LawyersOnline.pkLawyersOnline.pk
General Articles

عدالتِ عظمیٰ کا اختیار سماعت مرافعہ

By Super Admin
عدالتِ عظمیٰ کا اختیار سماعت مرافعہ

1۔ اس آرٹیکل کے تابع ، عدالت عظمیٰ کو کسی عدالت عالیہ کے صادر کردہ فیصلوں ، ڈگریوں ، حتمی احکام یا سزائو ں کے خلاف اپیلوں کی سماعت کرنے اور ان پر فیصلہ صادر کرنے کا اختیار ہوگا۔
2۔ کسی عدالت عالیہ کے صادر کردہ کسی فیصلے ، ڈگری، حتمی حکم یا سزا کے خلاف اپیل عدالت عظمیٰ میں دائر کی جاسکے گیـــــ
(الف ) اگر عدالت عالیہ نے اپیل پر کسی ملزم کے بری ہونے کے حکم کو بدل دیا ہو اور سے سزائے موت یا جس دوام بہ عبور دریائے شور یا عمر قید کی سزا دے دی ہو، یا نگرانی کی درخواست پر کسی سزا کو بڑھا کر مذکورہ بالا کسی سزا سے بدل دیا ہو یا
(ب) اگر عدالت عالیہ نے کسی ایسی عدالت سے جو اس کے ماتحت ہو، کسی مقدمہ کو اپنے روبرو سماعت کے لئے منتقل کرلیا ہو اور ایسی سماعت مقدمہ میں ملزم کو مجرم قرار دے دیا ہواور مذکورہ بالا کوئی سزا دے دی ہو؛یا
(ج) اگر عدالت عالیہ نے کسی شخص پر عدالت عالیہ کی توہین کی بناء پر کوئی سزا عائد کی ہو؛ یا
(د) اگر نفس الامر نزاع کی رقم یا ملیت ابتدائی عدالت میں پچاس ہزار روپے سے کم نہ تھی، اور اپیل نزاع میں بھی پچاس ہزار روپے سے یا ایسی دوسری رقم سے جس کی صراحت اس سلسلہ میں مجلسِ شوریٰ (پارلیمنٹ) کے ایکٹ کے ذریعے کی جائے ، کم نہ ہو اور جس فیصلے ، ڈگری یا حکم حتمی کے خلاف اپیل کی گئی ہو اس میں عین ماتحت عدالت کے فیصلے ، ڈگری یا حکم حتمی کو بدل دیا گیا ہو یا منسوخ کردیا گیا ہو؛ یا
(ہ) اگر فیصلہ ، ڈگری یا حکم حتمی میں بلا واسطہ طور پر اتنی ہی رقم یا مالیت کی جائیداد سے متعلق کوئی دعویٰ یا امر تنقیح طلب شامل ہو اور اس فیصلے ، ڈگری یا حکم حتمی میں ، جس کے خلاف اپیل کی گئی ہو، عین ماتحت عدالت کا فیصلہ ، ڈگری یا حکم حتمی بدل دیا گیا ہو یا منسوخ کردیا گیا ہو؛ یا
(و) اگر عدالت عالیہ اس امر کی تصدیق کردے کہ مقدمے میں دستور کی تعبیر کے باے میں کوئی اہم قانونی مسئلہ درپیش ہے۔
3۔ کسی ایسے مقدمے میں جس پر شق (2) کا اطلاق نہ ہوتا ہو ، کسی عدالت عالیہ کے کسی فیصلے ، ڈگری ، حکم یا سزا کے خلاف عدالت عظمیٰ میں کوئی اپیل صرف اسی وقت دائر کی جائے گی جب عدالت عظمیٰ اپیل دائر کرنے کی اجازت عطا کردے۔

Comments

No comments yet. Be the first to share your thoughts.