LawyersOnline.pkLawyersOnline.pk
General Articles

عدالت کے اختیارات ، اختیار سماعت اور کارہائے منصبی

By Super Admin
عدالت کے اختیارات ، اختیار سماعت اور کارہائے منصبی

1۔ عدالت یا تو خود اپنی تحریک پریا پاکستان کے کسی شہری یا وفاقی حکومت یا کسی صوبائی حکومت کی درخواست پر اس سوال کا جائزہ لے سکے گی اور فیصلہ کرسکے گی کہ آیا کوئی قانون یا قانون کا کوئی حکم ان اسلامی احکام کے منافی ہے یا نہیں جس طرح کہ قرآن پاک اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت میں ان کا تعین کیا گیا ہے جن کا حوالہ بعد ازیں اسلامی احکام کے طور پر دیا گیا ہے۔
(1۔الف) جبکہ عدالت شق (1) کے تحت کسی قانون یا قانون کے کسی حکم کا جائزہ لینا شروع کرئے اور اسے ایسا قانون یا قانون کا حکم اسلامی احکام کے منافی معلوم ہو، تو عدالت ایسے قانون کی صورت میں جو وفاقی فہرست قانون ساز ی میں شامل معاملے سے متعلق ہو وفاقی حکومت کو یا کسی ایسے معاملے سے متعلق جو وفاقی قانون سازی کی فہرست میں شامل نہ ہو ، صوبائی حکومت کو ایک نوٹس دینے کا حکم دے گی جس میں ان خاص احکام کی صراحت کی جائے گی جو اسے بایں طور منافی معلوم ہوں اور مذکورہ حکومت کو ، اپنا نقطہء نظر عدالت کے سامنے پیش کرنے کے لئے مناسب موقع دے گی۔
2۔ اگر عدالت فیصلہ کرئے کہ کوئی قانون یا قانون کا کوئی حکم اسلامی احکام کے منافی ہے تو وہ اپنے فیصلے میں بحسب ذیل بیان کرئے گی:-
(الف) اس کے مذکورہ رائے قائم کرنیکی وجو؛ اور
(ب) وہ حد جس تک وہ قانون یا حکم بایں طور منافی ہے؛
اور اس تاریخ کی صراحت کریگی جس پر وہ فیصلہ موثر ہوگا:
مگر شرط یہ ہے کہ ایسا کوئی فیصلہ ، اس میعاد کے گزرنے سے پہلے جس کے اندر عدالت عظمیٰ میں اس کیخلاف اپیل داخل ہوسکتی ہو یا ، جبکہ اپیل بایں طور پر داخل کردی گئی ہوتو اس اپیل کے فیصلہ سے پہلے موئثر نہیں ہوگا۔
3۔ اگر عدالت کی طرف سے کوئی قانون یا قانون کا کوئی حکم اسلامی احکام کے منافی قرار دے دیا جائے تو،ــــــ
(الف) وفاقی فہرست قانون سازی میں شامل کسی امر کے سلسلے میں کسی قانون کی صورت مین صدر ، یا کسی ایسے امر کے سلسلے میں مذکورہ فہرست میں سے کسی میں بھی شامل نہ ہو کسی قانون کی صورت میں گورنر ، اس قانون میں ترمیم کرنے کے لئے اقدام کرئے گا تاکہ مذکورہ قانون یا حکم کو اسلامی احکام کے مطابق بنایا جائے؛ اور
(ب) مذکورہ قانون یا حکم، اس حد تک جس حد تک اسے بایں طور منافی قرار دے دیا جائے ، اس تاریخ سے جب عدالت کا فیصلہ اثر پذیر ہو ، موئثر نہیں رہے گا۔

Comments

No comments yet. Be the first to share your thoughts.