LawyersOnline.pkLawyersOnline.pk
General Articles

چیف الیکشن کمشنر

By Super Admin
چیف الیکشن کمشنر

1۔ ایک چیف الیکشن کمشنر ہوگا، (جسے اس حصہ میں کمشنر کہا جائے گا) جس کا تقرر صدر کرئے گا۔
2۔ کوئی شخص بطور کمشنر مقرر نہیں کیا جائے گا، تاوقتیکہ وہ سپریم کورٹ کا جج رہا ہو یا اعلیٰ سول افسر رہا ہو یا ٹیکنو کریٹ ہو نیز اس کی عمر اڑسٹھ (68) سال سے زیادہ نہ ہو۔
تشریخ اول:۔ "اعلیٰ سول ملازم " سے وہ سول ملازم مراد ہے جس نے وفاقی یا کسی صوبائی حکومت کے تحت کم از کم بیس سال ملازمت کی ہو اور بی پی ایس۔ 22یا بالا میں ریٹائر ہوا ہو۔
تشریح دوم:۔ "ٹیکنو کریٹ"سے وہ شخص مراد ہے جو ہائیر ایجوکیشن کمیشن کی جانب سے تسلیم شدہ کم از کم سولہ سالہ تعلیم کی تکمیل کی متقاضی ڈگری کا حامل ہو اور کم از کم بیس سال کا تجربہ بشمول قومی یا بین الا قوامی سطح پر کامیابیوں کا ریکارڈ رکھتا ہو۔
(2۔الف) وزیراعظم قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف کے مشورے سے کمشنر کے تقرر کے لیے تین نام پارلیمانی کمیٹی کو کسی بھی ایک شخص کی سماعت اور توثیق کے لیے بھیجے گا:
مگر شرط یہ ہے کہ وزیر اعظم اور قائد حزب اختلاف کے درمیان اتفاق رائے نہ ہونے کی صورت میں ایک ہر ایک علیحدہ فہرستیں پارلیمانی کمیٹی کے غور کے لیے بھیجے گا جوان میں سے کسی ایک نام کی منظوری دے گی۔
(2۔ب) پارلیمانی کمیٹی اسپیکر کی جانب سے تشکیل دی جائے گی جس میں پچاس فیصد اراکین حکومتی بینچوں اور پچاس فیصد حزب اختلاف کی جماعتوں سے جو مجلس شوریٰ (پارلیمنٹ) میں ان کی تعداد کی بنیاد پر متعلقہ پارلیمانی قائد ین کی جانب سے نامزد کیے جائیں گے ، پر مشتمل ہوگی:
شرط یہ ہے کہ پارلیمانی کمیٹی کی مجموعی تعداد بارہ ممبران ہوگی جن میں سے ایک تہائی سینیٹ سے ہوں گے۔ اور:
مزید شرط یہ ہے کہ جب قومی اسمبلی تحلیل ہو اور چیف الیکشن کمشنر کے دفتر میں کوئی اسامی وقوع پذیر ہو تو پارلیمانی کمیٹی کی مجموعی رُکنیت مشتمل ہوگی ۔ صرف سینیٹ کے اراکین پر اور اس شق کے مذکورہ بالا احکامات کا اطلاق ، مناسب تبدیلیوں کے ساتھ ہوگا۔
3۔ کمشنر یا کسی رکن کے اختیارات اور کارہائے منصبی وہ ہوں گے جو اس دستور اور قانون کی رو سے اسے تفویض کئے جائیں۔

Comments

No comments yet. Be the first to share your thoughts.