عدالتِ عظمیٰ کو اپیل

1۔ آرٹیکل 203د کے تحت عدالت کے سامنے کسی کاروائی کا کوئی فریق جو مذکورہ کاروائی میں عدالت کے قطعی فیصلہ سے ناراض ہو، مذکورہ فیصلہ سے ساٹھ یوم کے اندر ، عدالت عظمیٰ میں اپیل داخل کرسکے گا:
مگر شرط یہ ہے کہ وفاق یا کسی صوبے کی طرف سے اپیل مذکورہ فیصلے سے چھ ماہ کے اندر داخل کی جاسکے گی۔
2۔ آرٹیکل 203د کی شقات (2) اور (3) اور آرٹیکل 203ہ کی شقات (4) تا (8) کےاحکام کا عدالت عظمیٰ پر اور اس کے سلسلے میں اس طرح اطلاق ہوگا گویا کہ ان احکام میں عدالت کا حوالہ عدالتِ عظمیٰ کا حوالہ ہوــــــ
(2۔الف) وفاقی شرعی عدالت کے کسی فیصلے ، حکم قطعی یا سزا کے خلاف کوئی اپیل عدالت عظمیٰ میں قابلِ سماعت ہوگیــــــ
(الف) اگر وفاقی شرعی عدالت کے کسی فیصلے ، حکم قطعی یا سزا کے خلاف کوئی اپیل عدالت عظمیٰ میں قابلِ سماعت ہوگیــــــ
(الف) اگر وفاقی شرعی عدالت نے اپیل پر کسی ملزم شخص کا کوئی حکم بریت منسوخ کر دیا ہو اور اسے سزائے موت یا عمر قیدیا چودہ سال سے زائد مدت کےلئے سزائے قید دی ہو؛ یا نظر ثانی پر ،مذکورہ بالا طورپر کسی سزامیں اضافہ کردیا ہو؛ یا
(ب) اگر وفاقی شرعی عدالت نے کسی شخص کو توہین عدالت پر کوئی سزا دی ہو۔
(2۔ب) کسی ایسے مقدمہ میں جس پر ماقبل شقات کا اطلاق نہ ہوتا ہو ، وفاقی شرعی عدالت کی کسی تجویز، فیصلے ، حکم یا سزا کے خلاف کوئی اپیل عدالت عظمیٰ میں صرف اس وقت قابلِ سماعت ہوگی جب عدالت عظمیٰ اپیل کی اجازت عطا کرئے۔
3۔ اس آرٹیکل کی رو سے تفویض کردہ اختیار سماعت کے استعمال کی غرض کے لئے، عدالت عظمیٰ میں ایک بینچ تشکیل دیا جائے گا جو شریعت مرافعہ بینچ کے نام سے موسوم ہوگا اور حسب ذیل پر مشتمل ہوگا ـــــــــ
(الف) عدالت عظمیٰ کے تین مسلمان جج؛ اور
(ب) وفاقی شرعی عدالت کے ججوں میں سے علماء کی ایسی فہرست میں سے جسے صدر چیف جسٹس کے مشورے سے مرتب کرئے گا زیادہ سے زیادہ دو علماء جنہیں صدر بینچ کے اجلاس میں شرکت کرنے کے لئے بطور ارکان بغرض خاص مقرر کرئے گا۔
4۔ شق (3) کے پیرا (ب) کے تحت مقرر شدہ کوئی شخص ایسی مدت کے لئے عہدے پر فائز رہے گا جس طرح کہ صدر متعین کرئے۔
5۔ شقات (1) اور (2) میں "عدالتِ عظمیٰ کے حوالے سے شریعت مرافعہ بینچ کے حوالہ کا مفہوم لیا جائے گا۔
6۔ شریعت مرافعہ بینچ کے اجلاس میں شرکت کرتے ہوئے ، شق (3) کے پیرا (ب) کے تحت مقرر شدہ کسی شخص کو وہی اختیار اور اختیار سماعت حاصل ہوگا، اور انہی مراعات کا مستحق ہو گا جو عدالت عظمیٰ کے کسی جج کو حاصل ہیں اور اسے ایسے بھتے ادا کئے جائیں گے جس طرح کہ صدر متعین کرئے۔
Comments
No comments yet. Be the first to share your thoughts.