سینیٹ کی پہلی تشکیل

دستور میں شامل کسی امر کے باوجود ، لیکن آرٹیکل63 اور آرٹیکل 223 کے تابع،۔۔
(الف) سینیٹ ، دستور کے تحت پہلی قومی اسمبلی کا وجود برقرار رہنے تک ، پینتالیس ارکان پر مشتمل ہوگی اور آرٹیکل 59 کے احکام اس طرح موئثر ہوں گے گویا کہ، اس کی شق (1) کے پیرا (الف) میں لفظ "چودہ" کی بجائے لفظ " دس" اور مذکورہ شق کے پیرا (ب) میں لفظ "پانچ" کی بجائے لفظ "تین" تبدیل کردیا گیا ہو اور دستور میں سینیٹ کی " کل رکنیت" کے حوالے کا مفہوم بحسبہ لیا جائے گا؛
(ب) سینیٹ کے منتخبہ یا چنے ہوئے ارکان کو قرعہ اندازی کے ذریعے دو گروہوں میں تقسیم کیا جائے گا، پہلے گروہ میں ہر صوبے سے پانچ ارکان ، وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں سے دو ارکان اور وفاقی دارالحکومت سے ایک رکن شامل ہوگا اور دوسرے گروہ میں ہر صوبے سے پانچ ارکارن، مذکورہ علاقوں سے ایک رکن اور وفاقی دارالحکومت سے ایک رکن شامل ہوگا؛
(ج) پہلے گروہ اور دوسرے گروہ کے ارکان کی میعاد عہدہ بالترتیب دو سال اور چار سال ہوگی؛
(د) سینیٹ کے ارکان کی اپنی اپنی میعاد ختم ہونے کے بعد ان کی جگہ منتخب ہونے یا چنے جانے والے ارکان کے عہدے کی میعاد چار سال ہوگی؛
(ہ) اتفاقی طور پر خالی ہونے والی جگہ پُر کرنے کے لئے منتخب ہونے یا چنے جانے والے شخص کے عہدے کی میعاد اس رکن کی باقی ماندہ میعاد عہدہ کے برابر ہوگی جس کی جگہ پُر کرنے کے لئے وہ منتخب ہوا یا چنا گیا ہو؛
(و) قومی اسمبلی کا پہلا عام انتخاب منعقد ہوتے ہی سینیٹ کے لئے ہر صوبے سےچار مزید ارکان اور وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں سے دو مزید ارکان منتخب کئے جائیں گے؛ اور
(ز) پیرا (و) ک تحت منتخب ہونے والے ارکان میں سے نصف کی جن کا تعین بذریعہ قرعہ اندازی کیا جائے گا میعاد عہدہ پہلے گروہ کے ارکان کی باقی ماندہ میعاد عہدہ ہوگی اور دوسرے نصف کی میعاد عہدہ دوسرے گروہ کے ارکان کی باقی ماندہ میعاد عہدہ ہوگی۔
Comments
No comments yet. Be the first to share your thoughts.