صدر وغیرہ کی تنخواہیں ، بھتہ جات وغیرہ

1۔ یو م آغاز سے دو سال کے اندر اندر، صدر ، اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر اور قومی اسمبلی یا کسی صوبائی اسمبلی کے کسی رکن ، سینیٹ کے چیئر مین اور ڈپٹی چیئر مین اور کسی رکن ، وزیراعظم ، کسی وفاقی وزیر، کسی وزیر مملکت، کسی وزیر اعلیٰ ، کسی صوبائی وزیر اور چیف الیکشن کمشنر کی تنخواہیں،الائونسز اور مراعات کا تعین کرنے کے لئے قانون کے ذریعے احکام وضع کئے جائیں گے۔
2۔ جب تک کہ قانون کے ذریعے دیگر احکام وضع نہ کئے جائیںـــــ
(الف) صدر، قومی اسمبلی یا کسی صوبائی اسمبلی کے اسپیکر یا ڈپٹی اسپیکر یا کسی رکن ، کسی وفاقی وزیر ، وزیر مملکت، کسی وزیراعلیٰ، کسی صوبائی وزیر اور چیف الیکشن کمشنر کی تنخواہیں ، بھتہ جات اور مراعات وہی ہوں گی جن کا صدر ، قومی اسمبلی پاکستان یا کسی صوبائی اسمبلی کا اسپیکر ، ڈپٹی اسپیکر یا رکن ، کوئی وفاقی وزیر ، کوئی وزیر مملکت کوئی وزیر اعلیٰ ، کوئی صوبائی وزیر ، یا جیسی بھی صورت ہو، چیف الیکشن کمشنر یوم آغاز سے عین قبل مستحق تھا؛ اور
(ب) چیئرمین ، ڈپٹی چیئر مین ، وزیراعظم اور سینیٹ کے کسی رکن کی تنخواہیں ، بھتہ جات اور مراعات وہ ہوں گی جو صدر بذریعہ فرمان متعین کرئے۔
3۔ کسی شخص کی تنخواہ ، بھتہ جات اور مراعات میں ، جوــــ
(الف) صدر؛
(ب) چیئر مین یا ڈپٹی چیئر مین ؛
(ج) قومی اسمبلی یا کسی صوبائی اسمبلی کے اسپیکر یا ڈپٹی اسپیکر؛
(د) کسی گورنر؛
(ہ) چیف الیکشن کمشنر؛ یا
(و) محاسب اعلیٰ،
کے عہدہ پر فائز ہو، اس کی میعاد عہدہ کے دوران اس کے مفاد کے منافی تغیر نہیں کیا جائے گا۔
4۔ کسی وقت جبکہ چیئرمین یا اسپیکر صدر کے طور پر فرائض انجام دے رہا ہو، تو وہ ایسی تنخواہ، بھتہ جات اور مراعات کا مستحق ہوگا جس کا صدر ہے لیکن وہ چیئر مین یا اسپیکر یا مجلس شوریٰ (پارلیمنٹ) کے رکن کے فرائض منصبی انجام نہیں دے گا اور نہ وہ چیئر مین یا اسپیکر یا کسی مذکورہ رکن کی تنخواہ ، بھتہ جات یا مراعات کا مستحق ہوگا۔
Comments
No comments yet. Be the first to share your thoughts.