عدالتوں کا قیام اور اختیار سماعت

حصہ ہفتم(نظام عدالت، باب1۔ عدالتیں)
1۔ پاکستان کی ایک عدالتِ عظمیٰ ، اور ہر صوبے کے لئے ایک عدالت عالیہ اور دارالحکومت اسلام آباد کے لیے ایک عدالت عالیہ اور ایسی دوسری عدالتیں ہونگی جو قانون کے ذریعے قائم کی جائیں گی۔
تشریح:- بجز اس کے کہ سیاق و سباق سے کچھ اور ظاہر ہو، الفاظ " عدالتِ عالیہ" دستور میں جہاں بھی آرہے ہوں میں"عدالتِ عالیہ اسلام آباد " شامل کردیئے جائیں گے۔
2۔ کسی عدالت کو کوئی اختیار سماعت حاصل نہیں ہوگا، ماسوائے اس کے جو دستور کی رو سے ، یا کسی قانون کی رو سے ، یا اس کے تحت ، اسے تفویض کیا گیا ہے یا کیا جائے۔
3۔ عدلیہ کو یومِ آغاز سے چودہ سال کے اندر انتظامیہ سے بتدریج علیحدہ کیا جائے گا:
مگر شرط یہ ہے کہ اس آرٹیکل کے احکامات کا جدول اول کے حصہ اول کے ذیلی حصہ سوم کے نمبر شمار 6 اور 7 میں متذکرہ ایکٹس میں سے کسی کے تحت اشخاص کی سماعت مقدمہ پر کوئی اطلاق نہیں ہوگا، جو کسی دہشت گرد جماعت یا تنظیم سے جو مذہب یا فرقے کے نام کا غلط استعمال کررہی ہو، سے وابستہ ہونے کا دعویٰ کرتا ہویا اُس سے شناخت ہوتا ہو۔
وضاحت:۔ اس فقرہ شرطیہ میں، عبارت 'فرقہ' سے مذہب کا فرقہ مراد ہے اور اس میں کوئی مذہبی یا سیاسی جماعت جو سیاسی جماعتوں کے فرمان 2002ء کے تحت منظم ہیں شامل نہیں ہوگی۔
Comments
No comments yet. Be the first to share your thoughts.