LawyersOnline.pkLawyersOnline.pk
General Articles

جنگ ، داخلی خلفشار وغیرہ کی بناء پر ہنگامی حالت کا اعلان

By Super Admin
جنگ ، داخلی خلفشار وغیرہ کی بناء پر ہنگامی حالت کا اعلان

حصہ دہم (ہنگامی احکام)

1۔ اگر صدر مطمئن ہو کہ ایسی سنگین ہنگامی صورتحال موجود ہے جس میں پاکستان، یا اس کے کسی حصہ کی سلامتی کو جنگ یا بیرونی جارحیت کی وجہ سے یا داخلی خلفشار کی بناء پر ایسا خطرہ لاحق ہے جس پر قابو پانا کسی صوبائی حکومت کے اختیار سے باہر ہے ، تو ہنگامی حالت کا اعلان کرسکے گا:
مگر شرط یہ ہے کہ داخلی خلفشار جس پر قابو پانا کسی صوبائی حکومت کے اختیار سے باہر ہوکسی وجہ سے ہنگامی حالت کے نفاذ کے لیے ، اس صوبے کی صوبائی اسمبلی کی قرار داد درکار ہوگی:
مگر مزید شرط یہ ہے کہ اگر صدر اپنے طور پر اقدام کرئے تو ہنگامی حالت کے اعلان کو مجلس شوریٰ (پارلیمنٹ) ، کے دونوں ایوانوں سے ہر ایک ایوان کے روبرو دس دن کے اندر منظوری کے لیے پیش کیا جائےگا۔
2۔دستور میں شامل کسی امر کے باوجود ، جس دوران ہنگامی حالت کا اعلان زیر نفاذ ہو،ــــــ
(الف) مجلس شوریٰ (پارلیمنٹ) کو اختیار ہوگا کہ وہ کسی صوبے یا اس کے کسی حصے کے لئے ، کسی ایسے معاملے کی نسبت قوانین وضع کرئے جو وفاقی قانون سازی کی فہرست میں درج نہ ہو؛
(ب) وفاق کا عاملانہ اختیار کسی صوبے کو اس طریقے کی بابت ہدایات دینے تک وسعت پذیر ہوگا جس کے مطابق اس صوبے کے عاملانہ اختیار کو استعمال کیا جانا ہے ؛ اور
(ج) وفاقی حکومت فرمان کے ذریعے کسی صوبائی حکومت کے جملہ یا کوئی کارہائے منصبی، اور جملہ یا کوئی اختیار جو صوبائی اسمبلی کے علاوہ اس صوبے کے کسی ادارے یا ہیئت مجاز کو حاصل ہوں، یا اس کے ذریعے قابل استعمال ہوں ، خود سنبھال سکے گی یا اس صوبے کے گورنر کو ہدایت کرسکے گی کہ وفاقی حکومت کی جانب سے سنبھال لے، اور ایسے ضمنی اور ذیلی احکام وضع کرسکے گی جو اس کی رائے میں اعلان کے مقاصد کی تکمیل کے لئے ضروری یا مناسب معلوم ہوں ، ان میں ایسے احکام شامل ہیں جن کی رو سے اس صوبے میں کسی ادارے یا ہیئت مجاز سے متعلق دستور کے کسی احکام پر عملدرآمد کو کلی یا جزوی طور پر ، معطل کیا جاسکے:
مگر شرط یہ ہے کہ پیرا(ج) میں کسی امر سے وفاقی حکومت کو یہ اختیار حاصل نہیں ہوگا کہ وہ ایسے اختیارات میں جو کسی عدالت عالیہ کو حاصل ہیں یا جو کسی عدالت عالیہ کے ذریعے قابل استعمال ہیں کوئی اختیار خود اپنے ہاتھ میں لے لے یا صوبے کےگورنر کو ہدایت کرئے کہ وہ ان اختیارات میں سے کوئی اختیار اس کی جانب سے اپنے ہاتھ میں لے لے اور نہ یہ اختیار حاصل ہوگا کہ وہ دستور کے کسی ایسے احکام پر عمل درآمد کو جن کا تعلق عدالت ہائے عالیہ سے ہو ، کلی یا جزوی طورپر معطل کردے۔
3۔ کسی صوبے کے لئے کسی معاملہ کے بارے میں قوانین وضع کرنے کی بابت مجلس شوریٰ (پارلیمنٹ) کے اختیار میں وفاق کے افسروں اور حکام کو مذکورہ معاملے کے بارے میں اختیارات دینے اور فرائض عائد کرنے یا اختیارات اور فرائض عائد کرنے کا مجاز کرنے کا اختیار شامل ہوگا۔
4۔ اس آرٹیکل میں کوئی امر کسی صوبائی اسمبلی کے کوئی ایسا قانون وضع کرنے کے اختیار پر پابندی عائد نہیں کرئے گا جس کے وضع کرنے کا اسے اس دستور کے تحت اختیار حاصل ہے، لیکن اگر کسی صوبائی قانون کا کوئی حکم، مجلسِ شوریٰ (پارلیمنٹ) کے کسی ایکٹ کے کسی حکم کا نقیض ہو جس کے وضع کرنے کا مجلسِ شوریٰ (پارلیمنٹ) کو اس آرٹیکل کےتحت اختیار حاصل ہے تو مجلس شوریٰ (پارلیمنٹ) کا وہ ایکٹ ، خواہ وہ صوبائی قانون سے پہلے پاس ہوا ہویا بعد میں برقرار رہے گا اور صوبائی قانون ، تناقض کی حد تک ، لیکن صرف اس وقت تک جب تک مجلس شوریٰ (پارلیمنٹ) کا ایکٹ موثر رہے ، باطل ہوگا۔
5۔ مجلس شوریٰ (پارلیمنٹ) کا وضع کردہ کوئی ایسا قانون جس کے وضع کرنے کا اختیار مجلس شوریٰ (پارلیمنٹ)کو نہ ہوتا اگر ہنگامی حالت کا اعلان جاری نہ ہوا ہوتا ، اعلان کے نافذ العمل نہ رہنے کے چھ ماہ بعد اس حد تک غیر موئثر ہوجائے گا جس حد تک کہ مجلس شوریٰ (پارلیمنٹ) کو اس کے بنانے کا اختیار نہ تھا سوائے ان امور کی بابت جو مذکورہ مدت کے ختم ہونے سے قبل انجام پاچکے ہوں یا انجام دہی سے نظر انداز ہوگئے ہوں۔
6۔ جب ہنگامی حالت کا اعلان نافذ العمل ہو ، تو مجلس شوریٰ (پارلیمنٹ) بذریعہ قانون قومی اسمبلی کی میعاد میں زیادہ سے زیادہ ایک سال کی توسیع کرسکےگی اور وہ توسیع مذکورہ اعلان کے ساقط العمل ہوجانے کے بعد کسی صورت میں بھی چھ ماہ کی مدت سے زیادہ نہیں ہوگی۔
7۔ ہنگامی حالت کا کوئی اعلان ایک مشترکہ اجلاس میں پیش کیا جائے گا جو صدر اعلان کے جاری کئے جانے سے تیس دن کے اندر طلب کرئےگا اور وہــــــ
(الف) دو ماہ کے اختتام پر ساقط العمل ہوجائے گا تاوقتیکہ اس مدت کے ختم ہوجانے سے پہلے اسے مشترکہ اجلاس کی ایک قرارداد کے ذریعہ منظور نہ کر لیا گیا ہو؛ اور
(ب) پیرا (الف) کے احکام کے تابع ، مشترکہ اجلاس میں دونوں ایونوں کی مجموعی رکنیت کی اکثریت کے ووٹوں سے ایک ایسی قرار داد منظور ہو جانے پر ساقط العمل ہوجائے گا جس میں اس اعلان کو نامنظور کیا گیا ہو۔
8۔ شق(7) میں شامل کسی امر کے باوجود، اگر قومی اسمبلی اس وقت ٹوٹ چکی ہو جب ہنگامی حالت کا کوئی اعلان جاری کی جائے تو وہ اعلان چار ماہ کی مدت کے لئے بدستور نافذالعمل رہے گا لیکن ، اگر اسمبلی کا عام انتخاب مذکورہ مدت کے اختتام سے پہلے منعقد نہ ہو ، تو وہ اس مدت کے اختتام پر ساقط العمل ہوجائے گا، تاوقتیکہ اسے سینیٹ کی ایک قرارداد کے ذریعے پہلے ہی منظور نہ کیا جاچکا ہو۔

Comments

No comments yet. Be the first to share your thoughts.