صوبے کا گورنر - آرٹیکل 102

﷽
(شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے۔)
میں،۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔، صدق دل سے حلف اٹھاتا ہوں کہ میں خلوص نیت سے پاکستان کا حامی و وفاداررہوں گا:
کہ ، بحیثیت گورنر صوبہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں اپنے فرائض و کارہائے منصبی ایمانداری ، اپنی انتہائی صلاحیت اور وفاداری کے ساتھ، اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دستور اور قانون کے مطابق ، اور ہمیشہ پاکستان کی خود مختاری ، سالمیت ، استحکام ، یکجہتی اور خوشحالی کی خاطر انجام دوں گا:
کہ میں اسلامی نظریہ کو برقرار رکھنے کے لئے کوشاں رہوں گا جو قیام پاکستان کی بنیاد ہے:
کہ میں اپنے ذاتی مفاد کو اپنے سرکاری کام یا اپنے سرکاری فیصلوں پر اثر انداز نہیں ہونے دوں گا:
کہ میں اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دستور کو برقرار رکھوں گا اور اس کا تحفظ اور دفاع کروں گا:
کہ میں ہر حالت میں ، ہر قسم کے لوگوں کے ساتھ، بلا خوف و رعایت اور بلا رغبت و عناد ، قانون کے مطابق انصاف کروں گا:
اور یہ کہ کسی شخص کو بلا واسطہ یا بالواسطہ کسی ایسے معاملے کی اطلاع نہ دوں گا اور نہ اس پر ظاہر کروں گا جو بحیثیت گورنر صوبہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میرے سامنے غور کے لئے پیش کیا جائیگا یا میرے علم میں آئیگا بجز جب کہ بحیثیت گورنر اپنے فرائض کی کماحقہ، انجام دہی کےلئے ایسا کرنا ضروری ہو۔
اللہ تعالیٰ میری مدد اور رہنمائی فرمائے (آمین)۔
Comments
No comments yet. Be the first to share your thoughts.