Urdu Articles
Legal articles in Urdu, covering a range of practice areas relevant to Pakistan.

جج کسی منفعت بخش عہدہ وغیرہ پر فائز نہیں ہوگا
1۔ عدالت عظمیٰ یا کسی عدالت عالیہ کا کوئی ججــــــ (الف) ملازمت پاکستان میں کوئی دیگر منفعت بخش عہدہ نہیں سنبھالے گا اگر اس کی وجہ سے اس کے مشاہرہ میں اضافہ ہوجائے ؛یا (ب) کسی دوسرے منصب پر فائز نہیں ہوگا جس میں خدمات انجام دینے کے عوض تنخواہ وصول کرنے کا حق ہو۔ 2۔ کوئی شخص جو عدالت عظمیٰ یا کسی عدالت عالیہ کے جج کے عہدہ پر فائز رہ چکا ہو، اس عہدہ کو چھوڑنے کے بعد دوسال گزرنے سے قبل، ملازمت…

استعفیٰ
1۔ عدالت عظمیٰ یا کسی عدالت عالیہ کا کوئی جج صدر کے نام اپنی دستخطی تحریر کے ذریعے اپنے عہدے سے مستعفی ہوسکے گا۔ 2۔ کسی عدالت عالیہ کا کوئی جج جو عدالتِ عظمیٰ کے جج کی حیثیت سے تقرر قبول نہ کرئے اپنے عہدے سے فارغ الخدمت متصور ہوگا اور ایسی فارغ الخدمتی پر پنشن وصول کرنے کا حقدار ہوگا جس کا شمار جج کے طور پر اس کے عرصہ ملازمت اور ملازمت پاکستان میں کل ملازمت کی ، اگر کوئی ہو ، بنیاد پر کیا جائے گا۔

ججوں کا مشاہرہ وغیرہ
عدالت عظمیٰ یا کسی عدالت عالیہ کے کسی جج کا مشاہرہ اور دوسری شرائط ملازمت وہ ہوں گی جو جدول پنجم میں مذکور ہیں۔

باب۔4۔ نظام ِ عدالت کی بابت عام احکام (توہین عدالت)
1۔ اس آرٹیکل میں "عدالت" سے عدالت عظمیٰ یا کوئی عدالت عالیہ مراد ہے۔ 2۔ کسی عدالت کو کسی ایسے شخص کو سزا دینے کا اختیار ہوگا ہوجوــــ (الف) عدالت کی قانونی کاروائی کی کسی طرح مذمت کرئے ، اس میں مداخلت یا مزاحمت کرئے یا عدالت کے کسی حکم کی نافرمانی کرئے؛ (ب) عدالت کو بدنام کرئے یا بصورت دیگر کوئی ایسا فعل کرئے جو اس عدالت یا عدالت کے جج کے بارے میں نفرت ، تضحیک یا توہین کا باعث ہو؛ (ج) کوئی ایسا…

قواعد وضع کرنے کا اختیار
1۔ عدالت ، سرکاری جریدہ میں اعلان کے ذریعہ ، اس باب کی اغراض کی بجا آوری کے لئے قواعد وضع کرسکے گی۔ 2۔ بالخصوص ، اور قبل الذکر اختیار کی عمومیت کو متاثر کئے بغیر، مذکورہ قواعد میں مندرجہ ذیل جملہ معاملات یا ان میں سے کسی کی بابت حکم وضع کیا جاسکے گا، یعنی:ـــــ (الف) ماہرین قانون ، ماہرین اور گواہوں کو جنہیں عدالت کی طرف سے طلب کیا گیا ہو، ایسے اخراجات اٹھانے کیلئے ، اگر کوئی ہوں ، اعزاز یہ کی…

حذف کردی گئی
انتظامی اقدامات ، وغیرہ ۔ فرمان دستور (ترمیم دوم) 1982ء (فرمان صدر نمبر 5 مجریہ 1982ء ) کے آرٹیکل 8 کی رو سے حذف کردی گئی۔

زیر سماعت کاروائیاں وغیرہ جاری رہیں گی
1۔ شق(2) کے تابع اس باب میں کسی امر سے کسی ایسی کاروائی کو جو اس باب کے آغاز نفاذ سے فوراََ قبل کسی عدالت یا ٹربیونل میں زیر سماعت ہو، یا اس کی ابتداء مذکورہ آغاز نفاذ کے بعد ہوئی ہو، صرف اس وجہ سے ملتوی یا موقوف کردینا مطلوب متصور نہیں ہوگا کہ عدالت کو اس امر کا فیصلہ کرنے کی درخواست دی گئی ہے کہ آیا مذکورہ کاروائی میں امر تنقیح طلب کے فیصلے سے متعلق کوئی قانون یا قانون کا کوئی حکم اسلامی احکام…

عدالت کا فیصلہ عدالت عالیہ اور اس کی ماتحت عدالتوں کے لئے واجب التعمیل ہوگا
آرٹیکل 203۔د اور 203۔و کے تابع ، اس باب کے تحت اپنے اختیار سماعت کے استعمال میں عدالت کا کوئی فیصلہ کسی عدالت عالیہ پر اور کسی عدالت عالیہ کی ماتحت تمام عدالتوں کے لئے واجب التعمیل ہوگا۔

اختیار سماعت پر پابندی
بجز جیسا کہ دفعہ 203۔و میں مقرر کیا گیا ہے ، کوئی عدالت یا ٹربیونل ، بشمول عدالت عظمیٰ اور کوئی عدالت عالیہ ، کسی ایسے معاملہ کی نسبت کسی کا روائی پر غور نہیں کرئے گی یا کسی اختیار یا اختیارِ سماعت کا استعمال نہیں کرئے گی جو عدالت کے اختیار سماعت میں ہو۔