سوال: ایک بی بی کی کیوری آئی کہ میرا شوہر گھر داماد ہے اس کے گھر میں ہی رہتا ہے ۔ اس نے خلع لے لی کیا وہ خلع کے بعد وہ بچوں کو خرچہ دینے کا پابند ہے؟
حل: میں نے بے شمار دفعہ اپنی ویڈیوز میں بھی کہا لیکچر میں بھی کہا اور فون آتے ہیں اس میں بھی کہاکہ بچوں کا تعلق واسطہ باپ کے ساتھ براہ راست ہے ۔ میاں بیوی آپس میں میاں بیوی کے طورپر رہتے ہیں یا ان میں طلاق ہو جاتی ہے یا ان میں دشمنی ہے جو کچھ مرضی ہے ۔ بچوں کا کفیل باپ ہے بچوں کو ہر حال میں باپ نے پالنا ہے خواہ وہ گھر داماد ہو، خواہ وہ آپ کے ٹکڑوں پے پلتا ہے، خواہ جو مرضی ہے جب معاملات عدالت میں جائیں گے اور ای
ماں بچوں کے لئے اس سے باپ سے خرچہ طلب کرئے گی تو عدالتیں اس کا خرچہ مقرر کرئے گی بیشک وہ کچھ کرتا ہے یا نہیں کرتا ۔
اب اس میں تھوڑا سا میں آپ کو آگے بتادوں کہ اگر وہ شخص اپنے آپ کو مفلس ثابت کردیتا ہے، بینک کرپٹ ثابت کردیتا ہے تو اس صورت میں بھی آپ کو خرچہ ملے گا ۔ عدالت آپ کو خرچہ لے کے دے گی لیکن اس سے نہیں کیونکہ وہ اپنے آپ کو بینک کرپٹ ثابت کر چکا ہے ۔ اس کا ایک طریقہ کار ہے ۔ اگر وہ اپنا کر اپنے آپ بینک کرپٹ ثابت کر لیتا ہے توپھر تو بری ازذمہ ہے ۔ پھرآپ کو حکومت وقت بیت المال کے ذریعے خرچہ دے گی کیونکہ بچوں کا پہلا گائیڈین حکومت ہے اور دوسرا گائیڈین اس کا باپ نیچرل گائیڈین ہے اللہ تعالیٰ نے بنا یاہے کسی کورٹ کا سرٹیفیکیٹ نہیں ضروری یہ گائیڈین ہے وہ نیچرل گائیڈین ہے ۔ اگر نیچرل گائیڈین خرچہ نہیں ادا کرسکتا تو پھر حکومت وقت ادا کرئے گی ۔
Leave a comment