باب3۔ عدالت ہائے عالیہ (عدالت عالیہ کی تشکیل)

1۔ کوئی عدالت عالیہ ایک چیف جسٹس اور اتنے دیگر ججوں پر مشتمل ہوگی جن کی تعداد قانون کے ذریعے متعین کی جائے گی، یا اس طرح متعین ہونے تک ، جو صدر مقرر کرئے۔
2۔ عدالت عالیہ سندھ و بلوچستان، بلوچستان اور سندھ کے صوبوں کےلئے مشترکہ عدالت عالیہ کے طور پر کام کرنا بند کردے گی۔
3۔ صدر فرمان کےذریعے ، بلوچستان اور سندھ کے صوبوں میں سے ہر ایک کےلئے ایک عدالت عالیہ قائم کرئے گا اور فرمان میں دو عدالت ہائے عالیہ کے صدر مقامات ، مشترکہ عدالت عا لیہ کے ججوں کے تبادلے، دو عدالت ہائے عالیہ کے قیام سے عین قبل مشترکہ عدالت عالیہ میں زیر سماعت مقدمات کے انتقال کے لئے اور عام طور پر مشترکہ عدالت عالیہ کے کام بند کرنے اور دو عدالت ہائے عالیہ کے قیام کے مستلزمہ یا ذیلی امور کےلئے ایسے احکام وضع کرسکے گا جو وہ موزوں سمجھے۔
4۔ کسی عدالت عالیہ کے اختیار سماعت کو مجلسِ شوریٰ (پارلیمنٹ) کے ایکٹ کے ذریعے ، پاکستان کے کسی ایسے علاقے پر وسعت دی جاسکے گی جو کسی صوبے کا حصہ نہ ہو۔
Comments
No comments yet. Be the first to share your thoughts.