اعلیٰ عدالتی کونسل

1۔ پاکستان کی ایک اعلیٰ عدالتی کونسل ہوگی جس کا حوالہ اس باب میں کونسل کے طور پر دیاگیا ہے۔
2۔ کونسل مندرجہ ذیل پر مشتمل ہوگیــــــ
(الف) چیف جسٹس پاکستان؛
(ب) عدالتی عظمیٰ کے دو مقدم ترین جج؛ اور
(ج) عدالت ہائے عالیہ کے دو مقدم ترین چیف جسٹس۔
تشریح: اس شق کی غرض کے لئے عدالت ہائے عالیہ کے چیف جسٹسوں کا باہم دیگر تقدم چیف جسٹس کے طور پر بجز بحیثیت قائم مقام چیف جسٹس ان کے تقرر کی تاریخوں کے حوالہ سے اور اگر ایسے تقرر کی تاریخیں ایک ہی ہوں ، تو کسی عدالت عالیہ میں ججوں کے طور پر ان کے تقرر کی تاریخوں کے حوالے سے متعین کیا جائیگا۔
3۔ اگر کسی وقت کونسل کسی ایسے جج کی اہلیت یا طرز عمل کی تحقیقات کررہی ہو جو کونسل کا رُکن ہو، یا کونسل کا کوئی رکن حاضر نہ ہو یا بوجہ علالت یا کسی دوسری وجہ سے کام کرنے کے قابل نہ ہوتو ـــــ
(الف) اگر ایسا رکن عدالت عظمیٰ کا جج ہو ، تو عدالت عظمیٰ کا وہ جج جو شق (2) کے پیرا (ب) میں محولہ ججوں کے بعد مقدم ترین ہو؛اور
(ب) اگر ایسا رکن کسی عدالت عالیہ کا چیف جسٹس ہو، تو کسی دوسری عدالت ِ عالیہ کا وہ چیف جسٹس جو باقی عدالت ہائے عالیہ کے چیف جسٹسوں سے مقدم ترین ہو، اس کی بجائے کونسل کے رکن کی حیثیت سے کام کرئے گا۔
4۔ اگر ، کسی ایسے معاملے پر جس کی تحقیق کونسل نے کی ہو، اس کے ارکان میں کوئی اختلاف رائے ہو، تو اکثریت کی رائے غالب رہے گی اور صدر کو کونسل کی رپورٹ اکثریت کے نقطہء نظر کے اعتبار سے پیش کی جائے گی۔
5۔ اگر ، کسی ذریعے سے اطلاع ملنے پر کونسل یا صدر کی یہ رائے ہو کہ عدالت عظمیٰ یا کسی عدالت عالیہ کا کوئی جج ـــــ
(الف) جسمانی یا دماغی معذوری کی وجوہ سے اپنے عہدے کے فرائض منصبی کی مناسب انجام وہی کے قابل نہ رہا ہو؛ یا
(ب) بدعنوانی کا مرتکب ہوا ہو،
تو صدر کونسل کو ہدایت کوئے گا، یا کونسل ، خود اپنی تحریک پر معاملے کی تحقیقات کرسکے گی۔
6۔ اگر معاملے کی تحقیقات کرنے کے بعد کونسل صدر کو رپورٹ پیش کرئے کہ اس کی رائے یہ ہےـــ
(الف ) کہ وہ جج اپنے عہدے کے فرائض منصبی کی انجام دہی کے نا قابل ہے یا بدعنوانی کا مرتکب ہوا ہے؛ اور
(ب) کہ اسے عہدے سے برطرف کردینا چاہیے،
تو صدر اس جج کو عہدے سے برطرف کرسکے گا۔
7۔ عدالتِ عظمیٰ یا کسی عدالت عالیہ کے کسی جج کو ، بجز جس طرح اس آرٹیکل میں قرار دیا گیا ہے ، عہدے سے برطرف نہیں کیا جائے گا۔
8۔ کونسل ایک ضابطہ اخلاق جاری کرئے گی، جس کو عدالتِ عظمیٰ اور عدالت ہائے عالیہ کے جج ملحوظ رکھیں گے۔
Comments
No comments yet. Be the first to share your thoughts.