LawyersOnline.pkLawyersOnline.pk
General Articles

عدالت عظمیٰ ، عدالت ہائے عالیہ اور وفاقی شرعی عدالت کے ججوں کا تقرر

By Super Admin
عدالت عظمیٰ ، عدالت ہائے عالیہ اور وفاقی شرعی عدالت کے ججوں کا تقرر

1۔ پاکستان کا ایک عدالتی کمیشن ہوگا، جس کا حوالہ بعد ازیں اس آرٹیکل میں بطور کمیشن دیا گیا ہے، عدالت عظمیٰ ، عدالت ہائےعالیہ اور وفاقی شرعی عدالت کے ججوں کی تقرری کرئے گا ، جیسا کہ بعدازیں فراہم کیا گیاہے۔
2۔ عدالت عظمیٰ کے ججوں کے تقرر کے لئے ، کمیشن حسبِ ذیل پر مشتمل ہوگا، ـــــ
(اول) پاکستان کے چیف جسٹس؛ چیئر مین
(دوم) عدالت عظمیٰ کے چار مقدم ترین جج؛ اراکین
(سوم) پاکستان کی عدالت عظمیٰ کا ایک سابق چیف جسٹس یا جج جس کو پاکستان کا چیف جسٹس (چار) رکن ججوں کی مشاورت سے دو سال کی مدت کےلیے نامزد کرئے گا؛
(چہارم) قانون و انصاف کے وفاقی وزیر؛ رُکن
(پنجم) پاکستان کے اٹارنی جنرل؛اور رُکن
(ششم) پاکستان کی عدالت عظمیٰ کا ایک مقدم وکیل جسے پاکستان بار کونسل کی جانب سے دو سال کی مدت کے لئے نامزد کیا جائے گا۔ رُکن
3۔ شق (1) یا شق (2) میں شامل کسی امر کے باوصف ، صدر عدالت عظمیٰ کے مقدم ترین جج کا تقرر پاکستان کے چیف جسٹس کے طور پر کرئے گا۔
4۔ کمیشن اپنے طریقہ کار کو منضبط کرنے کے لئے قواعد وضع کرئے گا۔
5۔ عدالت عالیہ کے ججوں کے تقرر کے لئے ، کمیشن شق (2) میں حسب ذیل کو بھی شامل کرئے گا، یعنی:-
(اول) عدالت عالیہ کا چیف جسٹس جس کا تقرر کیا گیا ہے؛ رُکن
(دوم) اس عدالت عالیہ کا مقدم ترین جج؛ رُکن
(سوم) صوبائی وزیر قانون؛ اور رُکن
(چہارم) ایک وکیل جو عدالت عالیہ میں پندرہ سال سے کم پریکٹس نہ رکھتا ہو جسے متعلقہ بار کونسل دوسالہ مدت کے لئے نامزد کرئے: رُکن
مگر شرط یہ ہے کہ عدالت عالیہ کے چیف جسٹس کے تقرر کے لئے پیرا گراف (دوم) میں مذکور مقدم ترین جج کمیشن کا رکن نہ ہوگا:
مگر مزید شرط یہ ہے کہ اگر کسی وجوہ کی بناء پر عدالت عالیہ کا چیف جسٹس دستیاب نہ ہو ، تو اسے سابقہ چیف جسٹس یا اس عدالت کے سابقہ جج سے تبدیل کردیا جائے گا، جس کی نامزد گی چیف جسٹس پاکستان کمیشن کے چار رکن جج صاحبان کی مشاورت سے کرئے گا جو شق (2) کے پیرا گراف (دوم) میں مذکور ہے۔
6۔ عدالت عالیہ اسلام آباد کے ججوں کے تقرر کے لئے ، کمیشن شق (2) میں حسب ذیل کو بھی شامل کرئے گا، یعنی:-
(اول) عدالت عالیہ اسلام آباد کا چیف جسٹس ؛ اور رُکن
(دوم) اُس عدالت عالیہ کا مقدم ترین جج: رُکن
مگرشرط یہ ہے کہ عدالت عالیہ اسلام آباد کے چیف جسٹس اور ججوں کے ابتدائی تقرر کے لئے ، چاروں صوبائی عدالت ہائے عالیہ کے چیف جسٹس بھی کمیشن کے اراکین ہوں گے:
مزید شرط یہ ہے یہ مذکورہ بالا فقرہ شرطیہ کے مطابق ، عدالت عالیہ اسلام آباد کے چیف جسٹس کے تقرر کی صورت میں ، شق (5) کی شرائط کا اطلاق مناسب تبدیلیوں کے ساتھ کیا جائے گا۔
7۔ وفاقی شرعی عدالت کے ججوں کے تقرر کے لئے ،کمیشن شق (2) میں وفاقی شرعی عدالت کے چیف جسٹس اور اس عدالت کے مقدم ترین جج کو بطور اس کے اراکین کے بھی شامل کرئے گا:
مگر شرط یہ ہے کہ وفاقی شرعی عدالت کے چیف جسٹس کے تقرر کے لئے ، شق (5) کی شرائط کا اطلاق مناسب تبدیلیوں کے ساتھ کیا جائے گا۔
8۔ کمیشن اپنے کل اراکین کی اکثریت سے پارلیمانی کمیٹی کے لئے ایک شخص کو ، عدالت عظمیٰ ، عدالت عالیہ یا وفاقی شرعی عدالت ، کی ہر ایک آسامی کےلئے نامزد کرئے گا، جیسی بھی صورت ہو۔
9۔ پارلیمانی کمیٹی ، جس کا حوالہ بعد ازیں اس آرٹیکل میں بطور کمیٹی کے دیا گیا ہے ، حسب ذیل آٹھ اراکین پر مشتمل ہوگی، یعنی:-
(اول) سینٹ سے چار اراکین ؛ اور
(دوم) قومی اسمبلی سے چار اراکین:
مگر شرط یہ ہے کہ جب قومی اسمبلی تحلیل ہوجائے ، تو پارلیمانی کمیٹی کی تمام رکنیت پیراگراف (اول) میں مذکورہ صرف سینٹ کے اراکین پر مشتمل ہوگی اور اس آرٹیکل کے احکامات کا بہ تغیرات مناسب اطلاق ہوگا۔
10۔ کمیٹی کے آٹھ اراکین میں سے ، چار حکومتی نشستوں ، ہر ایوان سے دو اور چار حزب اختلاف ، ہر ایوان سے دو ہوں گے ، حکومتی نشستوں سے اراکین کی نامزدگی قائد ایوان اور حزب اختلاف سے قائد حزب اختلاف کرئے گا۔
11۔ سینٹ کا سیکرٹری کمیٹی کے سیکرٹری کے طور پر کام کرئے گا۔
12۔ کمیٹی کمیشن کی جانب سے نامزدگی موصول ہونے پر نامزدگی کی توثیق اپنی رکنیت کی مجموعی اکثریت سے چودہ دن کے اندر کرئے گی، جس میں ناکام رہنے پر نامزدگی توثیق شدہ متصورہوگی:
مگر شرط یہ ہے کہ کمیٹی ، وجوہات کو قلمبند کرتے ہوئے ، مذکورہ مدت کے دوران اپنی مجموعی رکنیت کی تین چوتھائی اکثریت سے نامزدگی کی منظوری نہیں کرسکےگی:
مزید شرط یہ ہے کہ کمیٹی اگر نامزدگی کی منظوری نہیں دیتی تو وہ اپنے فیصلے کو اس طرح وجوہات قلمبند کرتے ہوئے بذریعہ وزیراعظم کمیشن کو ارسال کرئے گی:
مزید شرط یہ ہے کہ اگر نامزدگی کی منظوری نہ ہوتو کمیشن ایک اور نامزدگی بھیجے گا۔
13۔ کمیٹی اس کی جانب سے توثیق شدہ نامزد یا جو توثیق شدہ متصور ہوگا نام وزیر اعظم کو بھیجے گی ، جو اس کو تقرر کےلئے صدر کو ارسال کرئے گا۔
14۔ کمیشن یا کمیٹی کی جانب سے اٹھایا گیا کوئی قدم یا کیا گیا کوئی فیصلہ باطل نہیں ہوگا یا اُس پر اعتراض نہیں کیا جائے گا صرف اس بناء پر کہ اس میں کوئی اسامی خالی ہے یا اس کے کسی بھی اجلاس سے کوئی بھی رُکن غیر حاضر ہے۔
15- کمیٹی کے اجلاسوں کا انعقاد بند کمرے میں ہوگا اور اس کی کاروائیوں کا ریکارڈ برقرار رکھا جائے گا۔
16۔ آرٹیکل 68 کے احکامات کا اطلاق کمیٹی کی کاروائیوں پر نہیں ہوگا۔
17۔ کمیٹی اپنے طریقہ کار کو منضبط کرنے کے لئے قواعد وضع کرسکے گی۔

Comments

No comments yet. Be the first to share your thoughts.