بعض قوانین کے نفاذ کا تسلسل اور تطبیق

1۔ بجزجیسا کہ اس آرٹیکل میں قرار دیا گیا ہے، تمام موجودہ قوانین ، اس دستور کے تابع جس حد تک قابل اطلاق ہوں اور ضروری تطبیق کے ساتھ اس وقت تک بدستور نافذ رہیں گے جب تک کہ متعلقہ مقننہ انہیں تبدیل یا منسوخ نہ کردے یا ان میں ترمیم نہ کرئے۔
3۔ کسی موجودہ قانون کے احکام کو (اس دستور کے حصہ دوم کے علاوہ) دستور کے احکام کی مطابقت میں لانے کی غرض سے ، یوم آغاز سے دو سال کی مدت کے اندر اندر ، صدر بذریعہ فرمان ، خواہ بطور ردوبدل ، اضافہ یا حذف ، ایسی تطبیق کرسکے گا جو ضروری یا قرین مصلحت تصور کرئے اور اس طرح صادر شدہ کوئی فرمان ایسی تاریخ سے نافذ العمل ہوگا جو یو م آغاز سے پہلے کی تاریخ نہ ہو اور جس کی صراحت فرمان میں کردی جائے۔
4۔ صدر کسی صوبے کے گورنر کو اس صوبے کے سلسلے میں ان قوانین کی بابت جن کی بابت صوبائی اسمبلی کو قانون بنانے کا اختیار ہے، ان اختیارات کے استعمال کا مجاز کرسکے گا جو صدر کو شق (3) کی رو سے عطا کئے گئے ہیں۔
5۔ شقات (3) اور (4) کے تحت قابل استعمال اختیارات متعلقہ مقننہ کے کسی ایکٹ کے احکام کے تابع ہوں گے۔
6۔ کوئی ایسی عدالت ، ٹربیونل، یا ہیئت مجاز جسے کسی موجودہ قانون کے نفاذ کا حکم یا اختیار دیا گیا ہو، اس امر کے باوجود کہ شق (3) یا شق (4) کے تحت جاری کردہ کسی فرمان کے ذریعے مذکورہ قانون میں کوئی تطبیق نہ کی گئی ہو، اس قانون کی تعبیر ایسی جملہ تطبیقات کے ساتھ کرئے گی ، جو اسے اس دستور کے احکام کی مطابقت میں لانے کے لئے ضروری ہوں۔
7۔ اس آرٹیکل میں " موجودہ قوانین" سے مراد جملہ قوانین (بشمول آرڈیننس، احکام بااجلاس کونسل، فرامین ، قواعد ، ذیلی قوانین ، ضوابط اور کسی عدالت عالیہ کے تشکیل کرنے والے لیٹرز پیٹنٹ اور کوئی اعلان اور قانون اثر کی حامل دیگر قانونی دستاویزات) جو یوم آغاز سے عین قبل پاکستان میں یا پاکستان کے کسی حصے میں نافذ العمل ہوں یا بیرون ملک جواز رکھتے ہوں۔
تشریح: اس آرٹیکل میں کسی قانون کے سلسلے میں " نافذ العمل" سے مراد قانون کی حیثیت سے موئثر ہونا ہے خواہ اس قانون کو روبہ عمل لایا گیا ہویا نہ لایا گیا ہو۔
Comments
No comments yet. Be the first to share your thoughts.