Urdu Articles
Legal articles in Urdu, covering a range of practice areas relevant to Pakistan.

قائم مقام چیف جسٹس
کسی وقت جبکہــــــ (الف) کسی عدالت عالیہ کے چیف جسٹس کا عہدہ خالی ہو؛یا (ب) کسی عدالت عالیہ کا چیف جسٹس موجود نہ ہو، یا کسی دیگر بناء پر اپنے عہدے کے کارہائے منصبی انجام دینے سے قاصر ہو، تو صدر چیف جسٹس کی حیثیت سے کام کرنے کے لئے اس عدالت عالیہ کے دیگر ججوں میں سے کسی کو مقرر کرئے گا یا عدالت عظمیٰ کے ججوں میں سے کسی سے درخواست کرسکے گا۔

فارغ الخدمت ہونے کی عمر
کسی عدالت عالیہ کا کوئی جج 62 سال کی عمر کو پہنچنے تک اپنے عہدے پر فائز رہے گا، تاوقتیکہ وہ قبل ازیں مستعفی نہ ہو جائے یا دستور کے مطابق عہدہ سے برطرف نہ کردیا جائے۔

عہدے کا حلف
اپنا عہدہ سنبھالنے سے پہلے کسی عدالت عالیہ کا چیف جسٹس گورنر کے سامنے، اور عدالت کا کوئی دوسرا جج چیف جسٹس کے سامنے ، اس عبارت میں حلف اٹھائے گا جو جدول سوم میں درج کی گئی ہے: مگر شرط یہ ہے کہ عدالت عالیہ اسلام آباد کا چیف جسٹس صدر کے سامنے حلف اٹھائے گا اور اس عدالت کے دوسرے جج عدالت عالیہ اسلام آباد کے چیف جسٹس کے سامنے حلف اٹھائیں گے۔

عدالت عالیہ کے ججوں کا تقرر
1۔ عدالت عالیہ کے چیف جسٹس اور دوسرے ججوں میں سے ہر ایک کا تقرر صدر آرٹیکل 175 الف کی مطابقت میں کرئے گا۔ 2۔ کوئی شخص کسی عدالتِ عالیہ کا جج مقرر نہیں کیا جائے گا، تاوقتیکہ وہ پاکستان کا شہری نہ ہو، کم از کم پینتالیس سال کی عمر کا نہ ہو اورــــــ (الف) کم از کم دس سال تک یا مختلف اوقات میں اتنی مدت تک جو مجموعی طور پر دس سال سے کم نہ ہو، کسی عدالت عالیہ کا ایڈووکیٹ نہ رہا ہو (جس میں کوئی ایسی…

باب3۔ عدالت ہائے عالیہ (عدالت عالیہ کی تشکیل)
1۔ کوئی عدالت عالیہ ایک چیف جسٹس اور اتنے دیگر ججوں پر مشتمل ہوگی جن کی تعداد قانون کے ذریعے متعین کی جائے گی، یا اس طرح متعین ہونے تک ، جو صدر مقرر کرئے۔ 2۔ عدالت عالیہ سندھ و بلوچستان، بلوچستان اور سندھ کے صوبوں کےلئے مشترکہ عدالت عالیہ کے طور پر کام کرنا بند کردے گی۔ 3۔ صدر فرمان کےذریعے ، بلوچستان اور سندھ کے صوبوں میں سے ہر ایک کےلئے ایک عدالت عالیہ قائم کرئے گا اور فرمان میں دو عدالت ہائے…

قواعد طریق کار
دستور اور قانون کے تابع ، عدالت عظمیٰ ، عدالت کے معمول اور طریقِ کا رکو منضبط کرنے کے لئے قواعد وضع کرسکے گی۔

عدالت عظمیٰ کی معاونت میں عمل
پورے پاکستان کی عاملہ وعدلیہ کے تمام حکام، عدالت ِ عظمیٰ کی معاونت کریں گے۔

عدالت عظمیٰ کے فیصلے دوسری عدالتوں کے لئے واجب التعمیل ہیں
عدالت عظمیٰ کا کوئی فیصلہ ، جس حد تک کہ اس میں کسی امر قانونی کا تصفیہ کیا گیا ہو، یا وہ کسی اصول قانون پر مبنی ہو، یا اس کی وضاحت کرتاہو، پاکستان میں تمام دوسری عدالتوں کے لئے واجب التعمیل ہوگا۔

عدالت عظمیٰ کا فیصلوں یا احکام پر نظر ثانی کرنا
مجلسِ شوریٰ (پارلیمنٹ) کے کسی ایکٹ کے اور عدالت عظمیٰ کے وضع کردہ کسی قواعد کے احکام کے تابع ، عدالت عظمیٰ کو اپنے صادر کردہ کسی فیصلے یا دیئے ہوئے کسی حکم پر نظر ثانی کرنے کا اختیار ہوگا۔