسل کرنی پڑتی ہے اگر آپ سکون کے ساتھ بیٹھ گئے یا آپ نے ہلکے لے لیا تو پھر آپ رگڑے میں آگئے ۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بہت سے لوگ جو سن رہے ہیں اس کو وہ کہیں گے کہ وکیل صاحب ہم بیان لے کے جاتے ہیں وہ بیان نہ ریکارڈ کرئے ۔ ہم گواہوں کے بیان حلفی لے کے جاتے ہیں وہ بیان حلفی نہ لے، ہم کہتے ہیں سی ڈی آر نکلوالیں وہ نہ نکلوائے تو ہمارے ثبوت تو رہ گئے ہوا میں ہاں بالکل رہ گئے ہوا میں لیکن بھئی ہر چیز کا کوئی نہ کوئی توڑ ہوتا ہے ۔ اگر فرما دیا گیا کہ اس دنیا میں کوئی بیماری ایسی ہے ہی نہیں کہ جس کا رب تعالیٰ کی ذات نے علاج نہ پیدا کیا ہو تو پھرقانون کی دنیا میں کوئی ایسا فیکٹ جو کہ آپ قانونی طور پر کرنے کے حقدار ہو ں قانون کی دنیا میں اس کا تدارک موجود ہے اگر وہ آپ کا حق تسلیم نہیں کیا جاتا ۔ آپ کا بیان نہیں لکھاجاتا، آپ کے گواہان کے بیانات نہیں لکھے جاتے، آپ کی سی ڈی آر نہیں نکلوائی جاتی بھئی آپ اگر نہیں لگائی جاتی تو آپ سر پکڑ کر گھر بیٹھ جائیں گے تو پھر تو آپ گناہگار ہوجائیں گے ۔ اس کے لئے آپ نے دروازاہ کھٹکھٹانا ہے عدالت کاسیکشن 22 اے، سیکشن 22 بی سی آر پی سی ، 22اے سی آر پی سی ضابطہ فوجداری سب سیکشن6 سی کیا کہتی ہے؟ وہ کہتی ہے کہ ہر منصافانہ اور غیر جانبدارانہ کام قانونی طور پر پولیس آفیشل خواہ وہ تفتیشی آفیسر ہو خواہ وہ ایس ایچ اوہو، خواہ وہ انتظامیہ میں ہو، خواہ وہ تفتیش میں ہو وہ کرنے کا پابند ہے ۔ کوئی ناکامی اس کے حصے میں نہیں ہونا چاہیے کوئی غفلت برتے اس کے حصے میں نہیں ہونا چاہیے ۔














Leave a comment