انتظامی عدالتیں اور ٹربیونل

1۔ قبل ازیں مذکور کسی امر کے باوجود ، متعلقہ مقننہ ایکٹ کے ذریعے حسبِ ذیل کی نسبت بلا شرکت غیرے اختیار سماعت استعمال کرنے کے لئے ایک یا ایک سے زیادہ انتظامی عدالتیں یا ٹربیونل کے قیام کے لئے حکم وضع کرسکے گیــــــ
(الف) ایسے اشخاص کی جو ملازمت پاکستان میں ہوں یا رہے ہوں شرائط ملازمت بشمول تادیہی امور سے متعلق امور؛
(ب) حکومت یا ملازمت پاکستان میں کسی شخص یا کسی ایسی مقامی یا دیگر ہیئت مجاز کے کسی ایسے ملازم کے جس کو قانون کی رو سے کوئی محصول یا وجوب عائد کرنے کا اختیار ہو اور ایسی ہیئت مجاز کے کسی ملازم کے جو کسی ایسے ملازم کی حیثیت سے اپنے فرائض منصبی انجام دے رہاہو، افعال بے جا سے پیدا ہونے والے دعا دی سے متعلق امور؛ یا
(ج) کسی ایسی جائیداد کے حصول ، انصرام اور تصفیہ سے متعلق امور جو کسی قانون کے تحت دشمن کی جائیداد متصور ہوتی ہے۔
2۔ قبل ازیں مذکور کسی امر کے باوجود جہاں کوئی انتظامی عدالت یا ٹربیونل شق (1) کے تحت قائم کی جائے ، تو کوئی دوسری عدالت کسی ایسے معاملے کے متعلق جس کا اختیار سماعت ایسی انتظامی عدالت یا ٹربیونل کو حاصل ہو، کوئ حکم امتناعی جاری نہیں کرئے گی ، کوئی حکم صادر نہیں کرئے گی یا کسی کاروائی کی سماعت نہیں کرئے گی اور کسی مذکورہ معاملے کی نسبت جملہ کاروائیاں جو اس انتظامی عدالت یا ٹربیونل کے قیام سے عین قبل ایسی دیگر عدالت کے روبرو زیر سماعت ہوں ماسوائے ایسی اپیل کے جو عدالت عظمیٰ کے روبرو زیر سماعت ہوں مذکورہ قیام پر ساقط ہو جائیں گی :
مگر شرط یہ ہے کہ اس شق کے احکام کا اطلاق کسی صوبائی اسمبلی کے کسی ایکٹ کے تحت قائم کی جانے والی کسی انتظامی عدالت یا ٹربیونل پر نہیں ہوگا،، تاوقتیکہ اس اسمبلی کی ایک قرارداد کی شکل میں درخواست پر مجلسِ شوریٰ(پارلیمنٹ) قانون کے ذریعے ان احکام کو ایسی عدالت یا ٹربیونل پر وسعت نہ دے دے۔
3۔ کسی انتظامی عدالت یا ٹربیونل کے کسی فیصلے ، ڈگری حکم یا سزا کے خلاف عدالت ِ عظمیٰ میں صرف اس صورت میں کوئی اپیل قابلِ سماعت ہوگی جب کہ عدالت ِ عظمیٰ اس بات کا اطمینان کرلینے کے بعد کہ مقدمے میں عوامی اہمیت کا حامل کوئی اہم امر قانونی شامل ہے ، اپیل دائر کرنے کی اجازت دے دے۔
Comments
No comments yet. Be the first to share your thoughts.