رشوت
Admin
09:02 AM | 2020-01-09
سوال: اگر کوئی سرکاری ملازم کوئی سرکاری کام ہونا ہے لیکن وہ رشوت مانگ رہا ہے تو ہم کیا کریں ؟ حل: بھئی اسکے لئے توآپ کو پورا حوصلہ مند ہونا پڑے گا ۔ اگر آپ حوصلہ مند ہیں تو میرے اس لیکچرپے عمل کیجئے گا اگر آپ حوصلہ مند نہیں ہیں تو پھر میں آپ کو کچھ نہیں کہہ سکتاپھر آپ برداشت کریں ۔ اگر آپ کا کوئی جائز کام کوئی سرکاری ملازم نہیں کرتا تو آپ کے پاس حل کیا ہے؟اور اگر کوئی سرکاری ملازم آپ کا جائز کام اس وجہ سے نہیں کررہا کہ وہ رشوت مانگ رہا ہے تو پھر آپ کے پاس حل کیاہے؟ سرکاری ملازمین میں دو اقسام پائی جاتی ہیں تیسری قسم تو ایماندار کی ہے وہ توچین ایسی
بنی ہوتی ہے کہ چار بندوں کی چین نے وہ کام کرنا ہے تین ایماندار ہوں تو ایک بائمان ہو تو وہ سائیکل رک جاتا ہے مسئلے مسائل یہ ہیں ۔ ایماندارکی تو میں بات نہیں کروں گا کیونکہ وہ تو مسئلے مسائل پیدا نہیں کرتا ۔ اب دوقسم کے آتے ہیں ایک ہوتے ہیں جن کو اللہ واسطے ہی سستی چھائی ہوتی ہے وہ کام ہی سست روی سے کرتے ہیں اچھا یار آج آجانا،کل آجانا یار چلو اگلے ہفتے آجانا یاروہ یسے ہی اللہ واسطے ہی وہ کوئی ان کا متمائے نظر یہ نہیں ہوتا کہ ان کو رشوت دی جائے وہ اب میں یہ بھی نہیں کہہ رہا وہ جو سستی سے کام کر رہا ہے وہ ٹھیک کررہا ہے نہیں اگر وہ اپنے سرکاری فراءض جو ہے سستی برتتا ہے اس میں اس کو سرانجام دینے میں تو وہ بدتمیزی کر رہا ہے ۔ وہ اپنی ڈیوٹی کو مناسب ادا نہیں کررہا تو آپ اس کے خلاف تحریری طور پر سرکاری ملازمین کیو ں چوڑے ہوئے ہیں ۔ سرکاری ملازمین اس وجہ سے خراب ہوئے ہیں جس قسم کی میں بات کر رہا ہوں کہ میں گیا ہوں ایک کام کروانے کیلئے وہ کہتا ہے کل آءو میں کل جاتا ہوں وہ کہتا ہے پرسوں آءو میں پرسوں جاتا ہوں آخر میں مجھے دوراہے پے کھڑا کردیا جاتا ہے یا تو میں اس سے پوچھوں کہ بھئی آپ نے کچھ لینا ہے تولے کے میرا کام کردیں یا میں اسکے ہائی اپ کا دروازہ کھول کر اندرجاءوں گا میں کہوں گا دیکھیں جی وہ فلاں ہیڈ کلرک، وہ کلرک میرا فلاں کام ہونے والا ہے لٹکا کہ بیٹھا ہے وہ نہیں کر رہا ۔ اب دوسری صورت میں جب آپ کسی آفسر کو جاکر کہتے ہیں کہ جی وہ میرا کام نہیں کررہا یا آفسر ہے تو اس کے بڑے آفسر کو جاکر کہتے ہیں کہ جی وہ میر ا کام نہیں کررہا تو آپ زبانی کہتے ہیں وہ زبانی بلاکے اس کو ڈانٹ بھی دیتا ہے ۔ 20فیصد ایسے کام ہو بھی جاتے ہیں لیکن 80فیصد نہیں ہوتے وجہ کیا ہے؟ آپ میں شعور آنا چاہیے آپ ایک کام کروانے گئے ہیں وہ قانونی ہے ہونے والا ہے اور وہ کوئی نہیں کر رہا ہے سستی اختیار کررہا ہے تو آپ اسی وقت ایک سفید کاغذ پے ایک درخواست لکھیں اس آفسرکے نام بخدمت جناب فلاں فلاں آفسرنیچے لکھیں درخواست برائے کئے جانے کاروائی برخلاف فلاں فلاں ملازم نیچے لکھیں کہ جناب میرا یہ مسئلہ تھا میں اس مسئلے سے فلاں تاریخ سے اس ملازم کے پاس آرہا ہوں یہ ملازم میرا کام نہیں کررہا اور اپنے فرائض احسن طریقے سے انجام نہیں دے رہا لہذا اس کے خلاف کاروائی کی جائے ۔ اب آپ کا زبانی ترلہ اور یہ تحریری درخواست اس میں زمین آسمان کا فرق ہے ۔ یہ تحریری درخواست جب وہ آفیسروصول کرلے گا اور ڈائری نمبر دے دےگا تو یہ اس کی جان کا عذاب ہوجائے گا اس ملازم کا جو آپ کا کام سستی سے کررہا ہے ۔ سرکاری ملازم کو گالی دے دو، سرکاری ملازم کو مارپیٹ لو، سرکاری ملازم کو کچھ کرلوجس میں تحریر شامل نہیں اس کو کوئی بار نہیں ہے اس کو کوئی آپ کا نہیں ہے کہ جناب مجھے گالیاں نکال گیا ہے یا مجھے مارگیا ہے جب تحریری درخواست چلی گئی اور آفیسر نے اس کے او پروصولی ڈال دی اور اس سے رپورٹ طلب کرلی آپ سوچ نہیں سکتے کہ وہ کیا کرسکتا ہے ۔ وہ درخواست پے کاروائی ہونی ہے اور وہ کاروائی اس کی اے سی آرکے ساتھ منسلک ہونی ہے وہ درخواست اس کی ترقی روک سکتی ہے اور اگر اسی طرح کی دس درخواستیں ایک ملازم کے خلاف چلی جائیں تووہ پیڈا ایکٹ کے تحت اس کے خلاف کاروائی شروع ہوجاتی ہے کہ بھئی ہر بندہ تیرے سے ہی کیوں ناراض ہے ۔ وہ ایسے گھن چکر میں پڑے گا کہ آپ اس کے بعدآپ اس کے دفتر میں داخل ہونگے تو وہ آپ کو اُٹھ کر سلوٹ کرئے گا کہ آئیں سر آپ کا کیا کام ہے پہلے میں آپ کا کر دوں کیوں کہ اس کو پتا ہے عمل کا یہ چلا جائے گا ۔ ہم ڈرتے ہی رہتے ہیں ڈرتے ہی رہتے ہیں یا ر درخواست دے تو یہ تین معاملات اور کھول لے گا یہ کرلے گا یہ تاخیر کردے گادشمن بھئی اس کے ساتھ آپ کی کیا دشمنی ہے نہ آپ اس کے محلے کے ہو نہ آپ اس کے علاقے کے ہو وہ پتا نہیں کس علاقے سے آکے ادھر نوکری کررہا ہے آپ اپنا حق لینے جارہے ہوآپ اگر آپ حق پے ہیں سوال یہ ہوتا ہے کہ آپ حق پے ہیں حق پے ہیں تو ٹھیک ہے بھئی کرئے جائے جو کرنا ہے اسلئے اپنے حق کو پہنچانے ڈرے مت ۔ یہ ملک 1947 سے لے کے آج تک ترقی بھی اسی وجہ سے نہیں کرسکا کہ ہم ڈر جاتے ہیں ۔ ہم ایک ملازم کی خوشنودی کے لئے دس ہزار چکر لگانے کیلئے تیار ہیں ۔ جب کہ وہ نہ ہمارے مامے کا بیٹا ہے نہ چاچے کا نہ پھوپھے کا نہ کسی کانہیں کوئی تعلق واسطہ نہیں اس کی خوشنودی ہ میں نہ گاڑیاں دلواسکتی ہیں نہ پلازے دلواسکتی ہے نہ گھر دلواسکتی ہے تو بھئی اس کو ایک ڈیوٹی دی ہے وہ اس ڈیوٹی کو انجام دینے کی مہینے بعد تنخواہ لیتا ہے اگر وہ ڈیوٹی انجام نہیں دیتاتو آپ اس کوآئینی ہاتھوں سے لیں ۔ اب دوسری قسم آگئی وہ آگئی رشوت کی کہ فلاں شخص مجھ سے رشوت مانگتا ہے یہاں میں ایک بات آپ کو واضع کردوں ۔ کسی ہونے والے کام میں کوئی سرکاری ملازم پہلے ہاتھ رشوت نہیں مانگتا یہ میرا تجربہ ہے رشوت وہ کب مانگتا ہے؟جو میں نے پہلے بات کہی کہ وہ آپ کو لارے لگائے جائے گا لگائے جائے گا آخر میں آپ خود کہیں گے کہ یار کیا لینا ہے کام کردو ہونے والے کام میں ایسے رشوت مانگی جاتی ہے اور میں یہ لیکچرہونے والے کام میں رشوت کے بارے میں دے رہا ہوں نہ ہونے والے کام میں تو رشوت اگلا اپنی مرضی سے دیتا ہے ۔ اب اس کے بھی دو پہلو ہیں بعد میں میں روشنی ڈالوں گا ۔ اب ہونے والے کام میں وہ رشوت مانگ رہا ہے تو 90فیصد لوگ سودے بازی شروع کردیتے ہیں 10فیصد لوگ چلے گئے جناب وہ دیکھیں جی وہ پیسے مانگ رہا ہے وہ پیسے مانگ رہا ہے وہ بلاتا ہے اب اسکو بیچارے کو پتا ہی نہیں جس کے پاس میں جارہا ہوں جس نے پیسے مجھ سے مانگے ہیں اس میں سے حصہ اس کو بھجوانا ہے وہ اس کو بلائے گا ہاں بھئی کیا مسئلہ ہے وہ ایک مسئلہ اس کو بیان کردے گا کہ جناب یہ ہے او یہ تو مجھے یہ کہہ رہا تھا کہ وہ رشوت نہیں جناب یہ مسئلے مسائل ہیں میں نے رشوت کیوں لینی ان مسئلے مسائل میں میں یہ کام کیسے کرسکتا ہوں ۔ وہ اپنے خود ساختہ بنا دیتا ہے لیکن آپ زبانی نہ جائیں آپ تحریری شکل میں دیں کہ یہ رشوت مانگ رہا ہے یہ کام نہیں کر رہا وہ نہیں آپ کی درخواست پے کرتا آپ اسکے بڑے افسر کے پاس چلے جائیں سارا سسٹم خراب نہیں ہے چند ایک کالی بھیڑیں ہیں سارا سسٹم نہیں خراب ابھی بھی پاکستان میں کوئی نہ کوئی آفیسر آپ کو مل جائے گا جو اس کو اٹھالے گا اور جب یہ حالت ایک رشوت خورملازم کو پتہ لگ جائے گی کہ یہ شخص کہیں رکنے والا نہیں اس نے اوپر تک چلے جانا ہے درخواست لے کے کہ جناب یہ رشوت مانگ رہا ہے جب کام کروں گا جب رشوت دوگے ۔ تحریری شکل میں سارا کچھ دیں ۔ اب آگیا میں نے بتایا جو کام ہی دو نمبر سے ہونا ہے رشوت دے کے ہونا ہے اس میں کسی نے کس کی شکایت لگانی ہے یا اس کا کام ہاں اب اس میں دوسری پارٹی بھی ہے ۔ میں گیا میں نے کہا میر ا یہ کام ہونے والا نہیں استاد جی کتنے پیسے کام کروانا ہے ہر حال میں وہ کہتا ہے ایک لاکھ روپیہ اب دوسری طرف سے زید گیاجو اس کا مخالف تھا اس نے کہنا ہے سرکارآفسران یہ آپ کے پاس ہے یہ تو کام ہو ہی نہیں سکتا ۔ یہ تو مجھے نقصان ہے اور میں قانونی طورپے حق پے ہوں ایک منٹ میں بو آ جائے گا کہ اس نے رشوت لی ہے کہ نہیں کچھ تو اتنے چالاک ہوتے ہیں کہ اس نے لاکھ دیا تم سوا لاکھ دے دوتمھارے حق میں کر دینگے ۔ اب وہ رشوت لے کے کام کر دیتا ہے تودوسری پارٹی کے پاس حل کیا ہے؟ دوسری پارٹی کے پاس حل ہے کہ وہ فوراََاستدعدے رشوت ستانی کے محکمے میں جائے ۔ باقاعدہ ایک درخواست لکھے کہ اس نے میرے اس معاملے میں مخالف فریق سے رشوت لی ہے رشوت لے کے یہ کام کیا ہے آپ اس کام کو جانچ لیں یہ کام نہیں ہوسکتا ۔ آپ وہ درخواست لکھیں اور اس کے خلاف کاروائی اندراج مقدمے کے ذریعے مانگیں اور اس کے ساتھ اپنا بیانِ حلفی لگائیں اوراس کے بعد دیکھیں اس سرکاری ملازم کے ساتھ کیا ہوتا ہے؟ میں دعوے کے ساتھ کہہ سکتا ہوں اگر ہم لوگ پاکستان کے عوام اپنا حق لینے کے لئے ڈٹ جائیں کھڑے ہوجائیں دیکھیں ایک ڈیپارٹمنٹ میں ایک ملازم ہوتا ہے اور اس سے کام کروانے جو بندے آتے ہیں وہ ہزاروں ہوتے ہیں اور دیکھ لیں کہ ایک بندہ ہزاروں کو جو ہے نہ بندر بنایا ہوتا ہے ہم اپنی طاقت کو نہیں جانچ سکتے ہم اپنی طاقت کو جانچیں گے تو سب کچھ ہوگا یہ کہتے ہیں نہ جی عدالتوں میں مقدمات پردادا فائل کرتا ہے تو پرپوتا آکے فیصلہ سنتا ہے آپ ڈٹ جائیں ہر سماعت کی تاریخ پے اپنے وکیل کو کہیں کہ مجھے تاریخ نہیں چاہیے مجھے کام چاہیے سو بلاوجہ تاریخیں پڑ رہی ہے و ہ سوبلاوجہ تاریخیں بیس پے آجائے گی ٹائم بچافیصلہ جو مرضی کرئے ٹائم تو بچے فیصلہ تو ہو ہم ڈرتے رہتے ہیں اس ڈر کو باہر سے نکالیں رشوت کوئی نہیں لے سکتا اگر آپ اپنے حق پے ڈٹے ہوئے ہیں ایک اور بات بتا دوں کہ استداد رشوت ستانی کا محکمہ میں بھی لوگ دودھ کے دھلے نہیں بیٹھے اگر آپ اس محکمے میں یہ کاروائی کر رہے ہیں توادھر بھی آکے اس کے خلاف بھی کریں ہاں بھئی تو میری بات کیوں نہیں سنتا تومجھے روز کے چکر کیوں لگوا رہا ہے تحریری طور پر ا س کے آفسر کو دیں کہ مجھے کیوں یہ روز کے چکر لگوا رہا ہے میں تو اس ملک کو اس ناسور کوپاک کرنے کے لئے اس میدان میں اترا ہوں تو یہ مجھے ایسے کیوں کر رہا ہے ۔














Leave a comment