جدول دوم ۔آرٹیکل 41(3) صدر کا انتخاب

آرٹیکل 41(3)
1۔ (الیکشن کمیشن پاکستان) صدر کے عہدے کے لئے انتخاب کا انعقاد اور انصرام کرئے گا، اور (چیف الیکشن کمشنر) مذکورہ انتخاب کے لئے افسر رائے شماری (ریٹرننگ افسر) ہوگا۔
2۔ (الیکشن کمیشن پاکستان) مجلسِ شوریٰ (پارلیمنٹ) کے ارکان کے اجلاس اور صوبائی اسمبلیوں کے ارکان کے اجلاسوں کی صدارت کرنے کے لئے افسران صدارت کنندہ (پریزائڈنگ افسران) کا تقرر کرئے گا۔
3۔ چیف الیکشن کمشنر عام اعلان کے ذریعے کاغذات نامزدگی داخل کرنے کے لئے جانچ پڑتال کرنے کے لئے ، نام واپس لینے کے لئے ، اگر کوئی ہو، اور انتخاب کے انعقاد کے لئے ، اگر ضروری ہو، وقت اور مقام مقرر کرئے گا۔
4۔ نامزدگی کے لئے مقرر کردہ دن کی دوپہر سے پہلے مجلسِ شوری(پارلیمنٹ) یا کسی صوبائی اسمبلی کا کوئی رکن نامزدگی کا ایک کاغذ جس پر بحیثیت تجویز کنندہ خود اس کے اور بحیثیت تائید کنندہ مجلسِ شوریٰ (پارلیمنٹ) یا، جیسی بھی صورت ہو، اسمبلی کے کسی دوسرے رکن کے دستخط ہوں اور جس کے ساتھ نامزد شخص کا ایک دستخط شدہ بیان منسلک ہو کہ وہ نامزدگی پر رضا مند ہے ، افسر صدارت کنندہ کودے کر کسی ایسے شخص کو بحیثیت صدر انتخاب کے لئے نامزد کرسکے گا جو بحیثیت صدر انتخاب کا اہل ہو:
مگر شرط یہ ہے کہ کوئی شخص تجویز کنندہ یا تائید کنندہ کی حیثیت سے کسی ایک انتخاب میں ایک سے زیادہ کاغذ نامزدگی پر دستخط نہیں کرئے گا۔
5۔ جانچ پڑتال چیف الیکشن کمشنر اس کی طرف سے مقرر کردہ وقت اور مقام پر کرئے گا، اور اگر جانچ پڑتال کے بعد صرف ایک شخص جائز طور پر نامزد رہ جائے ، تو چیف الیکشن کمشنر اس شخص کو منتخب شدہ قرار دے دے گا، یا اگر ایک شخص سے زیادہ جائز طور پر نامزد رہ جائیں ، تو وہ عام اعلان کے ذریعے ، جائز طور پر نامزد اشخاص کے ناموں کا اعلان کرئے گا جو بعد ازیں امیدوار کے نام سے موسوم ہوں گے۔
6۔ کوئی امیدوار اس غرض کے لئے مقرر کردہ دن کی دوپہر سے قبل کسی وقت ، اس افسر صدارت کنندہ کو جس کے پاس اس کا کاغذ نامزدگی داخل کرایا گیا ہو، اپنا دستخطی تحریری نوٹس دے کر اپنی امیدواری سے دستبردار ہوسکے گا ، اور کسی امیدوار کو جس نے اس پیر ے کے تحت اپنی امیدواری سے دستبرداری کا نوٹس دیدیا ہو، مذکورہ نوٹس کو منسوخ کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
7۔ اگر ایک کے سوا باقی تمام امیدوار دستبردار ہوگئے ہوں، تو چیف الیکشن کمشنر اس ایک امیدوار کو منتخب قرار دے دے گا۔
8۔ اگر کوئی بھی دستبردار نہ ہو، یا اگر ، دستبرداریوں کے بعد ، دو یا زیادہ امیدوار رہ جائیں، تو چیف الیکشن کمشنر عام اعلان کے ذریعے امیدواروں اور ان کے تجویز کنندہ گان اور تائید کنندہ گان کے ناموں کا اعلان کرئے گا ، اور مابعد پیروں کے احکام کے مطابق خفیہ رائے دہی کے ذریعے رائے دہی منعقد کرنے کی کاروائی کرئے گا۔
9۔ اگر کوئی امیدوار جس کی نامزدگی درست پائی گئی ہو نامزدگی کے لئے مقرر کردہ وقت کے بعد فوت ہوجائے ، اور رائے دہی کے آغاز سے قبل افسر صدارت کنندہ کو اس کی موت کی اطلاع مل جائے ، تو افسر صدارت کنندہ ، امیدوار کی موت کے امر واقعہ کے بارے میں مطمئن ہوجانے پر ، رائے دہی منسوخ کردے گا اور اس امر واقعہ کی اطلاع چیف الیکشن کمشنر کو دیگا، اور اس انتخاب سے متعلق تمام کا روائی ہر لحاظ سے اس طرح از سر نو شروع کی جائے گی گویا کہ نئے انتخاب کے لئے ہو:
مگر شرط یہ ہے کہ کسی ایسے امیدوار کی صورت میں جس کی نامزدگی رائے دہی کی تنسیخ کے وقت جائز تھی، مزید نامزدگی ضروری نہیں ہوگی:
مزید شرط یہ ہے کہ کوئی شخص جس نے رائے دہی منسوخ ہونے سے پہلے اس جدول کے پیرا 6 کے تحت اپنی امیدواری سے دستبرداری کا نوٹس دے دیا ہو، مذکورہ تنسیخ کے بعد انتخاب کے لئے بحیثیت امیدوار نامزد کئے جانے کا نا اہل نہیں ہوگا۔
10۔ رائے دہی کا انعقاد مجلسِ شوریٰ (پارلیمنٹ) اور ہر ایک صوبائی اسمبلی کے اجلاس میں ہوگا، اور متعلقہ افسران صدارت کنندہ ایسے افسروں کی اعانت سے رائے دہی کا نصرام کریں گے جس طرح کہ وہ چیف الیکشن کمشنر کی منظوری سے علی الترتیب مقرر کریں۔
11۔ مجلسِ شوریٰ (پارلیمنٹ) اور ہر ایک صوبائی اسمبلی کے ہر ایک رکن کو جو خود کو مجلسِ شوریٰ (پارلیمنٹ) یا جیسی بھی صورت ہو، اس صوبائی اسمبلی کے اجلاس میں ووٹ ڈالنے کے لئے پیش کرئے جس کا وہ رکن ہو (جس کا حوالہ بعدازیں ووٹ دینے والے شخص کے طور پر دیا گیا ہے)، ایک انتخابی پرچی جاری کی جائے گی، اور وہ اپنا ووٹ اصالتاََ پرچی پر مابعد پیروں کے احکام کے مطابق نشان لگا کر استعمال کرئے گا۔
12۔ رائے دہی خفیہ رائے دہی کے ذریعے ایسی انتخابی پرچیوں کی وساطت سے ہوگی جن پر ایسے تمام امیدواروں کے نام حروف تہجی کے لحاظ سے درج ہوں گے جو دستبردار نہ ہوئے ہوں ، اور کوئی ووٹ دینے والا شخص اس شخص کے نام کے سامنے جسے وہ ووٹ دینا چاہتا ہو، نشان لگا کر ووٹ دے گا۔
13۔ انتخابی پرچیاں مثنیٰ کے ساتھ انتخابی پر چیوں کی ایک کتاب سے جاری کی جائیں گی ، ہر مثنیٰ پر نمبر درج ہوگا؛ اور جب کوئی انتخابی پر چی کسی ووٹ دینے والے شخص کو جاری کی جائے تو اس کا نام مثنیٰ پر درج کیا جائے گا، اور افسر صدارت کنندہ کے مختصر دستخط کے ذریعے انتخابی پرچی کی تصدیق کی جائے گی۔
14۔ انتخابی پرچی پر نشان لگا دینے کے بعد ووٹ دینے والا شخص اسے انتخابی پر چی کے صندوق میں ڈالے گا جو افسر صدارت کنندہ کے سامنے رکھا ہوگا۔
15۔ اگر کسی ووٹ دینے والے شخص سے کوئی انتخابی پرچی خراب ہوجائے تو وہ اسے افسر صدارت کنندہ کو واپس کردے گا، جو پہلی انتخابی پرچی کو منسوخ کرکے اور متعلقہ مثنیٰ پر منسوخی کا نشان لگا کر اسے دوسرے انتخابی پر چی جاری کردے گا۔
16۔ کوئی انتخابی پرچی ناجائز ہوگی اگر ـــــــ
(اول) اس پر کوئی ایسا نام ، لفظ یا نشان ہو جس سے ووٹ دینے والے شخص کی شناخت ہوسکے ؛ یا
(دوم) اس پر افسر صدارت کنندہ کے مختصر دستخط نہ ہوں ؛یا
(سوم) اس پر کوئی نشان نہ ہو؛ یا
(چہارم) دو یا زیادہ امیدواروں کے نام کے سامنے نشان لگا یا گیا ہو؛ یا
(پنجم) اس امیدوار کی شناخت کے بارے میں تعین نہ ہوسکے ، جس کے نام کے سامنے نشان لگایا گیا ہو۔
17۔ رائے دہی ختم ہونے کے بعد ہر ایک افسر صدارت کنندہ ، ایسے امیدواروں یا ان کے کارندگان مجاز کی موجودگی میں جو حاضر رہنا چاہیں ، انتخابی پرچیوں کے صندوقوں کو کھولے گا اور انہیں خالی کرئے گا اور ان میں موجود انتخابی پرچیوں کی جانچ پڑتال کرئے گا ، ایسی پرچیوں کو مسترد کرتے ہوئے جو نا جائز ہوں، جائز انتخابی پرچیوں پر ہر ایک امیدوار کے لئے درج شدہ ووٹوں کی تعداد کا شمار کرئے گا اور بایں طور درج شدہ ووٹوں کی تعداد سے چیف الیکشن کمشنر کو مطلع کرئے گا۔
18۔ (1) چیف الیکشن کمشنر انتخاب کا نتیجہ حسب ذیل طریقے سے متعین کرئے گا، یعنی:۔
(الف) مجلسِ شوری(پارلیمنٹ) میں ہر ایک امیدوار کے حق میں ڈالے ہوئے ووٹ شمار کئے جائیں گے؛
(ب) کسی صوبائی اسمبلی میں ہر ایک امیدوار کے حق میں ڈالے ہوئے ووٹوں کی تعداد کو اس صوبائی اسمبلی میں نشستوں کی مجموعی تعداد سے ، جس میں فی الوقت سب سے کم نشستیں ہوں ضرب دیا جائے گا اور اس صوبائی اسمبلی میں نشستوں کی مجموعی تعداد سے جس میں ووٹ ڈالے گئے ہوں تقسیم کیا جائے گا؛ اور
(ج) شق (ب) میں محولہ طریقے سے شمار کردہ ووٹوں کی تعداد کو شق (الف) کے تحت شمار کردہ ووٹوں کی تعداد میں جمع کردیا جائے گا۔
تشریح: اس پیرے میں " نشستوں کی مجموعی تعداد" میں غیر مسلموں اور خواتین کے لئے مخصوص نشستیں شامل ہیں۔
(2) کسی کسر کو قرب ترین کل میں بدل دیا جائے گا۔
19۔ اس امیدوار کو جس نے پیرا 18 میں مصرحہ طریقے سے مدون ووٹوں کی سب سے زیادہ تعداد حاصل کی ہو، چیف الیکشن کمشنر کی طرف سے منتخب قرار دے دیا جائے گا۔
20۔ جبکہ کسی رائے دہی میں کوئی سے دو یا زیادہ امیدوار ووٹوں کی مساوی تعداد حاصل کریں ، تو منتخب کئے جانے والے امیدوار کا چنائو قرعہ اندازی کے ذریعے کیا جائے گا۔
21۔ جبکہ، کسی رائے دہی کے بعد ، ووٹوں کا شمار مکمل ہوگیا ہو، اور رائے شماری کا نتیجہ متعین ہوگیا ہو، چیف الیکشن کمشنر فی الفور ان کے سامنے جو موجود ہوں ، نتیجہ کا اعلان کرئے گا، اور نتیجہ سے وفاقی حکومت کو مطلع کرئے گا، جو فی الفور نتیجہ کو عام اعلان کے ذریعے مشتہر کرنے کا حکم دے گی۔
22۔ (الیکشن کمیشن پاکستان) ، اعلان عام کے ذریعے ، صدر کی منظوری سے ، اس جدول کی اغراض کی بجا آوری کے لئے قواعدوضع کرسکےگا۔
Comments
No comments yet. Be the first to share your thoughts.