پہلی قومی اسمبلی

1۔ دستور میں شامل کسی امر کے باوجود ، لیکن (آرٹیکل 63) آرٹیکل 64 اور آرٹیکل 223 کے تابع،۔
(الف ) پہلی قومی اسمبلی حسب ذیل پر مشتمل ہوگی۔۔۔
(اول) ان اشخاص پر جو یوم آغاز سے عین قبل موجود پاکستان کی قومی اسمبلی میں حلف اٹھا چکے ہیں ؛ اور
(دوم) ان اشخاص پر جو آرٹیکل 51 کی شق (2الف) میں محولہ نشستوں کو پرُ کرنے کے لئے اسمبلی کے ارکان کی طرف سے قانون کے مطابق منتخب کئے جائیں گے،
اور، تاوقتیکہ اسے اس سے قبل توڑنہ دیا جائے ، چودہ اگست ، سن انیس سو ستتر تک برقرار رہے گی ؛ اور دستور میں قومی اسمبلی کی کل رکنیت کے حوالے کا مفہوم بحسبہ، لیا جائے گا؛
(ب) پہلی قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہونے اور رہنے کے لئے اہلیتیں اور نا اہلیتیں، ماسوائے یوم آغاز کے بعد اتفاقی طور پر خالی ہونے والی نشستیں پُر کرنے والے ، یا آرٹیکل 51کی شق (2 الف) میں محولہ زائد نشستوں کے لئے منتخب ہونے والے ارکان کے دہی ہوں گی جو کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے عبوری دستور کے تحت مقرر کی گئی تھیں:
مگر شرط یہ ہے کہ ملازمت پاکستان میں کسی منفعت بخش عہدہ پر فائز کوئی شخص یوم آغاز سے تین ماہ کے ختم ہونے کے بعد پہلی قومی اسمبلی کا رکن برقرار نہیں رہے گا۔
2۔ اگر شق(1) کے پیرا (الف) میں محولہ کوئی شخص ، یوم آغاز سے عین قبل، کسی صوبائی اسمبلی کا بھی رکن ہو، تو وہ قومی اسمبلی یا صوبائی اسمبلی میں کوئی نشست نہیں سنبھالے گا تاوقتیکہ وہ اپنی کسی ایک نشست سے مستعفی نہ ہو جائے۔
3۔ پہلی قومی اسمبلی میں ، کسی رکن کی وفات یا استعفیٰ کی وجہ سے یا اس کے نااہل ہوجانے کے نتیجہ میں ، یا کسی انتخابی عذرداری کے حتمی فیصلے کی بناء پر رکن نہ رہنے کی وجہ سے ، اتفاقی طور پر خالی ہونے والی کسی نشست کو جس میں یوم آغاز سے قبل موجود پاکستان کی قومی اسمبلی کی کوئی ایسی خالی نشست بھی شامل ہے جو اس دن سے قبل پُر نہیں کی گئی تھی، اس طریقہ سے پُر کیا جاسکے گا جس طریقے سے وہ یوم آغاز سے قبل پُر کی جاتی۔
4۔ شق(1) کے پیرا (الف) میں محولہ کوئی شخص قومی اسمبلی میں نہ بیٹھے گا نہ ووٹ دے گا، تاوقتیکہ اس نے آرٹیکل 65کے تحت مقررہ حلف نہ اٹھا لیا ہو اور اگر ظاہر کردہ معقول وجوہ کی بناء پر قومی اسمبلی کے اسپیکر کی جانب سے دی گئی اجازت کے بغیر وہ اسمبلی کے پہلے اجلاس کے دن سے اکیس دن کے اندر حلف اٹھانے سے قاصر رہے، تواس مدت کے اختتام پر اس کی نشست خالی ہوجائے گی۔
Comments
No comments yet. Be the first to share your thoughts.