فرامین صدر، وغیرہ کی توثیق

1۔ پانچ جولائی 1977ء کے اعلان ، تمام فرامین صدر، آرڈیننس ، مارشل لاء کے ضوابط، مارشل لاء کے احکام ، بشمول فرمان ریفرنڈم ، 1984ء (فرمان صدر نمبر 11 مجریہ 1984ء )، 1973ء کے دستور کی بحالی کے فرمان ، 1985ء (فرمان صدر نمبر 14 مجریہ 1985ء ) ، فرمان دستور (ترمیم ثانی)، 1985ء ( فرمان صدر نمبر 20مجریہ 1985ء ) ، فرمان دستور (ترمیم ثالث)، 1985ء (فرمان صدر نمبر 24 مجریہ 1985ء ) اور تمام دیگر قوانین کی جو پانچ جولائی ، 1977ء اور اس تاریخ کے درمیان وضع کئے جائیں جس پر یہ آرٹیکل نافذ العمل ہو، بذریعہ ہذا توثیق کی جاتی ہے ، انہیں تسلیم کیا جاتا ہے اور قرار دیا جاتا ہے کہ وہ کسی عدالت کے کسی فیصلے کے باوجود ، ہیئت مجاز کی طرف سے جائز طور پر وضع کئے گئے ہیں اور دستور میں شامل کسی امر کے باوجود ، ان پر کسی عدالت میں کسی بھی بناء پر چاہے جو کچھ ہو اعتراض نہیں کیا جائے گا:
مگر شرط یہ ہے کہ 30ستمبر1985ء کے بعد وضع کردہ کوئی فرمان صدر، مارشل لاء کا ضابطہ یا مارشل لاء کا حکم محض ایسے احکام وضع کرنے تک محدود ہوگا جو پانچ جولائی 1977ء کے اعلان کی تنسیخ میں ممدہوں، یا اس کے ضمن میں ہوں۔
2۔ کسی ہیئت مجاز کی یا کسی شخص کی طرف سے تمام وضع کردہ احکام کی گئی کاروائیاں اور کئے گئے افعال ، جو پانچ جولائی ، 1977، اور اس تاریخ کے درمیان جس پر یہ آرٹیکل نافذ العمل ہو، کسی اعلان ، فرامین صدر، آرڈیننس ، مارشل لاء کے ضوابط ، مارشل لاء کے احکام ، موضوعہ قوانین، اعلانات ، قواعد ، احکام یا ضمنی قوانین سے حاصل شدہ اختیارات کے استعمال میں یا مذکورہ بالا اختیارات کے استعمال میں کسی ہیئت مجاز کی طرف سے وضع کردہ احکام یا صادر کردہ سزائوں کی تعمیل میں وضع کئے گئے تھے ، کی گی تھیں یا کئے گئے تھے یا جن کا کرنا، کی جانایا کیا جانا مترشح ہوتا ہو، کسی عدالت کے کسی فیصلے کے باوجود جائز طور پر اور ہمیشہ سے جائز طور پر وضع شدہ کی گئی یا کئے گئے متصور ہوں گے اور ان پر کسی بھی عدالت میں کسی بھی بناء پر چاہے جو کچھ ہو اعتراض نہیں کیا جائے گا۔
3۔ تمام فرامین صدر ، آرڈیننس ، مارشل لا ء کے ضوابط مارشل لاء کے احکام ، موضوعہ قوانین، اعلانات ، قواعد ، احکام یا ضمنی قوانین جو اس تاریخ سے عین قبل نافذ العمل ہوں جس پر یہ آرٹیکل نافذ العمل ہو، نافذ العمل رہیں گے تاوقتیکہ ہیئت مجاز انہیں تبدیل، منسوخ یا ترمیم نہ کردے۔
تشریح: اس شق میں "ہیت مجاز " سے ۔۔۔
(الف) فرامین صدر ، آرڈیننس ، مارشل لاء کے ضوابط ، مارشل لاء کے احکام اور قوانین موضوعہ کی نسبت موزوں مقننہ مراد ہے، اور
(ب) اعلانات ، قواعد ، احکام اور ضمنی قوانین کی نسبت وہ ہیئت مراد ہے جسے قانون کے تحت انہیں وضع کرنے ، تبدیل کرنے ، منسوخ کرنے یا ترمیم کرنے کا اختیار حاصل ہو۔
4۔ کسی ہیئت مجاز یا کسی شخص کے خلاف کسی وضع کردہ حکم کی گئی کاروائی یا کئے گئے فعل کیلئے یا اس کے سبب سے یا اس کی نسبت جو خواہ شق (2)میں محولہ اختیارات کے استعمال یا مطلوبہ استعمال میں ہو یا مذکورہ اختیارات کے استعمال یا مطلوبہ استعمال میں وضع کردہ احکام یا صادر کردہ سزوئوں کے انصرام یا تعمیل میں ہو، کسی عدلات میں کوئی مقدمہ یا دیگر قانونی کاروائی قابل سماعت نہیں ہوگی۔
5۔ شقات (1)، (2) اور (4) کی اغراض کے لئے کسی ہیئت مجاز یا شخص کی طرف سے تمام وضع کردہ احکام کی گئی کاروائیاں ، کئے گئے افعال یا جن کا وضع کیا جانا، کیا جانا یا کرنا مترشح ہوتا ہو،نیک نیتی سے اور اس غرض کے لئے جس کا پورا کرنا ان کےذریعے مطلوب تھا وضع کردہ کی گئی یا کئے گئے متصور ہوں گے۔
6۔ شق (1) میں محولہ قوانین میں متعلقہ مجلس قانون ساز اس طریقہ کے مطابق جو کہ مذکورہ قوانین کی ترمیم کے لیے فراہم کیا گیا ہے ترمیم کرسکے گی۔
Comments
No comments yet. Be the first to share your thoughts.