LawyersOnline.pkLawyersOnline.pk
General Articles

کسی صوبے میں دستوری نظام کے ناکام ہوجانے کی صورت میں اعلان جاری کرنے کا اختیار

By Super Admin
کسی صوبے میں دستوری نظام کے ناکام ہوجانے کی صورت میں اعلان جاری کرنے کا اختیار

1۔ اگر صدر کسی صوبے کے گورنر کی طرف سے کوئی رپورٹ موصول ہونے پر مطمئن ہوجائے کہ ایسی صورتحال پیدا ہوگئی ہے جس میں صوبے کی حکومت دستور کے احکام کے مطابق نہیں چلائی جاسکتی، تو صدر کو اختیار ہوگا یا اگر اس کے بارے میں ہر ایوان سے علیحدہ علیحدہ کوئی قرار داد منظور ہوجائے تو صدر کیلئے لازم ہوگا کہ اعلان کے ذریعےــــــ
(الف) اس صوبے کی حکومت کے کل یا بعض کارہائے منصبی ، اور ایسے کل یا بعض اختیارات جو صوبائی اسمبلی کے علاوہ صوبے کے کسی با اختیار ادارے یا ہیئت مجاز کو حاصل ہوں یا جن کو وہ استعمال کرسکتے ہوں خود سنبھال لے یا صوبے کے گورنر کو ہدایت دے کہ وہ صدر کی جانب سے انہیں سنبھال لے؛
(ب) یہ اعلان کرسکے کہ صوبائی اسمبلی کے اختیارات کا استعمال مجلس شوریٰ (پارلیمنٹ) کرئے گی یا اس کے حکم سے کیا جائے؛اور
(ج) ایسے ضمنی اور ذیلی احکام وضع کرئے جن کو صدر، اعلان کی غرض و غایت کو عمل میں لانے کے لئے ضروری یا مناسب خیال کرئے ، ان میں ایسے احکام بھی شامل ہیں جو صوبے کے کسی ادارہ یا ہیئت سے متعلق دستور کے کسی حکم پر عملدرآمد کو کلی یا جزوی طور پر معطل کرنے کے لئے ہوں :
مگر شرط یہ ہے کہ اس آرٹیکل میں مذکور کوئی امر صدر کو اس بات کا اختیار نہیں دے گا کہ وہ ان اختیارات کو جو کسی عدالت عالیہ کو حاصل ہوں یا جنہیں وہ استعمال کرسکتی ہو خود سنبھال لے یا صوبے کے گورنر کو ہدایت کرئے کہ وہ اس کی جانب سے مذکورہ اختیارات سنبھال لے اور نہ وہ عدالت ہائے عالیہ سے متعلق دستور کے کسی حکم کے عمل درآمد کو کلی یا جزوی طور پر معطل کرنے کا مجاز ہوگا۔
2۔ آرٹیکل 105 کے احکامات کا اطلاق شق (1) کے تحت گورنر کے کارہائے منصبی کی بجاآوری پر نہیں ہوگا۔
3۔ اس آرٹیکل کے تحت جاری شدہ اعلان ایک مشترکہ اجلاس کے سامنے پیش کیا جائے گا اور دو ماہ کی مدت گزر جانے پر نافذ العمل نہیں رہے گا، تاوقتیکہ مذکورہ مدت کے گزر جانے سے قبل اسے مشترکہ اجلاس کی قرار داد کے ذریعے منظور نہ کر لیا گیا ہو اور ایسی ہی قرارداد کے ذریعے اسے ایسی مزید مدت کے لئے بڑھا یا جاسکے گا جو دو ماہ سے زیادہ نہ ہو؛ لیکن ایسا کوئی اعلان کسی بھی صورت میں چھ ماہ سے زیادہ تک نافذ العمل نہیں رہے گا۔
4۔ شق(3) میں شامل کسی امر کے باوجود ، اگر قومی اسمبلی اس وقت ٹوٹ چکی ہو، جب اس آرٹیکل کے تحت کوئی اعلان جاری کیا جائے تو وہ اعلان تین ماہ کی مدت کےلئے بدستور نافذالعمل رہے گا لیکن، اسمبلی کا عام انتخاب مذکورہ مدت کے اختتام سے پہلے منعقد نہ ہو، تو وہ اس مدت کے اختتام پر ساقط العمل ہوجائے گا تاوقتیکہ اسے سینیٹ کی ایک قرار داد کے ذریعہ پہلے ہی منظور نہ کیا جاچکا ہو۔
5۔ جب اس آرٹیکل کے تحت جاری شدہ کسی اعلان کے ذریعے اس امر کا اعلان کردیا گیا ہو کہ صوبائی اسمبلی کے اختیارات کا استعمال مجلس شوریٰ (پارلیمنٹ) کرئے گی یا اس کے اختیار مجاز کے تحت ان کا استعمال کیا جائے گا توــــــــ
(الف) مجلس شوریٰ (پارلیمنٹ) کو اختیار ہوگا کہ مشترکہ اجلاس میں صوبائی اسمبلی کے اختیار قانون سازی میں شامل کسی امر سے متعلق قوانین وضع کرنے کا اختیار صدر کے سپرد کردے؛
(ب) مجلس شوریٰ (پارلیمنٹ) کے مشترکہ اجلاس یا صدر کو ، جب کہ اسے پیرا(الف) کے تحت مجاز کیا گیا ہو، اختیار ہوگا کہ وہ وفاق یا اس کے افسروں اور حکام مجاز کو اختیارات عطا کرنےاور فرائض عائد کرنے یا اختیارات عطا کرنے اور فرائض عائد کرنے کا مجاز کرنے کے لئے قوانین وضع کرئے؛
(ج) صدر کو جب مجلس شوریٰ (پارلیمنٹ) کا اجلاس نہ ہو رہا ہو، اختیار ہوگا کہ مجلس شوریٰ (پارلیمنٹ) کے مشترکہ اجلاس سے ایسے خرچ کی منظوری حاصل ہونے تک ، صوبائی مجموعی فنڈ سے خرچ کی منظوری دے خواہ یہ خرچ دستور کی رو سے مذکورہ فنڈ سے واجب الادا ہویا نہ ہو ؛ اور
(د) مجلس شوریٰ (پارلیمنٹ)کو مشترکہ اجلاس میں یہ اختیار ہوگا کہ قرار داد کے ذریعے پیرا (ج) کے تحت صدر کی طرف سے منظور کردہ خرچ کی اجازت دے۔
6۔ کوئی قانون جسے مجلس شوریٰ (پارلیمنٹ) یا صدر نے وضع کیا ہو، جس کے وضع کرنے کا اختیار مجلس شوریٰ (پارلیمنٹ) یا صدر کو نہ ہوتا، اگر اس آرٹیکل کے بموجب اعلان جاری نہ ہوا ہوتا تو وہ اس آرٹیکل کے تحت اعلان کی مدت ختم ہونے کے چھ ماہ بعد عدم اہلیت کی حد تک غیر موئثر ہوجائے گا، سوائے ان امور کے جو مذکورہ مدت کے ختم ہونے سے قبل انجام پاچکے ہوں یا انجام دہی سے نظر انداز ہوگئے ہوں۔

Comments

No comments yet. Be the first to share your thoughts.