بعض قوانین وغیرہ کی عارضی توثیق

1۔ مجلسِ شوریٰ (پارلیمنٹ) ، وفاقی فہرست قانون سازی کے حصہ اول میں شامل کسی امر کے لئے قانون سازی کے مقرر طریقے کے مطابق وضع کردہ قانون کے ذریعے پچیس مارچ، سن ایک ہزار نو سو انہتر اور انیس دسمبر ، سن ایک ہزار نو سو اکہتر (بشمول ہر دو روز) کے درمیان وضع کردہ تمام اعلانات ، فرامین صدر ، مارشل لا ء کے ضوابط ، مارشل لاء کے احکام اور دیگر قوانین کی توثیق کرسکے گی۔
2۔ کسی عدالت کے فیصلے کے باوجود ، شق (1) کے تحت مجلسِ شوریٰ (پارلیمنٹ) کے وضع کردہ کسی قانون پر کسی عدالت میں کسی بناء پر چاہے کچھ ہو اعتراض نہیں کیا جائے گا۔
3۔ شق (1) کے احکام اور کسی عدالت کے اس کے برخلاف کسی فیصلہ کے باوجود ، یوم آغاز سے دو سال کے لئے ایسی تمام دستاویزات جن کا حوالہ شق (1) میں دیا گیا ہے کے جواز کو کسی عدالت میں کسی بھی بناء پر چاہے کچھ ہو، زیر بحث نہیں لایا جائے گا۔
4۔ کسی ہیئت مجاز یا کسی شخص کی طرف سے تمام وضع کردہ احکام کی گئی کاروائیاں اور کئے گئے افعال جو پچیس مارچ سن ایک ہزار نو سو انہتر اور انیس دسمبر سن ایک ہزار نو سو اکہتر (بشمول ہر دو روز) کے مابین کسی فرامین صدر، مارشل لاء کے ضوابط ، مارشل لاء کے احکام ، موضوعہ قوانین ، اعلانات ، قواعد ، احکام یا ضمنی قوانین سے حاصل شدہ اختیارات کے استعمال میں یا مذکورہ بالا اختیارات کے استعمال میں کسی ہیئت مجاز کی طرف سے وضع کردہ احکام یا صادر کردہ سزائوں کی تعمیل میں وضع کئے گئے تھے کی گئی تھیں یا کئے تھے یا جن کا وضع کیا جانا ، کی جانا یا کیا جانا مترشح ہوتا ہو، کسی عدالت کے کسی فیصلہ کے باوجود جائز طور پر اور ہمیشہ سے جائز طور پر وضع شدہ کی گئی یا کئے گئے متصورہوں گے ، تاہم ایسے کسی حکم ، کسی کاروائی یا فعل کومجلس شوریٰ (پارلیمنٹ) یوم آغاز سے دو سال کے عرصہ کے اندر کسی وقت بھی ہر دو ایوانوں کی قرار داد کے ذریعے، یا دونوں ایوانوں کے درمیاں عدم اتفاق کی صورت میں کسی ایسی قرارداد کے ذریعے جو مشترکہ اجلاس میں منظور کی گئی ہو، ناجائز قرار دے سکتی ہے نیز اس پر کسی عدالت کے سامنے کسی بھی وجہ سے چاہے جو کچھ ہو اعتراض نہیں کیا جائے گا۔
Comments
No comments yet. Be the first to share your thoughts.