قوانین وغیرہ کا استقرار اور تسلسل

1۔ چودہ اکتوبر 1999ءکے ہنگامی حالت کے اعلان ، عارضی دستور فرمان نمبر1 مجریہ 1999ء فرمان (جج صاحبان) عہدہ کا حلف ، 2000ء (نمبر1 مجریہ 2000ء) ، چیف ایگزیکٹو کا فرمان نمبر12 مجریہ 2002ء چیف ایگزیکٹو کا فرمان نمبر 19 مجریہ 2002ء قانونی ڈھانچہ فرمان، 2002ء (چیف ایگزیکٹو کا فرمان نمبر 24 مجریہ 2002ء ) کے ذریعے دستور میں وضع کردہ ترامیم، فرمان قانونی ڈھانچہ (ترمیم)،2002ء(چیف ایگزیکٹو کا فرمان نمبر 29مجریہ 2002ء ) اور فرمان قانونی ڈھانچہ (ترمیم دوم)، 2002ء (چیف ایگزیکٹو کا فرمان نمبر 32 مجریہ 2002ء) بلالحاظ کسی بھی عدالتی فیصلے کے بشمول عدالت عظمیٰ یا عدالت عالیہ کے بذریعہ ہذا علان کیا جاتا ہے کہ وہ بغیر کسی قانونی اختیار کے وضع کیے گئے تھے اور ان کا کوئی قانونی اثر نہیں ہے۔
2۔ ماسوائے شرائط شق(1) کے اور دستور (اٹھارویں ترمیم) ایکٹ ،2010ء کے احکامات کے مطابق ، تمام دوسرے قوانین بشمول صدارتی فرامین ، ایکٹس، آرڈیننسوں ، چیف ایگزیکٹو کے فرامین ، ضوابط ، وضع شدہ قوانین ، اعلانات، قواعد ، احکام یا ذیلی قوانین جو بارہ اکتوبر انیس سوننانوے اور اکتیس دسمبر دو ہزار تین (دونوں دن شامل ہوں گے) اور ابھی تک نافذ العمل ہیں ، نافذ العمل رہیں گے تاوقتیکہ ہیئت مجاز کی طرف سے انہیں تبدیل ، منسوخ یا ترمیم نہ کردیا جائے۔
تشریح: شق (2) اور شق (6) کی اغراض کے لیے "ہیئت مجاز " سے، ۔
(الف) فرامین صدر ، آرڈیننس، چیف ایگزیکٹو کے فرامین اور تمام دوسرے قوانین کی نسبت متعلقہ مقننہ مراد ہے؛ اور
(ب) اعلانات ، قواعد ، احکام اور ذیلی قوانین کی نسبت وہ ہیئت مجاز مراد ہے جسے قانون کے تحت وضع کرنے یا تبدیل کرنے ، منسوخ کرنے یا ترمیم کرنے کا اختیار حاصل ہو؛
3۔ بلا لحاظ اس امر کے کہ دستور میں یاشق (1) میں یا کسی بھی عدالت کے فیصلہ میں بشمول عدالت عظمیٰ یا عدالت عالیہ کے ، کوئی حکم موجود ہو، ۔
(الف) عدالت عظمیٰ ، عدالت عالیہ اور وفاقی شرعی عدالت کے جج صاحبان جو کے جج کے عہدہ پر فائز تھے یا جن کا مذکورہ طور پر تقرر کیا گیا، اور جنہوں نے فرمان (جج صاحبان) عہدہ کا حلف 2000ء (نمبر1 مجریہ 2000ء ) کے تحت حلف اٹھایا تھا، آئین کے تحت وہ بطور جج اپنے عہدہ پر یا جن کا اس طرح تقرر کیا جاچکا ہو، جیسی بھی صورت ہو، بدستور فائز متصور ہوں گے اور مذکورہ تقرر یا فائز رہنا ، بحسبہ موئثر ہوگا۔
(ب) عدالت عظمیٰ ، عدالت عالیہ اور وفاقی شرعی عدالت کے جج صاحبان جنہوں نے فرمان (جج صاحبان) عہدہ کا حلف 2000ء (نمبر 1 مجریہ 2000ء ) کے تحت حلف نہیں اتھایا یا جن سے حلف نہیں لیا گیا یا جن کا جج کے عہدہ پر فائز رہنا ختم ہوگیا ہے ، صرف پنشن کے فوائد کے اغراض سے، آئین کے تحت پیرا نہ سالی کی تاریخ تک ان کا اپنے عہدہ پر فائز رہنا متصور ہوگا۔
4۔ تمام وضع کردہ احکامات کی گئی کاروائیاں ، کیے گئے تقرر بشمول مستعار الخدمتیاں اور عارضی تبادلے اور کسی ہیئت مجاز یا کسی شخص کی طرف سے کیے گئے افعال جو بارہ اکتوبر انیس سو ننانوے اور اکتیس دسمبر دو ہزار تین کے درمیان (دونوں دن شامل کر کے)،شق(2) میں محولہ کیس ہیئت مجاز یا قوانین سے حاصل شدہ اختیارات کو استعمال کرتے ہوئے ، یا مذکورہ بالا اختیارات کے استعمال یا مطلوبہ استعمال میں کسی ہیئت مجاز کی طرف سے وضع کردہ احکام یا صادر کردہ سزائوں کی تعمیل میں وضع کیے گئے تھے، کی گئی تھیں یا کیے گئے تھے یا جن کا کرنا، کی جانا یا کیا جانا مترشح ہو، شق (1)میں شامل کسی امر کے باوجود جائز طور پر متصور ہوں گے اور کسی بھی عدالت یا فورم میں کسی بھی بناء پر چاہے جو کچھ ہو اعتراض نہیں کیا جائے گا۔
5۔ کسی ہیئت مجاز یا کسی شخص کے خلاف کسی وضع کردہ حکم ، کی گئی کاروائی یا کیے گئے فعل کے لئے یا اس کے سبب یا اس کی نسبت جو خواہ شق (2) یا شق (4) میں محولہ اختیارات کے استعمال یا مطلوبہ استعمال میں ہو یا مذکورہ اختیارات کے استعمال یا مطلوبہ استعمال میں وضع کردہ احکام یا صادر کردہ احکام سزا کی بجا آوری یا تعمیل میں ہو ، کسی عدالت یا فورم میں کوئی مقدمہ، استغاثہ یا دیگر قانونی کاروائی قابل سماعت نہیں ہوگی۔
6۔ مشترکہ قانون سازی کی فہرست کو دستور (اٹھارویں ترمیم) ایکٹ2010ء سے حذف کرنے کے باوجود تمام قوانین جو کسی بھی معاملات کی نسبت مذکورہ فہرست میں شمار کیے گئے ہیں (بشمول آرڈیننس، فرامین ، قواعد ، ضمنی قوانین ، ضوابط اور اعلانات اور دوسری دستاویزات جو کہ قانونی طاقت کی حامل ہیں) دستور (اٹھارویں ترمیم) ایکٹ، 2010ء کے آغاز ِ نفاذ سے فی الفور قبل پاکستان میں یا اس کے کسی حصے میں نافذ العمل ہیں یا ان کا مادرائے حدود نفاذ ہے وہ بدستور نافذ العمل رہیں گے تاوقتیکہ ہیئت مجاز کی طرف سے انہیں تبدیل ، منسوخ یا ترمیم نہ کردیا جائے۔
7۔ دستور میں موجود کسی امر کے باوصف ، کسی بھی نافذ العمل قانون کے تحت ، تمام محاصل اور فیسیں جو کہ دستور (اٹھارویں ترمیم) ایکٹ 2010ء کے نفاذ سے فی الفور قبل عائد تھیں بدستور عائد رہیں گی تاوقتیکہ متعلقہ مقننہ کے ایکٹ سے انہیں تبدیل یا ختم کر دیا جائے۔
8۔ مشترکہ قانون سازی کی فہرست کے حذف پر ، مذکورہ فہرست میں مندرج صوبوں کو تفویض اختیارات کے معاملات کو تیس جون دو ہزار گیارہ تک مکمل کرلیا جائے گا۔
9۔ شق (8) کے تحت تفویض اختیارات کی اغراض کے لئے دستور (اتھارویں ترمیم) ایکٹ ، 2010ء کے آغاز و نفاذ کے پندرہ ایام کے اندر وفاقی حکومت جیسا کہ وہ موزوں خیال کرئے تعمیل کمیشن تشکیل کرئے گی۔
Comments
No comments yet. Be the first to share your thoughts.