LawyersOnline.pkLawyersOnline.pk
General Articles

عدالت عالیہ کے ججوں کا تبادلہ

By Super Admin
عدالت  عالیہ کے ججوں کا تبادلہ

1۔ صدر کسی عدالت کے کسی جج کا تبادلہ ایک عدالت عالیہ سے کسی دوسری عدالت میں کرسکے گا، لیکن کسی جج کا اس طرح تبادلہ نہیں کیا جائے گابجز اس کی رضا مندی سے اور صدر کی طرف سے چیف جسٹس پاکستان اور دونوں عدالت ہائے عالیہ کے چیف جسٹسوں کے مشورے سے:
تشریح:- اس آرٹیکل میں"جج" میں کوئی چیف جسٹس شامل نہیں ہے لیکن کوئی ایسا جج شامل ہے جو فی الوقت کسی عدالت عالیہ کے چیف جسٹس کی حیثیت سے کام کر رہا ہو ماسوائے عدالت عظمیٰ کے کسی جج کے جو آرٹیکل 196 کے پیر ا (ب) کے تحت کی گئی درخواست کی تعمیل میں مذکورہ حیثیت سے کام کر رہا ہو۔
2۔ جبکہ کسی جج کا بایں طور تبادلہ کردیا جائے یا اس کا جج کے عہدے کے علاوہ کسی عہدے پر عدالت عالیہ کے صدر مقام کے علاوہ کسی مقام پر تقرر کیا جائے ، تو وہ اس مدت کے دوران جس کے لئے وہ اس عدالت عالیہ کے جج کے طور پر خدمت انجام دے جہاں اس کا تبادلہ کیا گیا ہویا مذکورہ دیگر عہدے پر فائز ہو، اپنے مشاہر ے کے علاوہ ایسے بھتوں اور مراعات کا مستحق ہوگا جس طرح کہ صدر فرمان کے ذریعے ، متعین کرئے۔
3۔ اگر کسی وقت کسی وجہ سے عارضی طور پر کسی عدالتِ عالیہ کے ججوں کی تعداد میں اضافہ کرناضروری ہو تو مذکورہ عدالت عالیہ کا چیف جسٹس کسی دوسری عدالت عالیہ کے کسی جج کو اتنی مدت کے لئے جو ضروری ہو ، قبل الذکر عدالت ِ عالیہ کے اجلاس میں شریک ہونے کا حکم دے سکے گا اور جب وہ اس عدالتِ عالیہ کے اجلاس میں بایں طور شریک ہوگا تو اس جج کو مذکورہ عدالت ِ عالیہ کے کسی جج جیسا ہی اختیار اور اختیار سماعت حاصل ہوگا:
مگر شرط یہ ہے کہ کسی جج کو بایں طور حکم نہیں دیا جائے گا بجز اس کی رضا مندی سے اور صدر کی منظوری سے اور چیف جسٹس پاکستان اور اسی عدالت عالیہ کے چیف جسٹس کے مشورے کے بعد جس کاوہ جج ہو۔
تشریح:- اس آرٹیکل میں "عدالت عالیہ" میں کسی عدالت ِ عالیہ کا کوئی بینچ شامل ہے۔

Comments

No comments yet. Be the first to share your thoughts.