عدالت کا اختیار سماعت نگرانی اور دیگر اختیار سماعت

1۔ عدالت حدود کے نفاذ سے متعلق کسی قانون کے تحت کسی فوجداری عدالت کی طرف سے فیصلہ شدہ کسی مقدمے کا ریکارڈ اس غرض سے طلب کر سکے گی اور اس کا جائزہ لے سکے گی کہ مذکورہ عدالت کے قلمبند کردہ یا صادر کردہ کسی نتیجہ، تفتیش، حکم سزا یا حکم کی صحت، قانونی جواز یا معقولیت کے بارے میں ، اور اس کی کسی قانونی کا روائی کی باضابطگی کے بارے میں اپنا اطمینان کرسکے اور مذکورہ ریکارڈ طلب کرتے وقت یہ ہدایت دے سکے گی کہ جب تک اس ریکارڈ کا جائزہ نہ لے لیا جائے ، کسی حکم سزا کی تعمیل روک دی جائے اور اگر ملزم زیر حراست ہو تو اس کو ضمانت پر یا اس کے اپنے مچلکہ پر رہا کردیا جائے۔
2۔ کسی ایسے مقدمے میں جس کا ریکارڈ عدالت نے طلب کیا ہو، عدالت ایسا حکم صادر کرسکے گی جو وہ مناسب خیال کرئے اور سزا میں اضافہ کرسکے گی:
مگر شرط یہ ہے کہ اس آرٹیکل میں کسی امر سے عدالت کو کسی تجویز بریت کو تجویز سزا یابی میں بدلنے کا مجاز کرنا متصور نہیں ہوگا اور اس آرٹیکل کے تحت کوئی حکم ملزم کی مضرت میں صادر نہیں کیا جائے گا تاوقتیکہ اسے خود اپنی صفائی میں سماعت کا موقع فراہم نہ کر دیا جائے۔
3۔ عدالت کو ایسا دیگر اختیار سماعت حاصل ہوگا جو اسے کسی قانون کے ذریعے یا اس کے تحت تفویض کردیا جائے۔
Comments
No comments yet. Be the first to share your thoughts.