LawyersOnline.pkLawyersOnline.pk
General Articles

دستور میں ترمیم کابل

By Super Admin
دستور میں ترمیم کابل

1۔ دستورمیں ترمیم کرنے کے بل کی ابتداء کسی بھی ایوان میں کی جاسکے گی اور جبکہ اس بل کو ایوان کی کل رکنیت کے کم از کم دو تہائی ووٹوں سے منظور کرلیا جائے تو اسے دوسرے ایوان میں بھیج دیا جائے گا۔
2۔ اگر بل کو اس ایوان کی کل رکنیت کے کم از کم دو تہائی ووٹوں سے بلا ترمیم منظور کرلیا جائے جسے شق (1) کے تحت اسے بھیجا گیا تھا ، تو اسے شق (4) کے احکام کے تابع صدر کی منظوری کے لئے پیش کیا جائے گا۔
3۔ اگر بل کو اس ایوان کی کل رکنیت کے کم از کم دو تہائی ووٹوں سے ترمیم کے ساتھ منظور کیا جائے جسے شق(1) کے تحت اسے بھیجا گیا تھا تو اس پر وہ ایوان دوبارہ غور کرئے گا جس میں اس کی ابتدا ہوئی تھی ، اور اگر بل کو جس طرح کہ اول الذکر ایوان میں اس میں ترمیم کی گئی تھی آخر الذکر ایوان کی طرف سے اس کی کل رکنیت کے کم از کم دو تہائی ووٹوں سے منظور کرلیا جائے تو اسے شق(4) کے احکام کے تابع ، صدر کی منظوری کے لئے پیش کیا جائے گا۔
4۔ دستور میں ترمیم کے کسی بل کو جو کسی صوبے کی حدود میں ردوبدل کا اثر رکھتا ہو صدر کی منظوری کے لئے پیش نہیں کیا جائے گا تاوقتیکہ اسے اس صوبے کی صوبائی اسمبلی نے اپنی کل رکنیت کے کم از کم دو تہائی ووٹوں سے منطور نہ کرلیا ہو۔
5۔ دستور میں کسی ترمیم پر کسی عدالت میں کسی بناء پر چاہے جو کچھ ہو کوئی اعتراض نہیں کیا جائے گا۔
6۔ ازالہ شک کے لیے، بذریعہ ہذا قرار دیا جاتا ہے کہ دستور کے احکام میں سے کسی میں ترمیم کرنے کے مجلسِ شوریٰ (پارلیمنٹ) کے اختیار پر کسی بھی قسم کی کوئی پابندی نہیں ہے۔

Comments

No comments yet. Be the first to share your thoughts.