تفتیش(1)
Admin
10:44 AM | 2019-12-30
سوال: کچھ سائل نے سوال کیا ہے کہ مقدمہ درج ہونے سے تفتیش کے مراحل اس کے بارے میں بھی ایک لیکچر دے دیں ۔ میں نے آپ کو بتایاکہ 154 کے تحت مقدمہ درج رجسٹر ہوتا ہے قابل دست اندازی جرائم کا اب قابل دست اندازی جرائم کیا ہیں ؟ اور نا قابل دست اندازی جرائم کیا ہیں ؟ حل: قابل دست اندازی لفظ سے ہی آپ کو پتا لگ جانا چاہیے کہ ایسے جرم جس کی درجہ بندی پاکستان پینل کورٹ تعزیرات پاکستان میں کی گئی ہے کہ جس جرم کے سرزد ہونے کے بعد تفتیشی آفیسر کو یا پولیس آفیسر کو آفیشل کو یہ اختیار ہو کہ وہ بغیر وارنٹ گرفتاری متعلقہ مجسٹریٹ سے حاصل کئے بغیر کسی ملزم کو گرفتا ر کر سکتا ہ
ے اس کو قابل دست اندازی جرم کہتے ہیں ۔ اب قابل دست اندازی جرم کی رپورٹ 154 ضابطہ فوجداری کے تحت پولیس درج رجسٹر کرئے گی ۔ اب یہاں پے سوال آتا ہے کہ قابل دست اندازی کا تو آگیا اب ناقابل دست اندازی جرم جو ہے اس کی رپورٹ اس کا مقدمہ کس دفعہ کے تحت اور کیسے درج رجسٹرہوگا ۔ اب جو نا قابل دست اندازی جرم ہے اس کے تحت 154 کے بعد سیکشن آتا ہے 155 ، 155کے تحت وہ مقدمہ بھی درج رجسٹر ہوگا وہ بھی ایف آئی آر ہی کہلائے گی لیکن وہ 155کے تحت درج رجسٹر ہوگی جو قابل دست اندازی جرائم ہیں اس کے بارے میں 154 کے تحت درج رجسٹر ہوگی کہلائے گی وہ بھی ایف آئی آر لیکن رجسٹریشن میں فرق ہے ۔ جب کبھی کوئی پولیس آفیسرایک ایسے جرم کے سرزد ہونے کی اطلاع پاتا ہے جوکہ ناقابل دست اندازی جرم ہے تو وہ اس رپورٹ کو اس اطلاع کو ایک رجسٹر میں لکھے گا جو مخصوص بنا ہوتا ہے اس کام کے لئے جیسے 154 کا رجسٹر ہوتا ہے ویسے ہی ایک علیحدہ رجسٹر بنا ہوتا ہے ا س میں وہ ساری اطلاع جو ہے وہ اس میں لکھے گا اوراس اطلاع نامے کی اطلاع اس جرم ناقابل دست اندازی جرم کی اطلاع جو ہے وہ مجسٹریٹ صاحب کو دے گا ۔ اب اس کی تفتیش کے دوران وہ کسی ملزم کو گرفتار نہیں کرسکتا ناقابل دست اندازی جرائم کی بات کررہا ہوں جب تک کے وہ تحریری گرفتاری نامہ اس مخصوص ملزم اس نامزد ملزم کی گرفتاری کا انتباہ وہ ایریا مجسٹریٹ سے نہیں لے گا علاقہ جوڈیشل مجسٹریٹ سے نہیں لے گا وہ وارنٹ گرفتاری جاری نہیں کروائے گا وہ اس کو گرفتار نہیں کرسکتا ۔ اب یہ دونو ں فارمیشن آپ کو سمجھ لگ گئی کہ قابل دست اندازی جرائم میں 154 کے تحت اورنا قابل دست اندازی جرائم میں 155کے تحت یہ معاملات ہونگے ۔ اب آگیا آگے تفتیش کا مرحلہ اب جو قابل دست اندازی مقدمے ہے قابل دست اندازی جرم کا جو مقدمہ ہے اس کی تفتیش 156 کے تحت ہوگی اس میں پولیس کو گرفتار کرنے کا بھی پورا اختیار حاصل ہے بغیر کسی وارنٹ کے اس میں فزیکل ریمانڈ بھی وہ لے گا اس میں مکمل تفتیش کرئے گا مکمل تفتیش کرنے کے بعد اپنی فائنڈنگ دے گا گناہ گاری کی یا بے گناہی کی ۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر تفتیشی آفسر کے پاس تفتیش ایک قابل دست اندازی جرم کی آجاتی ہے تو کیا وہ اگرسمجھتا ہے کہ اس کو شک ہے کہ جیسے یہ جرم بیان کیا گیا ہے وہ جرم ہوا نہیں تو پھر 157 محرک ہوتی ہے وہ فوری طور پر اس کی اطلاع مجسٹریٹ کو دے گا کہ میں فرق کررہا ہوں اس مقدمے کی تفتیش کو کیونکہ مجھے قابل دست اندازی جرائم کی کمیشن میں شبہات ہیں یا تو یہ وقوعہ ہوا ہی نہیں یا جس طرح کہا جارہا ہے ویسے نہیں ہوا اور خاص طور پر جن پے الزام لگایا جارہا ہے انھوں نے نہیں کیا معطلی تخلیق ہوگیا کہ یہ جرم سرزد نہیں ہوا وہ طریقہ کار جہاں قابل دست اندازی جرم کا شعبہ ہو فوری طورپر اطلاع مجسٹریٹ کو اب کچھ خصوصی جرائم ہیں جس کے بارے میں اگر رپورٹ کروائی جائے اور ایف آئی آر درج ہو تو 156 کے تحت اس کی تفتیش نہیں ہوسکتی ۔ ان جرائم میں توہین رسالت کے جرائم ہیں ۔ توہین رسالت کے جرائم جوہیں خاص طور پر 295 سی پی پی سی اس میں بقاعدہ طورپر ایک ٹیم بنائی جائے گی ۔ تفتیشی آفیسرز کی اور اگر ٹیم نہیں بنے گی تو ایک آفیسر ہی اس کی تفتیش کرئے گا تو اس کا رینک ایس پی سپرٹنڈنٹ آف پولیس سے کم نہیں ہوگا ۔ توہین رسالت کا کوئی بھی جرائم رپورٹ ہوگا تو اس کی تفتیش ایس پی سے کم رینک کا بندہ نہیں کرئے گا اگر کرئے گا تو غیر قانونی ہوگی ۔ پھر ایک جرم ہے کہ اگر ایک زنا کہ جرم کا الزام کسی عورت پے ہے کہ ایک عورت نے زنا تسلیم کیا ہے ایک حدود آرڈینینس کے تحت تو بھی ایس پی سے کم رینک کا بندہ اس کی تفتیش نہیں کرسکتاحدود آرڈینینس ویسے رافیل ہوچکے ہیں ۔ اب اس کے بعد ایک مت چلتی ہے کہ یہ پولیس آفیسرز ،تفتیشی آفیسرز دھول جھونک دیتے ہیں مدعیان کی آنکھون میں کہ مدعی ایک قابل دست اندازی جرم کے کمیشن کی اطلاع لے جاتا ہے کہ جی جناب یہ جرم قابل دست اندازی جرم سرزد ہوا ہے تو پولیس والا پرچہ ہی نہیں دیتا وہ بیچارہ عدالت میں آتا ہے دروازہ کھٹکھٹاتا ہے آکے رپورٹ دے دیتے ہیں جی 157 کی کاروائی کردی گئی ہے جی جرم جو ہے نہ معطلی تھا ہم نے یہ 157 کی کاروائی کردی ہے ۔ ذہن میں رکھیں 157 کی کاروائی رجسٹریشن آف ایف آئی آر کو منقسم کے ساتھ نہیں کرتی رجسٹریشن آف ایف آئی آر 154 کے تحت ہوگی157 سی آر پی سی ض ۔ ف ضابطہ فوجداری منقسم کے ساتھ کرتی ہے صرف اور صرف تفتیش کو اندارج مقدمے کو منقسم کے ساتھ نہیں کرتی ۔ پولیس والے غلط پناہ لیتے ہیں کہ ہم نے 157 کی کاروائی کردی 157 کی کاروائی ایف آئی آر کی رجسٹریشن کے بعد ہے ایف آئی آر کی رجسٹریشن سے پہلے نہیں ہے قانون کہتا ہے کہ ایف آئی آر کی رجسٹریشن سے پہلے آپ انکوئری بھی نہیں کرسکتے اگر ایف آئی آر کی رجسٹریشن سے پہلے آپ انکوئری کرتے ہیں اسکے بعد آپ پرچہ دیتے ہیں تو 182کہاں پے لے کے جائیں گے کیونکہ 182 کہتی ہے کہ جو بندہ پولیس کو غلط اطلاع دے گا وہ182 کے تحت اس کے خلاف کاروائی ہوگی اور اگر پولیس نے پہلے انکوئری کی اور اسکے بعد پرچہ دیا تو وہ اطلاع کیسے غلط ہوسکتی ہے؟ اس میں تو پولیس خود شامل ہوگئی ۔ یہ منشا ہے کہ 154 کی کاروائی سے پہلے قانون نے انکوئری سے ممانت کیوں کی کیوں روکا پولیس کو کہ آپ انکوئری نہیں کریں گے کہ سٹیچو میں 182 بھی ہے اگر آپ مقدمہ درج کرتے ہیں وہ غلط اطلاع ثابت ہوتی ہے تو آپ 182 کی کاروائی کرسکتے ہیں ۔ اس کے بعد پولیس تفتیشی آفیسر160 کے تحت گواہان کو بلائے گا کوئی گواہ انکار نہیں کرسکتا آنے سے وہ شخص جو حقائق سے آشنا ہوتا ہے وہ این آئی او کرنے سے انکار نہیں کرسکتا کہ میں آپ کے پاس نہیں آتا یاوہ آئی او جاتا ہے اور وہ یہ انکار کردے کہ میں آپ کونہیں بتاءونگا کسی گواہ کے پاس یہ اختیار نہیں ہے کہ وہ یہ کہے کہ ہاں مجھے حقائق کاپتا ہے لیکن میں بیان نہیں دونگا میں نہیں کروں گا ہاں وہ یہ کہہ سکتا ہے کہ نہیں جی مجھے نہیں معلوم میرے علم میں نہیں یہ پناہ لے سکتا ہے ۔ گواہان کو جانچا کرئے گا ایک بات آپ ذہن میں رکھ لیں کوئی بھی گواہ پولیس کے سامنے جب بیان دے گا اس کے اوپر دستخط نہیں کرئے گا کوئی انگوٹھا نہیں لگائے گا ۔ اگر دستخط کرئے گا انگوٹھا لگائے گا وہ بیان بیان تصور نہیں ہوگا161 سی آر پی سی کی منشا ہے 162 میں باقاعدہ لکھا ہے کہ کوئی بھی گواہ جو بھی بیان دے گا وہ سائن نہیں ہوگی لیکن وہ ثبوت میں استعمال ہوگی ۔ اب گواہان کے بیانات 161 کے تحت لکھے گئے اب ایک لمحہ آتا ہے تفتیش کے دوران کسی نہ کسی کیس میں جب ملزم کہتا ہے کہ ہاں میں نے جرم سرزد کیا اب اس وقت تفتیشی آفس کی ذمہ داریاں کیا ہیں ؟ جب کوئی بھی ملزم پولیس کی تحویل میں کہتا ہے کہ ہاں میں نے یہ جرم کیا ہے اس اس انداز میں کیاہے اور وہ تمام طریقہ کار ایف آئی آر میں اور پوسٹ مارٹم رپورٹ میں یا اس اگر کوئی دوسرا جرم ہے وہ بالکل اس کو ٹیلی کرتا ہے تو اس ملزم کو فوری طورپر وہ علاقہ جوڈیشل مجسٹریٹ کے پاس پیش کرئے گا اور کہے گا کہ یہ ملزم نے میرے سامنے اقرار جرم کیا ہے اور تمام طریقہ کار بتا یا ہے کہ جس جس طریقے سے اس نے یہ جرم سرزد کیا ہے اور یہ طریقہ کار شکایت کنندہ کے بیان سے ٹیلی کرتا ہے لہذا اس کا بیان ریکارڈ کیا جائے164 کے تحت مجسٹریٹ اب مزیداری کی بات ہے کہ اس وقت نہ کوئی ریکوری ہوئی کچھ نہیں ہوا کچھ نہیں ہوا جرئم کے ہتھیار نہیں ریکور ہوامتضاد مواد کوئی ریکور نہیں ہوا ۔ اب جیسے ہی وہ اس کے پاس لے جاتاہے مجسٹریٹ اس کا بیان مناسب طریقہ کار کو اپنانے کے بعدبغیر کسی احتیاط کے متمعین عنصرکرنے کے بعد کسی دباءو میں تو نہیں خطرے میں تو نہیں وہ ساری تسلی کرنے کے بعد مجسٹریٹ اس کا بیان لکھ لیتا ہے تو اس کے بعد اس کی تحویل پولیس کو نہیں دی جاسکتی اس کی جوڈیشل حوالات کی حراست میں ہوگی اس کی جوڈیشل حوالات کی حراست میں بند کی جائے گی اس کو اس کا جسم جوڈیشل حوالات میں بند کیا جائے گا پولیس کو نہیں دی جائے گی ۔ اگر اعترافی بیان ریکارڈ کرنے کے بعد اس کی تحویل پولیس کو حوالے کردی جاتی ہے تو یہ ملزم کے لئے انتہائی فائدے مند بات اور استغاثہ کے لئے انتہائی نقصان دے بات ۔ جس چیز کو استغاثہ نے ہینگ لگی نہ پھٹکری بغیر کسی معاملات کے ثابت کردیا ملزم نے خود اس کو تباہ و برباد اگر تحویل دوبارہ پولیس کے پاس چلی گئی فزیکل ریمانڈ میں تو اس کو انھوں نے اپنے ہاتھوں سے اس کا گلا گھونٹ دیا ملزم کو فائدہ وہ اعترافی بیان مٹی ہوگئی اس کے بعد جو معاملات آگے آئے و ہ سب اگر ریکوری کرتے ہیں اب اعترافی بیان ہوگئی اس کے بعدوہ اس سے پسٹل کی ریکوری کرئے اس کے بعد متضاد موادکی ریکوری کرئے سب مٹی ۔














Leave a comment