ضمیمہ

(آرٹیکل2 الف) قرارداد مقاصد
﷽
(شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے۔)
چونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ ہی کل کائنات کا بلا شرکت غیرے حاکم مطلق ہے اور پاکستان کے جمہور کو جو اختیار و اقتدار اس کی مقرر کردہ حدود کے اندر استعمال کرنے کا حق ہوگا وہ ایک مقدس امانت ہے؛
مجلس دستور ساز نے جو جمہور پاکستان کی نمائندہ ہے آزادو خود مختار مملکت پاکستان کےلئے ایک دستور مرتب کرنے کا فیصلہ کیا ہے؛
جس کی رو سے مملکت اپنے اختیارات و اقتدار کو جمہور کے منتخب کردہ نمائندوں کے ذریعے استعمال کرئے گی ؛
جس کی رُو سے جمہوریت ، حریت ، مساوات ، رواداری اور عدل عمرانی کے اصولوں کو جس طرح اسلام نے ان کی تشریح کی ہے پورے طور پر ملحوظ رکھا جائے گا؛
جس کی رُو سے مسلمانوں کو اس قابل بنایا جائے گا کہ وہ انفرادی اور اجتماعی طور پر اپنی زندگی کو اسلامی تعلیمات و مقتضیات کے مطابق جس طرح کہ قرآن پاک و سنت میں ان کا تعین کیا گیا ہے، ترتیب دے سکیں؛
جس کی رُو سے اس امرکا قرار واقعی انتظام کیا جائے گا کہ اقلیتیں آزادی کے ساتھ اپنے مذاہب پر عقیدہ رکھ سکیں اور ان پر عمل کرسکیں اور اپنی ثقافتوں کو آزادانہ ترقی دے سکیں:
جس کی رُو سے وہ علاقے جو اب تک پاکستان میں داخل یا شامل ہوگئے ہیں اور ایسے دیگر علاقےجو آئندہ پاکستان میں داخل یا شامل ہوجائیں ایک وفاقیہ بنائیں گے جس کے صوبوں کو مقررہ اختیارات و اقتدار کی حد تک خود مختاری حاصل ہوگی؛
جس کی رُو سے بنیادی حقوق کی ضمانت دی جائے گی اور ان حقوق میں جہاں تک کہ قانون و اخلاق اجازت دیں مساوات حیثیت ومواقع ، قانون کی نظر میں برابری ، عمرانی ، اقتصادی اور سیاسی انصاف ، سوچ، اظہار خیال ، عقیدہ ، دین ، عبارت اور شرکت کی آزادی شامل ہوگی؛
جس کی رُو سے اقلیتوں اور پسماندہ پست طبقوں کے جائز حقوق کے تحفظ کا قرار واقعی انتظام کیا جائے گا؛
جس کی رُو سے نظام عدل گستری کی آزادی پوری طرح محفوظ ہوگی؛
جس کی رُو سے وفاقیہ کے علاقوں کی صیانت ، اس کی آزادی اور اس کے جملہ حقوق کا جن میں اس کے خشکی و تری اور فضاء پر صیانت کے حقوق شامل ہیں تحفظ کیا جائے گا؛
تاکہ اہل پاکستان فلاح و بہبود حاصل کریں اور اقوام عالم کی صف میں اپنا جائز و ممتاز مقام حاصل کرسکیں اور امن عالم برقرار رکھنے اور بنی نوع انسان کی ترقی و خوش حالی کے لئے پوری کوششیں کوسکیں۔
Comments
No comments yet. Be the first to share your thoughts.