باب۔4۔ نظام ِ عدالت کی بابت عام احکام (توہین عدالت)

1۔ اس آرٹیکل میں "عدالت" سے عدالت عظمیٰ یا کوئی عدالت عالیہ مراد ہے۔
2۔ کسی عدالت کو کسی ایسے شخص کو سزا دینے کا اختیار ہوگا ہوجوــــ
(الف) عدالت کی قانونی کاروائی کی کسی طرح مذمت کرئے ، اس میں مداخلت یا مزاحمت کرئے یا عدالت کے کسی حکم کی نافرمانی کرئے؛
(ب) عدالت کو بدنام کرئے یا بصورت دیگر کوئی ایسا فعل کرئے جو اس عدالت یا عدالت کے جج کے بارے میں نفرت ، تضحیک یا توہین کا باعث ہو؛
(ج) کوئی ایسا فعل کرئے جس سے عدالت کے سامنے زیر سماعت کسی معاملے کا فیصلہ کرنے پر مضر اثر پڑنے کا اجتمال ہو؛ یا
(د) کوئی ایسا دوسرا فعل کرئے جواز روئے قانون توہین عدالت کا موجب ہو۔
3۔ اس آرٹیکل کی رو سے کسی عدالت کو عطا کردہ اختیار قانون کے ذریعے اور قانون کے تابع، عدالت کے وضع کردہ قواعد کے ذریعے منضبط کیا جاسکے گا۔
Comments
No comments yet. Be the first to share your thoughts.