LawyersOnline.pkLawyersOnline.pk
General Articles

عدالت عالیہ کے ججوں کا تقرر

By Super Admin
عدالت عالیہ کے ججوں کا تقرر

1۔ عدالت عالیہ کے چیف جسٹس اور دوسرے ججوں میں سے ہر ایک کا تقرر صدر آرٹیکل 175 الف کی مطابقت میں کرئے گا۔
2۔ کوئی شخص کسی عدالتِ عالیہ کا جج مقرر نہیں کیا جائے گا، تاوقتیکہ وہ پاکستان کا شہری نہ ہو، کم از کم پینتالیس سال کی عمر کا نہ ہو اورــــــ
(الف) کم از کم دس سال تک یا مختلف اوقات میں اتنی مدت تک جو مجموعی طور پر دس سال سے کم نہ ہو، کسی عدالت عالیہ کا ایڈووکیٹ نہ رہا ہو (جس میں کوئی ایسی عدالت عالیہ جو یوم آغاز سے قبل کسی وقت بھی پاکستان میں موجود تھی، شامل ہے) ؛ یا
(ب) وہ کسی ایسی سول ملازمت کا ، جو اس پیرے کی اغراض کے لئے قانون کی رو سےمتعین کی گئی ہو، رکن نہ ہو، اور کم از کم دس سال کی مدت تک رکن نہ رہا ہو، اور کم از کم تین سال کی مدت تک پاکستان میں ضلع جج کی حیثیت سے خدمات انجام نہ دے چکا ہو، یا اس کے کارہائے منصبی انجام نہ دے چکا ہو؛ یا
(ج) کم از کم دس سال کی مدت تک پاکستان میں کسی عدالتی عہدہ پر فائز نہ رہ چکا ہو۔
تشریح:۔ وہ مدت شمار کرنے میں جس کے دوران کوئی شخص عدالت عالیہ کا ایڈووکیٹ رہا ہو یا عدالتی عہدے پر فائز رہا ہو، وہ مدت شامل کی جائے گی جس کے دوران وہ ایڈووکیٹ ہوجانے کے بعد عدالتی عہدے پر فائز رہا ہو یا ، جیسی بھی صورت ہو، وہ مدت جس کے دوران وہ عدالتی عہدے پر فائز رہنے کے بعد ایڈووکیٹ رہا ہو۔
3۔ اس آرٹیکل میں "ضلع جج" سے ابتدائی اختیار سماعت کی حامل اعلیٰ دیوانی عدالت کا جج مراد ہے۔

Comments

No comments yet. Be the first to share your thoughts.