جج کسی منفعت بخش عہدہ وغیرہ پر فائز نہیں ہوگا

1۔ عدالت عظمیٰ یا کسی عدالت عالیہ کا کوئی ججــــــ
(الف) ملازمت پاکستان میں کوئی دیگر منفعت بخش عہدہ نہیں سنبھالے گا اگر اس کی وجہ سے اس کے مشاہرہ میں اضافہ ہوجائے ؛یا
(ب) کسی دوسرے منصب پر فائز نہیں ہوگا جس میں خدمات انجام دینے کے عوض تنخواہ وصول کرنے کا حق ہو۔
2۔ کوئی شخص جو عدالت عظمیٰ یا کسی عدالت عالیہ کے جج کے عہدہ پر فائز رہ چکا ہو، اس عہدہ کو چھوڑنے کے بعد دوسال گزرنے سے قبل، ملازمت پاکستان میں کوئی منفعت بخش عہدہ ، جو عدالتی یا نیم عدالتی عہدہ یا چیف الیکشن کمشنر یا قانون کمیشن کے چیئرمین یا رکن ،، یا اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین یا رکن کا عہدہ نہ ہو ، نہیں سنبھالے گا۔
3۔ کوئی شخصــــــ
(الف) جو عدالت عظمیٰ کے مستقل جج کی حیثیت سے عہدہ پر فائز رہ چکا ہو، پاکستان میں کسی عدالت یا کسی ہیئت مجاز کے روبرووکالت یا کام نہیں کرئے گا؛
(ب) جو کسی عدالت عالیہ کے مستقل جج کی حیثیت سے عہدے پر فائز رہ چکا ہو، اس کے دائر ہ اختیار کے اندر کسی عدالت یا کسی ہیئت مجاز کے روبرو وکالت یا کام نہیں کرئے گا؛ اور
(ج) جو عدالت عالیہ مغربی پاکستان کے ، جس طرح کہ وہ فرمان (تنسیخ ) صوبہ مغربی پاکستان، 1970ء کے نفاذ سے عین قبل موجود تھی، مستقل جج کی حیثیت سے عہدے پر فائز رہ چکا ہو اس عدالت عالیہ کے صدر مقام یا جیسی بھی صورت ہو، اس عدالت عالیہ کے مستقل بینچ کے جس میں وہ مقرر کیا گیا تھا، دائرہ اختیار کے اندر کسی عدالت یا کسی ہیئت مجاز کے روبرو وکالت یا کام نہیں کرئے گا۔
Comments
No comments yet. Be the first to share your thoughts.