LawyersOnline.pkLawyersOnline.pk
General Articles

عدالت کے اختیارات اور ضابطہ کار

By Super Admin
عدالت کے اختیارات اور ضابطہ کار

1۔ اپنے کارہائے منصبی کی انجام دہی کی اغراض کیلئے ، عدالت کو حسبِ ذیل امور کی نسبت مجموعہ ضابطہ دیوانی ، 1908ء (ایکٹ نمبر5 بابت 1908ء ) کے تحت کسی مقدمہ کی سماعت کرنے والی کسی عدالت دیوانی کے اختیارات حاصل ہوں گے یعنی:-
(الف) کسی شخص کو طلب کرنا اور اس کی حاضری نافذ کرنا اور اس کا حلفاََ بیان لینا؛
(ب) کسی دستاویز کے انکشاف اور پیش سازی کا حکم دینا؛
(ج) بیانات حلفی پر شہادت لینا؛ اور
(د) گواہوں یا دستاویزات کے اظہار کے لئے کمیشن کا اجراء کرنا۔
2۔ عدالت کو ہر لحاظ سے ایسی کاروائی کا اہتمام کرنے اور اپنے طریقہ کار کو منضبط کرنے کا اختیار ہوگا جیسا کہ وہ مناسب خیال کرئے۔
3۔ عدالت کو خود اپنی توہین کی سزا دینے کے لئے عدالتِ عالیہ کے اختیارات حاصل ہوں گے۔
4۔ آرٹیکل 203د کی شق (1) کے تحت عدالت کے سامنے کسی کاروائی کے کسی فریق کی نمائندگی کوئی ایسا قانون پیشہ شخص جو مسلمان ہو اور کم از کم پانچ سال کی مدت کے لئے کسی عدالت ِ عالیہ کے ایڈووکیٹ کے طور پر یا عدالت عظمیٰ کے ایڈووکیٹ کے طور پر درج فہرست رہ چکا ہو یا کوئی ایسا ماہر قانون کرسکے گا جسے اس غرض کے لئے عدالت کی طرف سے مرتب شدہ ماہرین قانون کی فہرست میں سے اس فریق نے منتخب کیا ہو۔
5۔ شق (4) میں محولہ ماہرین قانون کی فہرست میں اپنا نام درج کرائے جانے کا اہل ہونے کے لئے کوئی شخص ایسا عالم ہوگا جسے عدالت کی رائے میں ، شریعت پر عبور حاصل ہو۔
6۔ عدالت کے سامنے کسی فریق کی نمائندگی کرنے والا کوئی قانون پیشہ شخص یا ماہر قانون اس فریق کی وکالت نہیں کرئے گا بلکہ کاروائی سے متعلق اسلامی احکام کو جس حد تک اس کو ان کا علم ہو، بیان کرئے گا، ان کی تشریح اور توضیح کرئے گا اور مذکورہ اسلامی احکام کی مذکورہ توضیح پر مبنی تحریری بیان عدالت کو پیش کرئے گا۔
7۔ عدالتِ پاکستان یا بیرون ملک سے کسی شخص کو جسے عدالت اسلامی قانون کا ماہر خیال کرتی ہو اپنے سامنے پیش ہونے اور ایسی اعانت کرنے کے لئے مدعو کرسکے گی جو اس سے طلب کی جائے۔
8۔ آرٹیکل 203د کے تحت عدالت کو پیش کی جانے والی کسی عرضی یا درخواست کی نسبت کوئی رسوم عدالت واجب الادا نہیں ہوں گی۔
9۔ عدالت کو اپنے دیئے ہوئے کسی فیصلے یا صادر کردہ کسی حکم پر نظر ثانی کا اختیار ہوگا۔

Comments

No comments yet. Be the first to share your thoughts.