قبائلی علاقہ جات

اس دستور میں،ــــ
(الف) " قبائلی علاقہ جات" سے پاکستان کے وہ علاقہ جات مراد ہیں جو ، یوم آغاز سے عین قبل،
قبائلی علاقہ جات تھے اور ان میں حسب ذیل شامل ہیںـــــ
(اول) بلوچستان اور خیبر پختونخواہ کے قبائلی علاقہ جات
(دوم) امب، چترال، دیر اور سوات کی سابقہ ریاستیں؛
(ب) "صوبے کے زیر انتظام قبائلی علاقہ جات" سے حسبِ ذیل مرادہیںـــــ
(اول) چترال ، دیر اور سوات (جس میں کالام شامل ہے ) کے اضلاع ضلع کوہستان کا قبائلی علاقہ، مالا کنڈ کا محفوظ علاقہ ، ضلع ، مانسہرہ سے ملحقہ قبائلی علاقہ اور امب کی سابق ریاست ؛ اور
(دوم) ضلع ژوب ، ضلع لورالائی (تحصیل ڈکی کے علاوہ ) ضلع چاغی کی تحصیل دالبند ین اور ضلع سبی کے مری اور بگتی قبائلی علاقہ جات؛
(ج) "وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقہ جات" میں حسبِ ذیل شامل ہیںــــــ
(اول) ضلع پشاور سے ملحقہ قبائلی علاقہ جات؛
(دوم) ضلع کوہاٹ سے ملحقہ قبائلی علاقہ جات؛
(سوم) ضلع بنوں سے ملحقہ قبائلی علاقہ جات؛
(سوم الف) ضلع لکی مروت سے ملحقہ قبائلی علاقہ جات؛
(چہارم) ضلع ذیرہ اسماعیل خان سے ملحقہ قبائلی علاقہ جات؛
(چہارم الف) ضلع ٹانک سے ملحقہ قبائلی علاقہ جات؛
(پنجم) باجوڑا یجنسی؛
(پنجم الف) ادرک زئی ایجنسی؛
(ششم) مہمندایجنسی؛
(ہفتم) خیبر ایجنسی؛
(ہشتم) کرم ایجنسی؛
(نہم) شمالی وزیر ستان ایجنسی ؛ اور
(دہم) جنوبی وزیر ستان ایجنسی؛ اور۔
(د) دستور (پچیسویں ترمیم) ایکٹ ، 2018ء کے آغاز نفاذ پر اس میں مذکورہ علاقہ جات، ۔
(اول) پیرا (ب)،۔
(الف) ذیلی پیرا (اول) میں ، صوبہ خیبر پختونخوا میں انضمام شدہ سمجھے جائیں گے؛اور
(ب) ذیلی پیرا(دوم)میں ، صوبہ بلوچستان میں انضمام شدہ سمجھے جائیں گے؛ اور
(دوم) پیرا (ج) ، صوبہ خیبر پختونخوا میں انضمام شدہ سمجھے جائیں گے۔
Comments
No comments yet. Be the first to share your thoughts.