عدالتِ عالیہ کا اختیارِ سماعت

1۔ اگر کسی عدالت عالیہ کو اطمینان ہو کہ قانون میں کسی اور مناسب چارہ جوئی کا انتظام نہیں ہے تو وہ، دستور کے تابع،ــــــ
(الف) کسی فریق دادخواہ کی درخواست پر ، بذریعہ حکم،ــــــ
(اول) اس عدالت کے علاقائی اختیار سماعت میں وفاق، کسی صوبے یا کسی مقامی ہیئت مجاز کے امور کے سلسلے میں فرائض انجام دینے والے کسی شخص کو ہدایت دے سکے گی کہ وہ کوئی ایسا کام کرنے سے اجتناب کرئے ، جس کے کرنے کی اجازت اسے قانون نہیں دیتا، یا وہ کوئی ایسا کام کرئے جو قانون کی رُو سے اس پر واجب ہے؛ یا
(دوم) یہ اعلان کرسکے گی کہ عدالت کے علاقائی اختیار سماعت می وفاق ، کسی صوبے یا کسی مقامی ہیئت مجاز کے امور کے سلسلہ میں فرائض انجام دینے والے کسی شخص کی طرف سے کیا ہوا کوئی فعل یا کی ہوئی کوئی کاروائی قانون اختیار کے بغیر کی گئی ہے اور کوئی قانونی اثر نہیں رکھتی ہے ؛یا
(ب) کسی شخص کی درخواست پر ، بذریعہ حکم، ــــــ
(اول) ہدایت دے سکے گی کہ اس عدالت کے علاقائی اختیار سماعت میں زیر حراست کسی شخص کو اس کے سامنے پیش کیا جائے تاکہ عدالت ذاتی طور پر اطمینان کرسکے کہ اسے قانونی اختیار کے بغیر یا کسی غیر قانونی طریقے سے زیر حراست نہیں رکھا جارہا ہے ؛ یا
(دوم) کسی شخص کو، جو اس عدالت کے علاقائی اختیار سماعت میں کسی سرکاری عہدے پر فائز ہو، یا جس کا فائز ہونا مترشح ہوتا ہو ، حکم دے سکے گی کہ وہ ظاہر کرئے کہ وہ کس قانونی اختیار کے تحت اس عہدے پر فائز ہونے کا دعویدار ہے ؛ یا
(ج) کسی فریق داد خواہ کی درخواست پر ، اس عدالت کے اختیار سماعت کے اندر کسی علاقے میں ، یا اس علاقے کے بارے میں ،کسی اختیار کو استعمال کرنیوالے کسی شخص یا ہیئت مجاز ، بشمول کسی حکومت کو ایسی ہدایات دیتے ہوئے حکم صادر رکرسکے گی جو حصہ دوم کے باب1 میں تفویض کردہ بنیادی حقوق میں سے کسی حق کے نفاذ کے لئے موزوں ہوں۔
2۔ دستور کے تابع ، حصہ دوم کے باب 1 میں تفویض کردہ بنیادی حقوق میں سے کسی حق کے نفاذ کے لئے کسی عدالت عالیہ سے رجوع کرنے کا حق محدود نہیں کیا جائے گا۔
3۔ شق (1) کے تحت اس درخواست پر حکم صادر نہیں کیا جائے گا جو کسی ایسے شخص کی طرف سے یا اس کے بارے میں جو مسلح افواج پاکستان کا رکن ہو ، یا جوفی الوقت مذکورہ افواج میں سے کسی سے متعلق کسی قانون کے تابع ہو، اس کی شرائط ملازمت کی نسبت ، اس کی ملازمت سے پیدا ہونے والے کسی معاملے کی نسبت ، یا مسلح افواج پاکستان کے ایک رکن کے طور پر یا مذکورہ قانون کے تابع کسی شخص کے طور پر اس کے بارے میں کی گئی کسی کاروائی کی نسبت پیش کی گئی ہو۔
4۔ جبکہــــــــــ
(الف) کوئی درخواست کسی عدالت عالیہ کو شق (1) کے پیرا (الف) یا پیرا (ج) کے تحت کوئی حکم صادر کرنے کے لئے پیش کی جائے؛ اور
(ب) کسی حکم عارضی کا اجراء کسی سرکاری کام کے انجام دینے میں مداخلت یا مضرت کے طور پر اثر انداز ہوتا ہو، یا بصورتِ دیگر مفادِ عامہ یا سرکاری املاک کیلئے نقصان دہ ہو یا سرکاری محاصل کی وصولی یا تشخیض میں مزاحم ہونے پر منتج ہوتا ہو، تو عدالت حکم عارضی جاری نہیں کرئے گی ، تاوقتیکہ مقررہ افسر قانون کو درخواست کا نوٹس نہ دیا جاچکا ہو اور اس کو یا اس سلسلے میں اس کی طرف سے مجاز کردہ کسی دوسرے شخص کو سماعت کا موقع فراہم نہ کردیا گیا ہو اور عدالت ، ایسی وجوہ کی بناء پر جو تحریر اََ ریکارڈ کی جائیں ، مطمئن نہ ہو کہ حکم عارضیــــــــــ
(اول) مذکورہ بالا طور پر اثر انداز نہیں ہوگا؛ یا
(دوم) کسی ایسے حکم یا کاروائی کو معطل کرنے کا اثر رکھے گا جواز روئے ریکارڈ اختیار کے بغیر ہے۔
4(الف)۔ عدالت عالیہ کی طرف سے اسے پیش کردہ کسی ایسی درخواست پر جو کسی ہیئت مجاز یا شخص کی طرف سے جاری کردہ کسی حکم ، کسی کاروائی یا کئے گئے کسی فعل کے جواز یا قانونی اثر پر اعتراض کرنے کے لیے ہو، جو جدول اول کے حصہ 1میں مصرحہ کسی قانون کے تحت جاری کیاگیا ہو، کی گئی ہو یا کیا گیا ہویا جس کا جاری ہونا ، کیا جانا یا کرنا مترشح ہوتا ہو یا جو سرکاری املاک یا سرکاری محاصل کی تشخیض یا تحصیل سے متعلق یا اس کے سلسلے میں ہو، صادر کردہ کوئی حکم عارضی اس دن کے بعد ، جس کو وہ صادر کیا گیا، چھ ماہ کی مدت گزر جانے پر موئثر نہیں رہے گا:
مگر شرط یہ ہے کہ عدالت عالیہ کی طرف سے معاملہ کا قطعی فیصلہ اس تاریخ سے ، جس پر حکم عارضی صادر کیا جائے چھ ماہ کے اندر کردیا جائے گا۔
5۔ اس آرٹیکل میں بجز اس کے کہ سیاق و سباق سے کچھ اور ظاہر ہو، ــــــــــ
"شخص" میں کوئی ہیئت سیاسی یا ہیئت اجتماعی ، وفاقی حکومت یا کسی صوبائی حکومت کی یا اس کے تحت کوئی ہیئت مجاز اور کوئی عدالت یا ٹربیونل شامل ہے ، ماسوائے عدالت عظمیٰ یا کسی عدالت عالیہ یا کسی ایسی عدالت یا ٹربیونل کے جو پاکستان کی مسلح افواج سے متعلق کسی قانون کے تحت قائم کیا گیا ہو؛ اور
"مقررہ افسر قانون" سے ـــــــ
(الف) کسی ایسی درخواست کے سلسلے میں جو وفاقی حکومت پر ، یا وفاقی حکومت کی یا اس کے تحت کسی ہیئت مجاز پر اثر انداز ہوتی ہو، اٹارنی جنرل مراد ہے ؛ اور
(ب) کسی دوسری صورت میں، اس صوبہ کا ایڈووکیٹ جنرل مراد ہے جس میں درخواست دی گئی ہو۔
Comments
No comments yet. Be the first to share your thoughts.