پہلی صوبائی اسمبلی

1۔ دستور میں شامل کسی امر کے باوجود ، لیکن آرٹیکل 63، آرٹیکل 64 اور آرٹیکل 223 کے تابع، ۔
(الف) دستور کے تحت کسی صوبے کی پہلی اسمبلی حسب ذیل پر مشتمل ہوگی۔
(اول) یوم آغاز سے عین قبل موجود اس صوبے کی اسمبلی کے ارکان پر؛ اور
(دوم) ان زائد ارکان پر جو آرٹیکل 106 کی شق (3) میں محولہ نشستوں کو پُر کرنے کےلئے ارکان کی طرف سے قانون کے مطابق منتخب کئے جائیں گے، اور ، تاوقتیکہ اسےاس سے قبل توڑ نہ دیا جائے ، چودہ اگست، سن انیس سو ستتر تک برقرار رہے گی؛ اور دستور میں کسی صوبے کی اسمبلی کی " کل رکنیت" کا مفہوم بحسبہ لیا جائے گا؛
(ب) کسی صوبے کی پہلی اسمبلی کے رکن منتخب ہونے اور رہنے کے لئے ابلیتیں اور نا اہلیتیں ، ماسوائے یوم آغاز کے بعد اتفاقی طور پر خالی ہونے والی نشستیں پُر کرنے والے یا آرٹیکل 106 کی شق (3) میں محولہ زائد نشستوں کیلئے منتخب ہونے والے ارکان کے لئے وہی ہوں گی جو کہ اسلامی جمہور یہ پاکستان کے عبوری دستور کے تحت مقرر کی گئی تھیں:
مگر شرط ی ہے کہ ملازمت پاکستان میں کسی منفعت بخش عہدہ پر فائز کوئی شخص یوم آغاز سے تین ماہ کے اختتام کے بعد ، اسمبلی کا رکن برقرار نہیں رہے گا۔
2۔ کسی صوبے کی پہلی اسمبلی میں ، کسی رکن کی وفات یا استعفےٰ کی وجہ سے یا اس کے نا اہل ہو جانے کے نتیجہ میں ، یا کسی انتخابی عذر داری کے حتمی فیصلے کی بناء پر رکن نہ رہنے کی وجہ سے اتفاقی طور پر خالی ہونے والی کسی نشست کو ، جس میں یوم آغاز سے عین قبل موجود اس صوبے کی اسمبلی کی کوئی ایسی خالی نشست بھی شامل ہے جو اس دن سے قبل پُر نہ کی گئی تھی، اسی طریقہ سے پُر کیا جاسکے گا، جس طریقے سے وہ یوم آغاز سے عین قبل پُر کی جاتی۔
3۔ شق(1) کے پیرا (الف) میں محولہ کوئی رکن ، صوبائی اسمبلی میں نہ بیٹھے گا نہ ووٹ دے گا، تاوقتیکہ اس نے آرٹیکل 65 بشمول آرٹیکل 127 کے تحت مقررہ حلف نہ اٹھالیا ہو اور اگر ظاہر کردہ معقول وجوہ کی بناء پر صوبائی اسمبلی کے اسپیکر کی جانب سے دی گئی اجازت کے بغیر وہ صوبائی اسمبلی کے پہلے اجلاس کے دن سے اکیس روز کے اندر اندر حلف لینے سے قاصر رہے ، تو اس مدت کے اختتام پر اس کی نشست خالی ہوجائے گی۔
Comments
No comments yet. Be the first to share your thoughts.