وفاقی شرعی عدالت

1۔ اس باب کی اغراض کے لئے ایک عدالت کی تشکیل کی جائے گی جو وفاقی شرعی عدالت کے نام سے موسوم ہوگی۔
2۔ عدالت چیف جسٹس سمیت ، زیادہ سے زیادہ آٹھ مسلم ججوں پر مشتمل ہوگی،جن کا تقرر صدر آرٹیکل 175۔الف کی مطابقت میں کرئے گا۔
3۔ چیف جسٹس ایسا شخص ہوگا جو عدالت عظمیٰ کا جج ہو، یا رہ چکا ہو، یا بننے کا اہل ہو یا جو کسی عدالت عالیہ کا مستقل جج رہ چکا ہو۔
(3۔الف) ججوں میں سے ، زیادہ سے زیادہ چار ایسے اشخاص ہوں گے جن میں سے ہر ایک کسی عدالت عالیہ کا جج ہو یا رہ چکا ہو، یا بننے کا اہل ہو اور زیادہ سے زیادہ تین علماءہوں گے جو اسلامی قانونی ، تحقیق یا تعلیم میں کم از کم پندرہ سالوں کا تجربہ رکھتے ہوں۔
4۔ چیف جسٹس اور کوئی جج زیادہ سے زیادہ تین سال کی مدت کے لئے عہدے پر فائز رہے گا، مگر اسے ایسی مزید مدت یا مدتوں کے لئے مقرر کیا جاسکے گا جو صدر متعین کرئے :
مگر شرط یہ ہے کہ ایک جج کے طور پر کسی عدالت عالیہ کے کسی جج کا تقرر نہیں کیا جائے گا ماسوائے اس کے کہ اس کی رضا مندی سے اور ماسوائے جبکہ جج خود چیف جسٹس ہو، اس عدالت عالیہ کے چیف جسٹس سے صدر کے مشورہ کے بعد کیا جائے۔
(4۔الف) چیف جسٹس ، اگر وہ عدالت عظمیٰ کا جج نہ ہو، اور کوئی جج جو کسی عدالت عالیہ کا جج نہ ہو ، صدر کے نام اپنی دستخطی تحریر کے ذریعے ، اپنے عہدے سے استعفیٰ دے سکے گا۔
(4۔ب) چیف جسٹس اور جج کو عہدے سے ہٹایا نہیں جاسکے گا ماسوائے اس طریقہ کار اور ان وجوہات پر جیسا کہ عدالت عظمیٰ کے جج کو۔
6۔ عدالت کا صدر مقام اسلام آباد میں ہوگا، لیکن عدالت وقتاََفوقتاََ پاکستان میں ایسے دیگر مقامات پر اجلاس کرسکے گی جو چیف جسٹس ، صدر کی منظوری سے مقرر کرئے۔
7۔ عہدہ سنبھالنے سے قبل چیف جستس اور کوئی جج صدر یا اس کی طرف سے نامزد کردہ کسی شخص کے سامنے اس عبارت میں حلف اٹھائے گا جو جدول سوم میں درج کی گئی ہے۔
8۔ کسی بھی وقت جب چیف جسٹس یا کوئی جج غیر حاضر ہو یا اپنے عہدے کے کارہائے منصبی انجام دینے سے قاصر ہو تو صدر چیف جسٹس یا جیسی بھی صورت ہو، جج کے طور پر کام کرنے کے لئے اس غرض کے لئے اہل کسی دوسرے شخص کا تقرر کرئے گا۔
9۔ کوئی چیف جسٹس جو عدالت عظمیٰ کا جج نہ ہو اسی مشاہرے ، بھتوں اور مراعات کا مستحق ہوگا جن کی عدالت عظمیٰ کے کسی جج کے لئے اجازت ہے اور کوئی جج جو کسی عدالت عالیہ کا جج نہ ہو اسی مشاہرے ،بھتوں اور مراعات کا مستحق ہوگا جن کی کسی عدالت عالیہ کے کسی جج کے لئے اجازت ہے:
مگر شرط یہ ہے کہ جبکہ کوئی جج ملازمت پاکستان میں کسی دوسرے عہدہ کے لئے پہلے ہی پنشن حاصل کر رہا ہو تو ، مذکورہ پنشن کی رقم اس شق کے تحت حسب قاعدہ پنشن سے منہا کر لی جائے گی۔
Comments
No comments yet. Be the first to share your thoughts.