اسلامی کونسل کے کارہائے منصبی

1۔ اسلامی کونسل کے کارہائے منصبی حسب ذیل ہوں گےــــــ
(الف) مجلسِ شوریٰ (پارلیمنٹ) اور صوبائی اسمبلیوں سے ایسے ذرائع اور وسائل کی سفارش کرنا جن سے پاکستان کے مسلمانوں کو اپنی زندگیاں انفرادی اور اجتماعی طور پر ہر لحاظ سے اسلام کے ان اصولوں اور تصورات کے مطابق ڈھالنے کی ترغیب اور امداد ملے جن کا قرآن پاک اور سنت میں تعین کیا گیا ہے:
(ب) کسی ایوان ، کسی صوبائی اسمبلی، صدریا کسی گورنر کو کسی ایسے سوال کے بارے میں مشورہ دینا جس میں کونسل سے اس بابت رجوع کیا گیا ہو کہ آیا کوئی مجوزہ قانون اسلامی احکام کے منافی ہے یا نہیں؛
(ج) ایسی تدابیر کی جن سے نافذ العمل قوانین کو اسلامی احکام کے مطابق بنایا جائے گا نیز ان مراحل کی جن سے گزر کر محولہ تدابیرکا نفاذ عمل میں لانا چاہئے ، سفارش کرنا؛ اور
(د) مجلسِ شوریٰ (پارلیمنٹ) اور صوبائی اسمبلیوں کی رہنمائی کے لئے اسلام کے ایسے احکام کی ایک موزون شکل میں تدوین کرنا جنہیں قانونی طور پر نافذ کیا جاسکے۔
2۔ جب آرٹیکل229 کے تحت ، کوئی سوال کسی ایوان ، کسی صوبائی اسمبلی ، صدر یا کسی گورنر کی طرف سے اسلامی کونسل کو بھیجا جائے تو کونسل اس کے بعد پندرہ دن کے اندر اس ایوان، اسمبلی ، صدر یا گورنر کو جیسی بھی صورت ہو ، اس مدت سے مطلع کرئے گی جس کے اندر وہ مذکورہ مشورہ فراہم کرنے کی توقع رکھتی ہو۔
3۔ جب کوئی ایوان ، کوئی صوبائی اسمبلی ، صدر یا گورنر ، جیسی بھی صورت ہو، یہ خیال کرئے کہ مفاد عامہ کی خاطر اس مجوزہ قانون کا وضع کرنا جس کے بارے میں سوال اٹھایا گیا تھا مشورہ حاصل ہونے تک ملتوی نہ کیا جائے تو اس صورت میں مذکورہ قانون مشورہ مہیا ہونے سے قبل وضع کیا جاسکے گا:
مگر شرط یہ ہے کہ جب کوئی قانون اسلامی کونسل کے پاس مشورے کے لئے بھیجا جائے اور کونسل یہ مشورہ دے کہ قانون اسلامی احکام کے منافی ہے تو ایوان یا جیسی بھی صورت ہو ، صوبائی اسمبلی، صدر یا گورنر اس طرح وضع کردہ قانون پر دوبارہ غور کرئے گا۔
4۔ اسلامی کونسل اپنے تقرر سے سات سال کے اندر اپنی حتمی رپورٹ پیش کرئے گی، اور سالانہ عبوری رپورٹ پیش کیا کرئے گی ، یہ رپورٹ ، خواہ عبوری ہو یا حتمی، موصولی سے چھ ماہ کے اندر دونوں ایوانوں اور ہر صوبائی اسمبلی کے سامنے برائے بحث پیش کی جائے گی ، اور مجلس شوریٰ (پارلیمنٹ) اور اسمبلی رپورٹ پر غور و خوص کرنے کے بعد حتمی رپورٹ کے بعد دو سال کی مدت کے اندر اس کی نسبت قوانین وضع کرئے گی۔
Comments
No comments yet. Be the first to share your thoughts.